’جیکسن کا کوئی ہمسر تھا نہ ہوگا‘

مائیکل جیکسن کی موت پر دکھ کے ساتھ ساتھ سخت حیرانگی بھی ہوئی: جواد احمد
،تصویر کا کیپشنمائیکل جیکسن کی موت پر دکھ کے ساتھ ساتھ سخت حیرانگی بھی ہوئی: جواد احمد
    • مصنف, احمد رضا
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
  • وقت اشاعت

پاکستانی گلوکاروں نے امریکی پاپ گلوکار مائیکل جیکسن کے انتقال پر گہرے دکھ اور حیرت کا اظہار کرتے کہا ہے کہ ان کی موت سے پاپ انڈسٹری ایک ایسے عظیم فنکار سے محروم ہوگئی ہے جس کا نہ کبھی کوئی ہمسر تھا نہ ہوگا۔

گلوکار جواد احمد نے بی بی سی سے بات کرتے کہا کہ ویسے تو موت برحق ہے لیکن یہ بہت بڑا سانحہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے گزشتہ صدی میں جو سب سے بڑے اور مقبول ترین گلوکار دیکھے ہیں خاص کر مغربی دنیا میں وہ ایلوس پریسلے اور مائیکل جیکسن تھے اور مائیکل جیکسن شاید ایلوس پریسلے سے بھی بڑھ گئے تھے کچھ چیزوں میں۔ جس طرح ان کے گیارہ گریمی، ان کے نمبر ون گانے اور ان کی جو البم اسٹینڈنگ رہی۔ کروڑوں کی تعداد میں ان کے البم بکے ہیں‘۔

جواد احمد نے کہا کہ مائیکل جیکسن انہیں ذاتی طور پر بہت پسند تھے کیونکہ وہ بہت سر میں گاتے تھے۔’بہت سریلے گلوکار تھے اور ان کے گانوں میں سے جسٹ بیٹ اٹ، تھرلر، بلی جینز اور بلیک اور وائیٹ اور دے ڈونٹ ریئلی کیئر اباؤٹ اس وغیرہ مجھے ذاتی طور پر بہت پسند تھے‘۔

جواد احمد کا کہنا ہے کہ انہیں مائیکل جیکسن کی موت پر دکھ کے ساتھ ساتھ سخت حیرانگی بھی ہوئی ہے۔’ امریکہ جیسے ملک میں ایک پچاس سال کا آدمی ہارٹ اٹیک سے فوت ہوجائے جس کے ریگولر چیک اپس بھی ہوتے ہوں گے اور وہ اتنا بڑا سٹار تھا۔ کروڑوں، اربوں کی اس کی جائیداد تھی تو یہ میرے لیے یہ تھوڑی سے اچھنبے کی بات بھی ہے۔ مجھے لگ رہا ہے کہ کچھ عرصے کے بعد یہ واضح ہوگا کہ یہ ہوا کیا ہے اصل میں کیونکہ مجھے یہ کوئی اتنی عام سے بات نہیں لگ رہی کہ ایک اتنا بڑا اسٹار جسے ہر قسم کی سہولت میسر ہو وہ اس طرح فوت ہو جائے‘۔

معروف گلوکار محمد علی شہکی کا کہنا تھا کہ مائیکل جیکسن کی دنیائے موسیقی کے لئے ایک بہت بڑا نقصان ہے۔ ’وہ ایک بہت عظیم پاپ آرٹسٹ تھے اور وہ آرٹ کی ایک بہت ہی انوکھی شکل کا مظاہرہ کرتے تھے اور سب سے بڑی بات یہ کہ انہوں نے شو بز کی دنیا میں ایک ایسا مقام حاصل تھا جو تاریخ میں آج تک کوئی اور آرٹسٹ حاصل نہیں کرسکا اور مجھے نہیں لگتا کہ آگے بھی کوئی ایسا آرٹسٹ آئے گا۔‘

شہکی کے بقول مائیکل جیکسن کی غیر معمولی شہرت کے پیچھے ایک اہم بات یہ تھی کہ انہیں بہت سی چیزوں میں ملکہ حاصل تھا۔ ’وہ بہت اچھے سنگر تھے اور ساتھ ہی بہت ہی کمال ڈانسر تھے۔ جس طرح وہ گاتا تھا اس طرح تو میرے خیال میں بہت کم آرٹسٹوں نے گایا ہوگا، میں جب اپنے آپ کو دیکھتا ہوں تو مجھے یہ صرف ایک خواب معلوم ہوتا ہے کہ میں کبھی ان کی طرح گا سکوں‘۔

