سوِل نافرمانی کی اپیل نہیں کی: نواز

- مصنف, مناء رانا
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
- وقت اشاعت
صوبہ پنجاب میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد سوِل نافرمانی کی اپیل کی ہے۔ بی بی سی اردو سروِس کے ریڈیو پروگرام سیربین میں بات کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا: ’سوِل نافرمانی کو کوئی اعلان میں نے نہیں کیا، نہ کوئی ابھی اس کا فیصلہ ہوا ہے۔‘ نواز شریف نے کہا: ’میں تو یہ صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ جو انتظامیہ ہے، پولیس ہے، ان کو کوئی غیرقانونی حکم نہیں ماننا چاہیئے۔‘ انہوں نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح نے بھی

انتظامیہ اور پولیس کو کہا تھا کہ غیرقانونی اور غیرآئینی احکامات نہ مانیں۔ حکم ماننے سے انکار کر دو: نواز شریف اس سوال کے جواب میں کہ کیا وہ ملکی مفاد کے مقابلے کے میں اپنی جماعت مسلم لیگ نون کو ترجیح دے رہے ہیں، نواز شریف کا کہنا تھا کہ نہیں۔ انہوں نے کہا: ’ملک کی فکر کے جذبے کے تحت یہ سب کچھ ہم کر رہے ہیں۔ اگر ملک کی فکر نہ ہوتی تو یہ سب کچھ کرنے کی کیا ضرورت ہوتی۔‘ نواز شریف کا کہنا
تھا کہ اگر ملکی مفاد کی فکر نہیں ہوتی تو پہلے ہی صدر آصف زرداری کی اس پیشکش کو مان لیتے کہ ہم ججز کے خلاف نہ بولیں تو ہمارے خلاف نااہلی کا مقدمہ ختم ہوجائے گا۔ اس طرح کی اطلاعات کے بارے میں مولانا فضل الرحمان اور اسفندریار ولی خان مفاہمت کی کوششیں کررہے ہیں، نواز شریف کا کہنا تھا کہ ’مجھے اس کا علم نہیں ہے۔‘ اس سوال کے جواب میں کہ اگر مفاہمت کی کوئی کوشش ہوتی ہے تو کیا وہ اسے قبول کریں
گے، نواز شریف کا کہنا تھا کہ مفاہمت بھی کسی اصول یا نظریے کے تحت ہوتی ہے لیکن ماضی میں کئی ایسے وعدے ہوئے جس پر سے لوگ مکر گئے۔ انہوں نے کہا: ’کوئی کیسے اعتبار کرے گا کسی پر۔‘ نواز شریف نے کہا کہ گورنر راج کے نفاذ کے بعد سے مسلم لیگ نون اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان کوئی رابطہ نہیں ہوا ہے لیکن اس سے قبل شہباز شریف اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے درمیان بات چیت ہوئی تھی۔ نواز شریف نے کہا کہ وہ وکلاء کے لانگ مارچ میں بھر پور ساتھ دیں گے۔


















