دیوتا سے ملاقات !

حبیب تنویر
،تصویر کا کیپشنحبیب تنویر تھیثر کی دنیا میں اپنے نت نئے تجربوں کے لیے یاد رکھے جائیں گے
    • مصنف, وسعت اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

آپ ایک لیجنڈ سے ملنے سے پہلے بڑی تیاری کرتے ہیں کہ میں اس سے یہ بات کروں گا۔ وہ بات کروں گا۔ یہ پوچھوں گا اور پھر وہ پوچھوں گا۔ اگر اس نے یہ کہا تو پھر میں یہ کہوں گا۔ لیکن جب آپ لیجنڈ کے روبرو بیٹھ جاتے ہیں تو سب دھرے کا دھرا رھ جاتا ہے۔ دماغ دل کو طلاق دے دیتا ہے۔ آنکھیں ایک دوسرے سے منہ پھیر لیتی ہیں۔ ہاتھوں کے اوسان خطا ہوجاتے ہیں۔

اور یہ ادھیڑ بن شروع ہوجاتی ہے کہ اگر میں گھٹنے جوڑ کر بیٹھ گیا تو کہیں بدتمیزی تو شمار نہیں ہوگی۔ اگر سر کھجانا شروع کردیا تو کہیں وہ برا نہ مان جائے۔

جب میں بھوپال کے ایک فلیٹ میں حبیب تنویر سے ملنے گیا تو کچھ یہی حال تھا۔ وہ حبیب تنویر جن کے بارے میں سنا تھا کہ ہندوستانی تھیٹر بالخصوص چھتیس گڑھی پرفارمنگ آرٹ کا دیوتا ہے۔ کتابوں کے ریک پر لکڑی کے فریم میں بلیک اینڈ وائٹ ہالی وڈ دور کے پورٹریٹ سٹائیل میں ایک ہاتھ ٹھوڑی تلے رکھے مسکرا رہا تھا۔ اور میرے سامنے مونڈھے پر کھچڑی جیسے سنورے بالوں والا کرتے پاجامے میں لپٹا حبیب تنویر دی لیجنڈ کا ڈھانچہ ایستادہ تھا۔ جس میں سے ایک کمزور سی گھن گرج والی آواز برآمد ہورہی تھی۔ اور اسں ڈھانچے کے پیچھے سے ان کی شریکِ حیات مونیکا مشرا لکڑی کے فریم میں بند مسکرا رہی تھیں۔

مونیکا کے بعد اس بڑے سےفلیٹ میں صرف تین نفوس تھے۔حبیب تنویر۔ انکا خیال رکھنے والا ایک شاگرد اور ایک خانسامائی ڈرائیور۔'' میاں تم سے بہت دیر تک تو بات نہیں کرپاؤں گا۔ طبیعت کچھ بوجھل سی ہے۔ لیکن تم سناؤ کیا کرتے ہو۔ کہاں کے ہو۔ تمہارے ملک میں یہ سب کیا ہورھا ہے۔ اچھا اچھا اسلام آباد ۔۔۔۔ پشاور جانا ہوتا ہے کیا۔خبر نہیں میرے پرکھے پشاور جیسے شہر کا پانی کیسے چھوڑنے پر آمادہ ہوگئے تھے۔سکنجبین پیو گے۔۔۔۔یہ میرا شاگرد ہے۔ بہت محنت کررھا ہےاور سکنجبین بھی اچھی بناتا ہے۔

اب تو میں کافی عرصے سے کچھ بھی نہیں کرپارہا۔ بیماری اور عمر اپنا ناٹک کھیل رہے ہیں۔ انکے سامنے ہم جیسوں کی کہاں چلتی ہے۔۔۔۔ہاں سنا ہے تمھارے ہاں بھی اچھےگروپ ابھر رہے ہیں۔کوئی بتا رہا تھا کہ وہ لڑکی۔۔۔ ارے کیا نام ہے اس کا۔۔۔ ہاں مدیحہ گوہر۔اچھا کام کررہی ہے۔ اور بھی نام سننے میں آتے رہتے ہیں مگر تمہارے ہاں مولوی کا ناٹک سب سے اچھا چل رہا ہے۔ ہا ہا ہا۔۔۔ لو سکنجبین پئیو۔ بڑی خوشی ہوئی تم سے مل کے۔کب تک ہو۔۔۔۔ اوہو۔۔۔ پھر تو شاید ملاقات نہ ہوسکے۔۔ بہرحال اپنا ایڈریس دے جاؤ۔۔۔۔۔۔

میں آج تک اس لمحے کو کوس رہا ہوں جب حبیب تنویر کا دروازہ کھٹکٹاتے ہوئے یاد آیا۔۔۔۔شٹ۔۔۔۔۔۔۔میں اپنا کیمرہ ہوٹل میں ہی چھوڑ آیا۔۔۔۔۔۔۔