’بے حرمت‘ کا کانگریس کو چیلنج

لکشمی کا کہنا ہے کہ ان کی بےحرمتی ان کے برہنگی پرختم نہیں ہوئی ہے
،تصویر کا کیپشنلکشمی کا کہنا ہے کہ ان کی بےحرمتی ان کے برہنگی پرختم نہیں ہوئی ہے
    • مصنف, سبیر بھومک
    • عہدہ, بی بی سی نیوز کلکتہ
  • وقت اشاعت

آسام یوناٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (اے یو ڈی ایف) نے اپریل میں ہونے والے انتخابات میں لکشمی ارون کو اپنی پارٹی کا امیدوار مقرر کیا ہے۔

لکشمی ارون 2007 میں ایک ادیواسی قبائلیوں کی ریلی میں شریک ہوئی تھیں جس میں چائے کے باغوں میں کام کرنے والے مزوروں کے لیے بنیادی حقوق کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

ادیواسی قبائلی کی احتجاجی ریلی پرتشدد رخ اختیار کر گئی اور مظاہرین نے نہ صرف جائیدادوں کو تباہ کرنا شروع کر دیا بلکہ پولیس اہلکاروں کو بھی پیٹ ڈالا۔

مقامی لوگوں نے ادیواسی قبائلیوں پر حملہ کر دیا اور بپھرے ہوئے قبائلیوں پر قابو پا لیا۔ اسی عمل کے دوران لکشمی کو برہنہ کر دیا۔لکشمی کو ایک شخص نے اپنی شرٹ اتار کر دی اور اور اس کی جان بچائی۔

اس بےحرمتی کے سولہ ماہ بعدآسام یوناٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ نے لکشمی کو تیزپور حلقے سے الیکشن میں حصہ لینے پارٹی کا امیدوار نامزد کیا ہے۔

آسام یونائٹیڈ ڈیموکریٹ کے سیکرٹری جنرل حافظ رشید چودھری نے کہا ہے لکشمی ایودیسوں کے استحصال کی ایک نشانی ہے۔ ’ہم چاہتے ہیں کہ وہ ہمارے ٹکٹ پر انتخاب میں حصہ لیں اور انہوں نے ہمارے ٹکٹ پر انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا ہے‘۔

آسام یونائٹیڈ ڈیموکریٹ آسام کی مسلم اکثریتی جماعت ہے لیکن اس کا دعویٰ ہے کہ وہ تمام اقلیتوں کی نمائندگی کرتی ہے۔

لکشمی ارون کا کہنا ہے کہ انکی بے حرمتی انہیں برہنہ کرنے اور سرعام پٹائی تک ہی محدود نہیں ہے۔

لکشمی ارون کا خاندان حکمران جماعت پر الزام لگاتا رہا ہے کہ گانگریس کی ریاستی حکومت نے انہیں رشوت کےذریعے خاموش کرانے کی کوشش کی۔ کانگریس نے ہمیشہ اس کی تردید کی ہے۔