پولانسکی کی درخواست مسترد

ایک امریکی عدالت نے مشہور فلمساز رومن پولانسکی کی یہ درخواست مسترد کر دی ہے کہ ان کے خلاف سنہ 1978 میں درج ہونے والا ریپ کیس خارج کر دیا جائے۔
رومن پولانسکی پر سنہ 1978 میں ایک تیرہ سالہ لڑکی سے غیر قانونی جنسی تعلق قائم کرنےکا الزام عائد کیا گیا تھا لیکن وہ سزا سنائے جانے سے قبل ہی امریکہ چھوڑ کر فرانس چلے گئے تھے۔
لاس اینجلس کی عدالت کے جج پیٹر سپینوزا کا کہنا تھا کہ اگرچہ اصل مقدمے میں جج کی بددیانتی سامنے آئی ہے لیکن اگر پولانسکی اس مقدمے کا اخراج چاہتے ہیں تو انہیں واپس امریکہ آنا پڑے گا۔ تاہم رومن پولانسکی کے وکلاء کے مطابق وہ امریکہ واپس نہیں آئیں گے کیونکہ اس صورت میں انہیں بھگوڑا ہونے کی وجہ سے فوراً گرفتار کیا جا سکتا ہے۔
رومن پولانسکی کی جانب سے مقدمہ خارج کرنے کی درخواست ’رومن پولانسکی: وانٹڈ اینڈ ڈیزائرڈ‘ نامی دستاویزی فلم کے سامنے آنے کے بعد دائر کی گئی تھی کیونکہ اس فلم میں ان کے مقدمے کے حوالے سے کچھ نئے شواہد دکھائے گئے تھے۔ فلم میں بتایا گیا ہے کہ اصل مقدمے کی سنوائی کرنے والے جج نے پولانسکی کی جانب سے معاملات طے کرنے کی درخواست مان لی تھی لیکن بعد ازاں استغاثہ کی دخل اندازی کے بعد وہ اس سے مکر گئے۔
اصل مقدمے میں شامل لڑکی سمانتھا گیمر جو اب پینتالیس سالہ خاتون ہیں ماضی میں یہ کہہ چکی ہیں کہ رومن پولانسکی کو عدالت میں حاضر ہونے کو کہنا ایک ’ظالمانہ مداق‘ ہوگا۔عدالت میں ان کی نمائندگی کرنے والے وکیل نے بھی کہا ہے کہ ’ اب اس مقدمے کو ختم ہو جانا چاہیے‘۔


















