عورتیں جو ظلم کے سامنے نہیں جھکیں

- مصنف, نارائین باریٹھ
- عہدہ, بی بی سی، جے پور
- وقت اشاعت
راجستھان کی بھنوری بھارت کی کچھ ایسی عورتوں میں سے ہے جنہوں نے ظلم برداشت کرکے ہمت کے ساتھ جد و جہد کی۔ بھنوری نے اپنے گاؤں میں بچوں کی نوعمر میں شادیوں کی مخالفت کے سبب سب کا دھیان اپنی طرف کروا لیا ہے۔
بھنوری کو اس مخالفت کی بڑی قیمت چکانی پڑی ہے۔ ان کی آپ بیتی پر ’بونڈر‘ نام کی فلم بھی بنی۔ انہی کی طرح کچھ دوسری عورتوں نے بھی مخالفت کے باوجود ہمت کر کے ایسی کوششیں کی ہیں۔ آزادی اور ہوشمندی کے ترانے گاتی یہ عورتیں ہیں، جو کامیابی کی یادگار کہانی لکھنا چاہتی ہیں۔ جے پور ضلع کی بھنوری عورتوں کے لیے تبدیلی کا پیکر بن گئی ہیں۔ کوئی ڈیڑھ دہائی پہلے بھنوری نے جے پور ضلع میں اپنے گاؤں بھتیری میں بچوں کی نوعمر میں شادیوں کی مخالفت کی تو ان کے مطابق انہیں اجتماعی زیادتی کا شکار ہونا پڑا۔ بھنوری ماضی میں جھانک کر بتاتی ہیں کہ ان کی جد و جہد سے علاقے کی حالت بدلی ہے۔ بھنوری کہتی ہیں: ’اب بہت تبدیلی آئی ہے، عورتو ں میں حوصلہ پیدا ہوا ہے۔ بچوں کی نو عمر میں شادیوں کے واقعات کم ہوئے ہیں، جہیز کے رواج میں بھی کمی آئی ہے۔ اب کوئی بھی ہمارے علاقے میں کھلے عام بچوں کی نو عمری میں شادی نہیں کرا سکتا۔ لوگوں کو لگتا ہے کہ بھنوری کہیں شکایت نہ کر دے۔‘ بھنوری کہتی ہیں کہ سرکار سے انہیں کوئی انصاف نہیں ملا لیکن بھگوان نے ان کی مدد کی۔ ’مجھے خوشی ہے کہ جو بیڑہ میں نے اٹھایا تھا اس میں کامیاب رہی ہوں۔‘ جگموہن مندرا نے بھنوری کی آپ بیتی پر ’بونڈر‘ نام کی فلم بنائی تھی مگر معاشرے میں ایسی اور بھی عورتیں ہیں جنہوں نے ایسی حالتوں کا سامنا کیا ہے۔
جےپور ضلع کی ریکھا (نام تبدیل کردیا گیا ہے) اپنے ساتھ ہوئی مبینہ اجتماعی زیادتی کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئیں اور قصورواروں کو سزا دلوا کر ہی مانیں۔
دیہاڑی پر مزدوری کرنے والی ریکھا ایک دلت عورت ہیں۔ ان کے ساتھ دو سال پہلے تب اجتماعی زیادتی ہوئی تھی جب وہ اپنے بیمار شوہر کے لیے دوا لینے جا رہی تھیں لیکن انہوں نے حالات کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے۔ ریکھا نے کہا: ’قصورواروں کو ابھی دس-دس سال کی سزا ہوئی ہے اور مجھے اس پر تسلی ہوئی ہے۔ کم سے کم آگے تو کسی اور عورت کی آبرو پر ہاتھ نہیں ڈالیں گے۔‘ ریکھا نے مزید بتایا: ’وہ سبھی پیسے والے تھے، مجھ پر دباؤ ڈالا گیا کہ سمجھوتہ کر لو۔ لاکھوں روپوں کی پیشکش کی گئی یہاں تک کہ میری برادری کے لوگ اور رشتےدار بھی سمجھوتے کے لیے دباؤ ڈالنے لگے، پر میں جھکی نہیں۔‘ بھرت پور ضلع کے بیر گاؤں کی موہینی بھی دلت ہیں۔ کوئی دس سال پہلے گاؤں کے اثر و رسوخ رکھنے والے لوگوں نے ان کے شوہر لکشمن کو اتنا پیٹا کہ ان کے دونوں پیر کاٹنے پڑے۔ موہینی اب اپنے اپاہج شوہر کی لڑائی لڑ رہی ہیں۔ موہینی نے کہا: ا’نصاف کی منزل ابھی بہت دور ہے، گاؤں چھوڑنا پڑا، جےپور میں پناہ لی ہے۔ دلت کی کون سنتا ہے۔ مقدمہ اب بھی چل رہا ہے، گواہوں کے بیان تک نہیں ہوئے مگر ہم لڑیں گے یہ انصاف کی بات ہے۔‘ دلتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے پی ایل میمروتھ کا ماننا ہے کہ عورت کے لیے زندگی مشکل ہے لیکن عورت اگر دلت ہو تو راہ اور بھی کٹھن ہو جاتی ہے۔ یمروتھ نے کہا: ’دلت عورت جنسی تشدد کا زیادہ شکار ہوتی ہے کیونکہ سماج کا ایک حصہ انہیں بہت نیچی نظر سے دیکھتا ہے۔ ایسے لوگوں کا ماننا ہے کہ دلت عورت کو جنسی حوس کا نشانا بنانا کوئی بری بات نہیں ہے۔‘


















