بھارت: بڑی سیاسی جماعتوں کی مشکلات

علاقائی جماعتیں سیٹوں  پر سودے بازی کرتی نظر آتی ہیں
،تصویر کا کیپشنعلاقائی جماعتیں سیٹوں پر سودے بازی کرتی نظر آتی ہیں
وقت اشاعت

بھارت میں ہونے والے آئندہ عام انتخابات میں نہ تو کانگریس اور نہ ہی ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کو یقین ہے کہ وہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کے مستحکم حکومت بنا سکتے ہیں۔

تاریخ دان مہیش رنگرجن کے تجزیہ کے مطابق بھارت میں اتحادی جماعتوں کی مدد سے حکومت بنانے کے دس سال پورے ہونے والے ہیں جبکہ وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کی حکومت کے پہلے چار سال کے دوران ملک آٹھ فیصد سے ترقی کرتا رہا اور موجودہ عالمی مالیاتی بحران کے باوجود بھارت اس وقت دنیا کی دوسری تیزی سے ترقی کرنے والی معیشت ہے ۔

تاہم کانگریس نے پچیس سال پہلے پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل کی تھی جبکہ موجودہ مخلوط حکومت علاقائی جماعتوں کے اتحاد پر مشتمل ہے لیکن اب یہ جماعتیں آئندہ انتخابات کے لیے نشستوں کی تقسیم پر سودے بازی کرتی نظر آتی ہیں ۔

دوسری طرف کانگریس کی مخالف سیاسی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی سے اس کے اتحادی حقیقتاً دور ہو چکے ہیں جبکہ انیس سو اٹھاسی کے بعد پہلی بار بے جی پی کے پاس تامل ناڈو اور اندھرا پردیش جیسی اہم ریاستوں میں کوئی اتحادی نہیں ہے ۔

گذشتہ موسم سرما میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے مشرقی ریاست اوریسہ میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف سخت گیر مہم چلانے کی وجہ سے ریاست کے پرانے اتحادیوں نے اپنی حمایت واپس لے لی تھی ۔

بھارت کی مخلوط حکومت میں پہلی بار تیسرے اتحادی کو شامل کرنے کا تجربہ انیس سو چھیانوے میں کیا تھا جس میں تیسرے اتحادی کی صورت میں یونائیٹڈ فرنٹ کو لیا گیا تھا اس اتحاد میں کمیونسٹ جماعت تھی جس میں علاقائی جماعتوں کی اکثریت تھی۔ لیکن یہ اتحاد دو سال ہی چل سکا تھا۔ یہ مخلوط حکومت دیوگوڑا کی سربراہی میں تھی جو کہ کرناٹکہ کے وزیراعلٰی کے عہدے سے وزیراعظم کے عہدے پر آئے تھے اور وہ زیادہ عرصے تک اس عہدے پر نہیں رہ سکے۔

دوسری جانب ریاست اتر پردیش کی آبادی ایک سو نوے ملین ہے جو کہ برازیل کی کل آبادی کے برابر ہے ۔ اس ریاست کی وزیر اعلٰی مایا وتی خاتون اور دلت ذات سے ہونے کی وجہ انتخابات میں ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہیں۔

جنوبی اور مشرقی ریاستوں کو ایک دوسرے کے ساتھ بڑے پیمانے پر تجارتی روابط سے کافی فائدہ پہنچے گا اور ان ریاستوں کے وزیراعلٰی آسانی سے بڑی کمپنیوں یا ورلڈ بینک کے ساتھ مذاکرات کر سکتے ہیں۔دو ہزار چار میں جنوبی بھارت کی ریاست اندھراپردیش کے چندرا بابو کو اقتدار سے علیحدہ ہونا پڑا جو جدید طرز حکومت کے بانی تھے انھوں نے چھوٹی ریاستی جماعتوں سے محدور اتحاد کیا جس کی وجہ سے وہ کسانوں اور غریب آبادی کے قریب ہو گئے تھے۔

چندرا بابو نائیڈو کا اقدام بھارت کی سیاست میں تیسر ی سیاسی طاقت کے ابھرنے کی علامت سمجھا جاتا ہے جس کی وجہ سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس وقت ملک میں ایسی کوئی جماعت نہیں ہے جس کی سارے ملک میں حمایت موجود ہو۔

سیاسی جماعتیں عموماً شہریوں کی نسبت دیہاتی ووٹروں کی طرف زیادہ مائل ہیں۔اترپردیش کے پچھلے انتخابات میں کانگرس اور بی جے پی نے اسی میں سے صرف انیس نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تھے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی مشرقی اور مغربی ریاستوں میں دو ہزار چار کے انتخابات میں ہونے والی شکست کے بعد ابھی تک اس قابل نہیں ہو سکی ہے کہ وہ علاقائی جماعتوں کی مدد سے مخلوط حکومت بنا سکے۔

بھارت میں سولہ اپریل سے پانچ مراحل میں ہونے والے عام انتخابات کے بعد کہا جا سکتا ہے کہ آئندہ حکومت مخلوط حکومت ہو گی۔

لیکن اب کی بار کانگرس کے ہاتھ سے حکومت بنانے کا اختیار جا سکتا ہے اس لیے ہو سکتا ہے کہ کانگریس کو حکومت سازی کے لیے علاقائی جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت بنانا پڑے جو حمایت کے لیے سودے بازی کریں گی۔ اس طرح کے اقدامات کرنے سے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں لیکن کانگریس اس بار اگر گذشتہ انتخابات میں حاصل ہونے والی ایک سو پچاس نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب نہیں بھی ہوتی تو حکومت میں آنے کے لیے کسی نہ کسی سے اتحاد کرے گی۔ لیکن اس صورت میں علاقائی جماعتوں کے پاس سودے بازی کے لیے زیادہ اختیارات ہونگے۔

مہیش ر نگرجن مشہور تاریخ دان ہیں اور دلی یونیورسٹی میں پڑھاتے ہیں۔