’بچہ گود لینے پر نظرِ ثانی کریں‘

بچوں کے لیے کام کرنے والے برطانوی خیراتی ادارے ’سیو دا چلڈرن‘ نے پاپ گلوکارہ میڈونا سے اپیل کی ہے کہ وہ ایک اور ملاوین بچے کو گود لینے کے منصوبے پر نظرِ ثانی کریں۔
ملاوین حکام کے مطابق میڈونا ہفتۂ رواں کے اختتام پر چودہ ماہ کے یتیم بچے مرسی جیمز کو گود لینے کے لیے ملاوی پہنچنے والی ہیں۔ اس سے قبل سنہ 2006 میں میڈونا نے ملاوی سے تعلق رکھنے والے ڈیوڈ بنڈا کو گود لیا تھا اور قانونی طور پر یہ بچہ گزشتہ برس انہیں دیا گیا تھا۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق مرسی جیمز کے والدین اس دنیا میں نہیں اور انہیں گود لینے کے حوالے سے انتظامات مکمل کیے جا چکے ہیں جبکہ میڈونا پیر کو ملاوی کی ہائیکورٹ میں اس سلسلے میں پیش ہوں گی۔خود میڈونا کے ترجمان یا ملاوی میں ان کے وکیل کی جانب سے اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔
’سیو دا چلڈرن‘ کا کہنا ہے کہ یتیم بچوں کے لیے سب سے بہتر یہ ہوتا ہے کہ ان کی نگہداشت ان کے رشتہ دار یا ان کی کمیونٹی کرے اور انہیں بیرونِ ملک لے جایا جانا 'مسئلے کا حل نہیں ہے‘۔
تنظیم کے ترجمان ڈومینک نٹ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’غریب ممالک میں زیادہ تر یتیموں کے والدین اگر وفات پا بھی جائیں تو ان کے اہلِ خانہ ان کے پاس موجود ہوتے ہیں‘۔
انہوں نے کہا کہ ’یہ انتہائی ضروری ہے کہ ایسے بچوں کو بیرونِ ملک لے جائے جانے کی بجائے ان کی پرورش ان کے آبائی ماحول میں ان کا اپنا خاندان یا اپنی کمیونٹی کرے‘۔ ڈومینک نٹ کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر ان یتیموں کے رشتہ دار موجود نہ بھی ہوں تب بھی ان کے آبائی علاقے میں ان کی پرورش کرنا زیادہ آسان ہے اور اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسی کمیونٹیز، مقامی اداروں اور خیراتی اداروں کی مدد کی جائے جو ان بچوں کی نگہداشت کر سکیں۔
خیال رہے کہ لے پالک ڈیوڈ کے علاوہ میڈونا کے اپنے دو بچے روکو اور لارڈس بھی ہیں۔


















