’پاکستان کو درکار معلومات فراہم کر دیں‘

- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
- وقت اشاعت
بھارت نے 26 نومبر کے ممبئی حملے کے سلسلے میں پاکستان کی طرف سے پوچھے گئے سوالوں کا جمعہ کی شام جواب دے دیا ہے۔
وزیر داخلہ پی چدامبرم نے کہا کہ جواب میں جو تفصیلات دی گئی ہیں وہ ممبئی حملوں کے ملازموں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کے لیے کافی ہیں ۔
مسٹر چدامبرم نے کہا ’ہم نے جو جواب دیا ہے اس میں دستاویزی ثبوت ، سی ڈیز اور سائنسی تجزیوں کی رپورٹس سبھی کچھ شامل ہیں ۔‘
انہوں نے کہا کہ ہم یہ توقع کرتے ہیں کہ پاکستانی حکام تیز رفتاری سے اپنی تحقیقات کو آگے لے جائین گے اور قصورواروں کو گرفتار کریں گے ۔’ ہم یہ امید کرتے ہیں کہ پاکستان قصور واروں کے خلاف مقدمہ چلانے اور سزا دینے کے لیے یا تو انہیں ہندوستان کے حوالے کر دے گا یا خود اپنے یہاں مقدمہ چلائے گا ۔‘
وزارت خارجہ نے دلی میں مامور پاکستان کے ہائی کمشنر شاہد ملک کو یہ جواب با ضابطہ طور پر سونپ دیا ہے ۔ مسٹر ملک نے اس کی تصدیق کرتے ہو ئے کہا کہ وہ یہ جواب اسلام آباد بھیج رہے ہیں ۔'’یہ تحقیقاتی عمل کا حصہ ہے ۔ ہندوستان کے ذریعے فراہم کی گئی تفصیلات سے پاکستان میں جاری تحقیقات کے عمل میں مدد ملے گی۔‘
26 نومبر کے ممبئی حملے کے بعد ہندوستان نے ایک دستاویز پاکستان کو دی تھی ۔ جس میں کہا گیا تھا کہ ممبئی حملے کی سازش پاکستان میں رچی گئی تھی اور اس میں لشکر طیبہ کے کارکن ملوث ہیں ۔ پاکستان نے ابتدائی تفتیش کے بعد تیس سوالوں کی شکل میں مشتبہ افراد کے بارے میں مزید تفصیلات مانگی تھیں۔
جمعہ کے جواب میں ہندوستان نے پہلی بار یہ بالکل واضح طور پر کہا ہے کہ پاکستان کو یہ اختیار ہے کہ وہ قصور واروں کو ہندوستان کے حوالے کر دے یا خود اپنے یہاں ان کے خلاف مقدمہ چلائے ۔


















