’بچوں کے بارے میں فیصلہ ابھی نہیں کیا‘

عدالت میں پیش کی جانے والی دستاویز کے مطابق وقتِ تحریر مائیکل جیکسن کے اثاثوں کی مالیت پانچ سو ملین ڈالر سے زیادہ تھی۔
،تصویر کا کیپشنعدالت میں پیش کی جانے والی دستاویز کے مطابق وقتِ تحریر مائیکل جیکسن کے اثاثوں کی مالیت پانچ سو ملین ڈالر سے زیادہ تھی۔
وقت اشاعت

مائیکل جیکسن کی سابق اہلیہ ڈیبی رو نے کہا ہے کہ اپنے دو بچوں کی تحویل کے لیے ممکنہ قانونی چارہ جوئی کے بارے میں انہوں نے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا۔

مائیکل جیکسن کے تین بچے ہیں جو عارضی طور پر ان کی والدہ کی تحویل میں ہیں اور جن کے بارے میں مائیکل جیکسن نے اپنی وصیت میں بھی یہی لکھا تھا کہ ان کی والدہ ہی بچوں کی سرپرستی کریں۔ ان تین میں سے دو بچے مائیکل اور ڈیبی رو کے ہیں جبکہ تیسرے بچے کی والدہ کی شناخت کسی کو معلوم نہیں۔

ڈیبی اور مائیکل جیکسن کے دو بچوں میں پرنس مائیکل کی عمر بارہ برس اور پیرس مائیکل کیتھرین کی عمر گیارہ برس ہے۔ تیسرے بچے کا نام پرنس مائیکل دوئم ہے اور وہ سات برس کا ہے۔

میڈیا میں یہ خبریں گردش میں رہی تھیں کہ ڈیبی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ وہ ڈی این اے ٹیسٹ کرانے کے لیے تیار ہیں جس سے یہ ثابت ہوگا کہ وہ حقیقت میں مذکورہ دو بچوں کی ماں ہیں اور وہ بچوں کو اپنی تحویل میں رکھنا چاہتی ہیں۔ تاہم ان خبروں کے بعد ان کے وکلاء نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ڈیبی نے ابھی اس بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا۔

اسی دوران مائیکل جیکسن کی ہلاکت سے بظاہر دو دن پہلے کی وڈیو جاری ہوئی ہے جس میں لندن کی کنسرٹ کے لیے ریہرسل کرتے نظر آتے ہیں۔

اپنی وصیت میں جیکسن نے اپنے دو بچوں کی ماہ کے لیے کچھ نہیں چھوڑا۔ ان کی وصیت میں جو گزشتہ روز عدالت میں پیش کی گئی، لکھا ہے کہ انہوں نے ارادتاً اپنی سابقہ اہلیہ کو کچھ نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

ڈیبی رو نے مائیکل جیکسن کے ساتھ تین سال کی شادی کے بعد طلاق کے معاملات طے کرتے وقت اپنے حقوق سے دستبرداری اختیار کی تھی لیکن ایک اپیل عدالت نے بعد میں اس فیصلے کو تبدیل کر دیا تھا۔

سنہ دو ہزار تین میں ڈیبی رو مائیکل جیکسن کی طرف سے جاری کردہ ایک وڈیو میں دکھائی دی تھیں جو ایک متنازع دستاویزی فلم کے ردِ عمل کے طور پر بنائی گئی تھی جس میں مائیکل جیکسن کے بچوں کے ساتھ غیر مناسب رویے کے الزامات تھے۔

اس فلم میں ڈیبی رو نے اپنے خاندان کو غیر روایتی قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ ان کے بچے مائیکل جیکسن کے لیے ایک تحفہ ہیں۔ ’میرے بچے مجھے ماں کہہ کر نہیں پکارتے کیونکہ میں نہیں چاہتی کہ وہ ایسا کریں۔ وہ مائیکل کے بچے ہیں۔‘