مائیکل جیکسن کے ڈاکٹر کے کلینک کی تلاشی

پولیس کی ایک ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ڈاکٹر مرے کے کلنک کی تلاشی لی گئی ہے لیکن ان کا کہنا تھا کہ اسے ’چھاپہ‘ نہیں کہا جا سکتا۔
،تصویر کا کیپشنپولیس کی ایک ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ڈاکٹر مرے کے کلنک کی تلاشی لی گئی ہے لیکن ان کا کہنا تھا کہ اسے ’چھاپہ‘ نہیں کہا جا سکتا۔
وقت اشاعت

امریکہ میں انسدادِ منشیات کی پولیس نے ’قتلِ غیر عمد کے ثبوت کی تلاش میں‘ ہوسٹن میں پاپ سٹار مائیکل جیکسن کے ڈاکٹر کے کلینک پر ’چھاپہ‘ مارا ہے۔

مائیکل جیکسن کے ڈاکٹر کے وکیل نے بتایا کہ پولیس اہلکار ڈاکٹر کونریڈ مرے کے دفتر سے کئی چیزیں اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔

ڈاکٹر مرے کے ترجمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ چھاپہ ’ ہمارے لیے حیران کن ہے اور یہ وکلاء کے لیے بھی حیرانی کا باعث ہے۔‘

مائیکل جیکسن کے ذاتی معالج ڈاکٹر مرے کے بارے میں پولیس کا کہنا ہے کہ وہ جیکسن کی موت کے حوالے سے مشتبہ شخص نہیں ہیں۔ جس وقت مائیکل جیکسن کی موت ہوئی اس وقت ڈاکٹر مرے ان کے پاس موجود تھے اور انہوں نے مائیکل جیکسن کو بچانے کی کوشش کی۔

پولیس کی ایک ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ڈاکٹر مرے کے کلنک کی تلاشی لی گئی ہے لیکن ان کا کہنا تھا کہ اسے ’چھاپہ‘ نہیں کہا جا سکتا۔انہوں نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ تکینیکی طور پر اسے چھاپہ نہیں کہا جا سکتا۔

’اصل میں ہوا یہ ہے کہ لاس انجیلس کی پولیس اس معاملے کی تفتیش کر رہی ہے اور وہ انسدادِ منشیات سے متعلق محکمے میں آئے اور ہمیں مدد کے لیے کہا تاکہ انہیں کلنک کی تلاش کا ورانٹ مل سکے۔‘

Image

ڈاکٹر مرے کے وکیل ایڈورڈ چیرنوف نے تصدیق کی کہ کلنک کی تلاش لی گئی۔ان کا کہنا تھا کہ تلاشی کے وارنٹ کی بنیاد پر پولیس نے کچھ چیزیں بھی اپنے قبضے میں لی ہیں جن میں کچھ کاغذات بھی ہیں جو پولیس سمجھتی ہے کہ اس مقدمے میں قتلِ غیر عمد کی شہادت کے طور پر کام آسکتے ہیں۔

اس سے قبل ڈاکٹر مرے کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان کے مؤکل پولیس کی مدد کر رہے ہیں۔ پولیس نے دو بار ان کا انٹرویو کیا ہے۔ تفتیش کاروں نے میڈیکل ریکارڈ بھی مانگے ہیں۔ پہلے ہی ڈاکٹر مرے پولیس کو مطلوبہ چیزیں فراہم کر چکے ہیں۔

مائیکل جیکسن کی موت کے چند بعد وکیل چیرنوف نے انکار کیا تھا کہ ڈاکٹر مرے نے پاپ سٹار کو درد دور کرنے والے ایسی ادویات دیں ہوں گی جن سے موت واقع ہو سکتی ہو۔

وکیل کے مطابق ان کے مؤکل پریشان ہیں۔ انہیں ہروقت ایک ذاتی محافظ کی ضرورت ہوتی ہے اور ان کے پیشہ ورانہ فرائض متاثر ہو رہے ہیں۔ ’ڈاکٹر مرے جہاں بھی جاتے ہیں، لوگ انہیں ہراس میں مبتلا کر دیتے ہیں۔‘