ٹی وی میزبان پر ہلاکتوں کاالزام

مسٹر ویلس سوزا
،تصویر کا کیپشنمسٹر ویلس سوزا نےکہا ہے کہ ان پر لگائے گئے الزامات انہیں بدنام کرنےکی سازش ہے
وقت اشاعت

برازیل میں پولیس نے ایک ٹی وی شو کے میزبان پر منشیات کی سمگلنگ، اپنے دشمنوں سے نجات پانے کے لیے ہلاکتوں کا حکم دینے اور ان خبروں کی بنیاد پر اپنے پروگرام کی ریٹنگ بڑھانے کا الزام لگایا ہے۔

ویلس سوزا ایک پارلیمانی رکن بھی ہیں لہٰذا ان کے سیاسی عہدے کی وجہ سے انہیں گرفتار نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم ان کے بیٹے کو قتل، مننشیات کی سمگلنگ اور غیر قانونی طر پر اسلحہ رکھنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

مسٹر ویلس سوزا نےکہا ہے کہ ان پر لگائے گئے الزامات انہیں بدنام کرنےکے لیے ان کے دشمنوں کی سازش ہے اور اسے ثابت کرنے کے لیے ان کے پاس کوئی ثبوت نہیں۔ تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایمیزونا کی ریاست میں ہلاکتوں کا حکم دیا اور ٹی وی ٹیم کو ان مناظر کو فلمبند کرنے کے لیے پہلے سے جائے وقوعہ پر پہنچنے کے لیے خبردار کیا۔

اس ٹی وی شو کو ایک سال قبل پولیس نے انکوائری شروع کرنے کی بعد بند کر دیا تھا۔ اگر پولیس کے لگائے گئے الزامات درست ہیں تو پھر یہ ایک ایسا ٹی وی شو ہوگا جو کہ نہ صرف جرائم کو رپورٹ کرتا ہے بلکہ ان جرائم کے پیچھے خود اس کا ہاتھ بھی تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ مسٹر سوزا نے منشیات کی سمگلنگ میں اپنے مخالفین سے چھٹکارا پانے اور اپنے پروگرام کی ریٹنگ بڑھانے کے لیے پانچ افراد کو قتل کرنے کا حکم دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مسٹر سوزا اپنے اس دعوے کو ثابت کرنا چاہتے تھے کہ ریاست ایمیزونا کے جس علاقے کی وہ نمائندگی کرتے ہیں وہ جرائم کا گڑھ ہے۔

ایک مقامی پولیس افسر نے خبررساں ایجنسی اے پی کو بتایا کہ ہلاکتوں کا حکم ہمیشہ شو کے میزبان اور ان کے بیٹے دیتے جبکہ باقی عملے کو اس مقام پر پہنچنے کے لیے خبردار کیا جاتا تھا۔

سٹیٹ سکیورٹی سیکرٹری فرانسسکو کیول کینٹی کا کہنا ہے کہ اب یہ حقیقت کھل کر سامنے آگئی ہے کہ مختلف مواقع پر حقائق کو غلط طور پر پیش کیا گیا اور اس کی بنیاد پر خبر بنائی گئی۔

.