انڈین سیاستدانوں کے لیے سکول

انڈیا میں انتخابات کی تیاریاں زور شور پر ہیں اور اسی دوران ایک سکول ایسا ہے جس میں اُبھرتے ہوئے چھبیس سیاستداں تعلیم و تربیت حاصل کر رہے ہیں۔
منفرد نوعیت کا یہ 'نیتا گیری سکول‘ چھبیس اپریل دو ہزار ایک میں ریاست جھار کھنڈ کے دارالحکومت رانچی میں قائم کیا گیا تھا۔
اس سکول میں اب تک رجسٹریشن کرانے والے طلبا کی تعداد دو سو ہے۔ ان میں وہ طلبا بھی شامل ہیں جو ہفتے میں صرف ایک بار سکول آتے ہیں۔
بھارت میں انتخابات تیرہ اپریل سے شروع ہو رہے ہیں اور سولہ مئی تک جاری رہیں گے۔
نیتا گیری سکول نے دو ہزار ایک سے اب تک کئی ایسے لوگ تیار کیے ہیں جو ریاستی، ضلعی اور برادریوں کی سطح پر سیاست میں حصہ لے رہے ہیں۔
سکول کی کلاسیں راج رانجن کے گھر میں ایک بیضوی ہال میں لی جاتی ہیں جن کے والد اور بھائی کانگریس کے سابق رہنما تھے۔
مسٹر راجن کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ سکول اپنے آنجہانی بڑے بھائی گیان رانجن کی موت کے بعد اپنے خاندان کی سیاسی وراثت اور روایات کو آگے بڑھانے کے لیے کھولا ہے۔
اب کا کہنا ہے کہ 'اس ایک اور وجہ عام لوگوں میں اپنے مسائل کے بارے میں شعور کی کمی بھی ہے‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی






















