بالی وڈ کے پروڈیوسر ہڑتال پر

ملٹی پلیکس کے ساتھ منافع کا یہ تنازعہ نیا نہیں
،تصویر کا کیپشنملٹی پلیکس کے ساتھ منافع کا یہ تنازعہ نیا نہیں
    • مصنف, ریحانہ بستی والا
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ممبئی
  • وقت اشاعت

فلم کے منافع میں شراکت کے معاملے پر سنیما مالکان سے اختلافات کے بعد بالی وڈ کے پروڈیوسرز نے چار اپریل سے تھیٹرز میں کوئی بھی نئی فلم ریلیز نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ملٹی پلیکس تھیٹر ایسوسی ایشن اور پروڈیوسرز کے درمیان گزشتہ ایک ماہ سے منافع میں حصہ داری کے معاملے پر مذاکرات جاری تھے لیکن ان میں مفاہمت نہیں ہو سکی۔ پروڈیوسرز کا مطالبہ ہے کہ انہیں فلم کی ٹکٹوں کی فورخت سے حاصل کردہ منافع کا پچاس فیصد چاہیے جبکہ ملٹی پلیکس مالکان اس کے لیے تیار نہیں ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ جب فلم فلاپ ہوتی ہے تو پھر پروڈیوسرز کو نقصان اٹھانے کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے۔

تاہم فلمساز مکیش بھٹ اسے ماننے کے لیے تیار نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ایک پروڈیوسر فلم بنانے کے دوران ہر طرح کا خطرہ مول لیتا ہے۔ فلم کے مکمل ہونے سے اس کی تشہیر اور فلم کی باکس آفس پر کامیابی یا ناکامی ہر طرح کے دور سے اکیلا پروڈیوسر گزرتا ہے جبکہ ملٹی پلیکس مالکان محض فلم کی نمائش کے ذریعہ فلم کا سارا منافع کمانا چاہتے ہیں جو سراسر غلط ہے‘۔

بھٹ کے مطابق ملٹی پلیکس مالکان سراسر دھاندلی کر رہے ہیں۔’آج وہ یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ کس فلم کو کتنے روز تک ملٹی پلیکس میں چلایا جائے۔ وہ اپنی مرضی سے فلم کو بغیر اطلاع دیے نکال بھی دیتے ہیں اور فلم کے نہ چلنے کا بہانہ کر دیا جاتا ہے‘۔

بھٹ کے اس الزام کو بگ سنیما کے مالک تشار ڈھینگرا نے مسترد کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اب یہ دور دوسرا ہے۔ پہلے تھیٹرز میں مہینوں فلم چلتی تھی اس لیے ان کا منافع بھی ہوتا تھا لیکن آج کل ایک یا دو ہفتہ کے بعد ملٹی پلیکس میں لوگ نئی فلم دیکھنا پسند کرتے ہیں اس لیے ان کا منافع بھی کم ہی ہوتا ہے‘۔

بھٹ نے مغربی ممالک کے سنیما گھروں کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں پروڈیوسرز اور تھیٹرز مالکان پچاس پچاس فیصد منافع لیتے ہیں جبکہ اس کے جواب میں ڈھینگرا کا کہنا تھا کہ یہاں ملٹی پلیکس کا یہ نیا کلچر ہے اس لیے اس کا موازنہ برطانیہ یا امریکہ سے نہیں کیا جا سکتا۔

ملٹی پلیکس کے ساتھ منافع کا یہ تنازعہ نیا نہیں۔ سن دو ہزار چھ میں جب یش راج فلمز نے عامر خان اور کاجول کی فلم ’فنا‘ نمائش کے لیے پیش کی تھی تو اس وقت انہوں نے ملٹی پلیکس مالکان سے ساٹھ فیصد منافع طلب کیا تھا اور کافی بحث کے بعد چند مالکان نے اسے قبول کر لیا تھا اور تبھی سے اکثر فلموں کے پروڈیوسرز یہ مطالبہ کرتے آئے تھے۔

ہندستان میں دو سو چالیس ملٹی پلیکس تھیٹرز ہیں جس میں 849 سکرین ہیں۔ اس کے علاوہ ملک میں تیرہ ہزار سنگل سکرین تھیٹرز بھی ہیں جن میں سے گیارہ ہزار اب بھی چلتے ہیں۔ پروڈیوسرز چاہیں تو سنگل سکرین میں فلمیں نمائش کے لیے پیش کر سکتے ہیں لیکن ان کی مجبوری یہ ہے کہ انہیں زیادہ منافع ملٹی پلیکس تھیٹرز سے ہی ملتا ہے اور یہ بات ملٹی پلیکس مالکان اچھی طرح جانتے ہیں اس لیے وہ بھی کسی طرح کا سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں۔

یہ ہڑتال کب تک جاری رہے گی اس کا فیصلہ پروڈیوسرز اور ملٹی پلیکس مالکان پر ہی منحصر ہے لیکن یہ ضرور ہے کہ اس وقت تک بالی وڈ فلموں کے شائقین کو نئی فلموں سے محروم رہنا پڑے گا۔