ہر آرٹسٹ میں مائیکل جیکسن کہیں نہ کہیں اپنا کردار ادا کرتے نظر آتے ہیں:عاطف اسلم
،تصویر کا کیپشنہر آرٹسٹ میں مائیکل جیکسن کہیں نہ کہیں اپنا کردار ادا کرتے نظر آتے ہیں:عاطف اسلم

جواد احمد کی طرح شہکی کا بھی یہی کہنا تھا کہ انہیں مائیکل جیکسن کی موت پر حیرت ہوئی ہے۔ ’پچاس سال کوئی مرنے کی عمر نہیں ہے۔ مجھے نہیں پتہ کہ کیا ہوا اور ہم سے کیا چھپایا جارہا ہے لیکن کوئی بھی وجہ ہو بہرحال موت برحق ہے‘۔

گلوکار عاطف اسلم نے کہا کہ مائیکل جیکسن ان کے آئیڈیل تھے۔ ’میں ہمیشہ سے ہی ان کو آئیڈیالائز کرتا تھا اور ان سے سیکھتا تھا۔ میں نے ان کے لیے انہی کا ایک گانا بلی جینز بھی گایا تاکہ انہیں خراج تحسین پیش کرسکوں‘۔عاطف کا کہنا تھا کہ مائیکل جیکسن نے دنیا بھر میں خاص کر مغرب میں موسیقی پر گہرا اثر چھوڑا ہے۔ ’آپ مغرب میں دیکھ لیں جتنے بھی آرٹسٹ ہیں، ہر آرٹسٹ میں مائیکل جیکسن کہیں نہ کہیں اپنا کردار ادا کرتے نظر آتے ہیں اور جتنے بھی ویسٹ میں آرٹسٹ ہیں آپ جسٹن ٹمبر لیک کو لے لیں آپ لینن کو لے لیں ان سب لوگوں کا میوزک جو ہے وہ مائیکل جیکسن سے ہی متاثر ہے۔ ہم سب بھی انہی کا ہی میوزک سن کر بڑے ہوئے ہیں‘۔

پاپ بینڈ جل کے رکن فرحان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’مائیکل جیکسن کی اچانک موت نہایت افسوسناک ہے کیونکہ پاکستان میں ہی نہیں پوری دنیا میں پاپ انقلاب لانے والا ایک شخص جو کنگ آف پاپ کے نام سے جانا جاتا تھا اس عمر میں اور اس وقت انتقال کر جائے جبکہ ہر شخص ان کی سٹیج پر واپسی کا منتظر تھا، ایک بڑا دھچکا ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’مائیکل جیکسن جیسے سٹار کی موت جن کی اتنی بڑی کنٹربیوشن ہو پاپ میوزک کے لیے، بہت ہی بری ہے۔ جو پاپ میوزک مائیکل جیکسن نے متعارف کرایا اس کا آج تک مقابلہ نہیں۔مجھے یقین ہے کہ ان کے گانے رہتی دنیا تک لوگ سنیں گے اور وہ ہمیشہ اپنے پرستاروں میں یاد رکھے جائیں گے‘۔

وہ ہمیشہ اپنے پرستاروں میں یاد رکھے جائیں گے:فرحان
،تصویر کا کیپشنوہ ہمیشہ اپنے پرستاروں میں یاد رکھے جائیں گے:فرحان

گلوکار فاخر نے کہا کہ اگر آپ پوری دنیا کے آرٹسٹوں کو ہی نہیں بلکہ تمام قد آور شخصیات کو اکٹھا کریں تو ان میں مائیکل جیکسن نمایاں ہوں گے۔’نہ صرف وہ بہت تخلیقی، ہمہ جہت اور منفرد سنگر، کمپوزر اور میوزک پروڈیوسر تھے بلکہ انہوں نے کنسرٹ کے تصور کو یکسر تبدیل کردیا اور اس کو انہوں نے پورا ایک قابل دید شو بناڈالا۔ اپنے شوز میں وہ ایک جادوگر کی طرح تھے جو اپنے حاضرین کو مسحور کر دیتا تھا‘۔

انہوں نے کہا کہ بالی ووڈ سے لےکر پورے جنوبی ایشیاء اور ایشیاء کے میوزک پر مائیکل جیکسن نے گہرا اثر ڈالا۔’یہاں لوگوں نے ان کے میوزک کو کاپی بھی کیا۔ اس سے انسپریشن بھی لی اور اسے فالو بھی کیا ہے۔ اگر چہ میں ان کے اس میوزک کا زیادہ بڑا فین ہوں جو کنونیشنل میوزک ہوتا تھا اور اس میں ڈانس نہیں ہوتا تھا۔جھلک ضرور نظر آجائے کسی آرٹسٹ میں لیکن ان آرٹسٹوں کے لئے بہت مشکل ہوگا اتنا بڑا آرٹسٹ دوبارہ پیدا کرنا‘۔