ممبئی : حقہ پارلرز پر پابندی؟

 امبومنی رام دوس
،تصویر کا کیپشنوزیر صحت ایک عرصے سے تمباکو کے خلاف مہم چلا رہے ہیں
    • مصنف, ریحانہ بستی وال
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ممبئی
  • وقت اشاعت

ہندوستان کے مرکزی وزیر صحت امبومنی رام دوس نے ممبئی کے حقہ پارلرز کو بند کرنے کا حکم دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ لوگوں کی یہ خام خیالی ہے کہ حقہ میں استعمال ہونے والے تمباکو کی چھال صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہے۔

منگل کی شام ممبئی میں ' تمباکو یا صحت ' پر چودہویں عالمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ نوجوانوں میں حقہ عام ہو رہا ہے اور اس میں استعمال ہونے والا تمباکو مضر صحت ہے اس لیے تمام حقہ پارلرز کو بند کر دینا چاہیے۔رام دوس نے سگریٹ نوشی کے بعد اب حقہ پارلرز کو نشانہ بنایا ہے۔

ممبئی میں گزشتہ تین برسوں سے جوانوں میں حقہ کا چلن عام ہوا ہے۔ فاسٹ فوڈ اور کئی بڑے ریستوراں اب اپنے ہاں حقہ فراہم کرنے لگے ہیں۔ نوجوان اور کالج طلباء اسے بڑے شوق سے پیتے ہیں۔

نوجوانوں میں حقے کے بڑھتے رجحان کو دیکھتے ہوئے ممبئی کی میئر شبھا راول نے بھی کچھ عرصہ سے حقہ پارلرز کو بند کرنے کی مہم شروع کی تھی۔ انہوں نے ایسے ہوٹلوں اور ریستوراں کے لائسنس منسوخ کرنے کا حکم بھی جاری کیا تھا جہاں حقہ پیا جاتا ہے، لیکن اس کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکلا تھا کیونکہ ان سب کے باوجود ابھی بھی ممبئی کے کئی ریستوراں میں حقہ دیاجاتا ہے۔

میئر راول نے وزیر صحت کے اس فیصلہ کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ اب انہیں یقین ہے کہ ان کی مہم کامیاب ہو گی کیونکہ انہیں مرکز سے تعاون ملے گا۔

حقہ پارلرز ممبئی ہی نہیں گجرات کے شہر احمد آباد میں بھی کافی مقبول ہو چکے ہیں۔نوجوان اسے سگریٹ اور شراب سے بہتر سمجھتے ہیں۔

وزیر صحت رام دوس نے ایک عرصہ سے تمباکو کے خلاف مہم شروع کر رکھی ہے۔ انہوں نے فلموں میں سگریٹ نوشی پر پابندی عائد کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں پر فلمی ہیروز کا بہت گہرا اثر پڑتا ہے اور وہ جب اپنے ہیروز کو سگریٹ پیتے دیکھتے ہیں تو ان کی نقل میں سگریٹ پینا شروع کرتے ہیں۔

فلموں میں ایسے منظر پر پابندی کی مخالفت ہوئی تھی۔رام دوس نے اس کے بعد عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی کو قانونی جرم قرار دیا ہے۔ تمباک کے خلاف اپنی مہم کے بارے میں رام دوس کا کہنا تھا کہ وہ خوش ہیں لیکن ابھی پوری طرح مطمئن نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ابھی لوگ قانون کے ڈر سے عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی سے احتراز کر رہے ہیں لیکن انہیں یقین ہے کہ لوگ پھر اپنی مرضی سے تمباکو نوشی بھی ترک کر دیں گے۔