کشمیر: جھڑپوں کا دائرہ وسیع

کشمیر میں فوج ایک فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنفوجی ترجمان کے مطابق بدھ کی رات کو کپوارہ کے لولاب میں بھی تصادم اُس وقت شروع ہوا جب تین مسلح شدت پسندوں کو فوج نے گھیرلیا
    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر
  • وقت اشاعت

ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر کے شمس واری جنگلات میں فوج اور شدت پسندوں کے مابین پچھلے ایک ہفتے سے ہورہی جھڑپوں کادائرہ دوسرے خطوں تک پھیل رہا ہے۔ پچھلے چوبیس گھنٹوں میں کپوارہ کے لولاب اور بانڈی پورہ کے چونٹی پورہ و گُریز میں الگ الگ تصادم آرائی ہوئی ہیں جن میں فوجی ترجمان جے ایس برار کے مطابق تین شدت پسند مارے گئے ہیں۔

برار کا کہنا ہے کہ کنٹرول لائن کے ساتھ لگنے والا علاقہ گریز میں دس سے پندرہ مسلح شدت پسندوں کا ایک گروپ وادی میں داخل ہوچکا ہے اور ان کے ساتھ تصادم کے دوران ابھی تک فوج نے ایک شدت پسند کا ہلاک کردیا ہے۔

فوجی ترجمان کے مطابق بدھ کی رات کو کپوارہ کے لولاب میں تصادم اُس وقت شروع ہوا جب تین مسلح شدت پسندوں کو فوج نے گھیرلیا، تاہم تصادم میں صرف ایک شدت پسند ہلاک ہونے کی تصدیق کی گئی۔ مارے گئے شدت پسند کے بارے میں فوج کا دعویٰ ہے کہ وہ ممنوعہ لشکر طیبہ کا علاقائی کمانڈر تھا۔ فوجی حکام کے مطابق بانڈی پورہ میں ہوئی جھڑپ کے دوران مارا گیا شدت پسند بھی ممنوعہ جیش محمد کا اعلیٰ کمانڈر تھا۔

اس دوران فوج کا مزید کہنا ہے کہ گُریز، جو دشوار گزار پہاڑیوں کی وجہ سے چھہ ماہ تک وادی سے کٹا ہوا رہتا ہے، میں دس سے پندرہ مسلح افراد پر مشتل شدت پسندوں کا گروپ وادی وارد ہوچکا ہے اور ان کے ساتھ فوج متصادم ہے۔

فوجی ترجمان نے بتایا کہ ’شمس واری میں آپریشن ابھی جاری ہے حالانکہ فائرنگ رُک گئی ہے۔ لیکن گریز کا آپریشن بھی طول پکڑ سکتا ہے۔ ہم نے ابھی تک صرف ایک شدت پسند کو ہلاک کیا ہے۔ ہماری اطلاع ہے کہ دس سے پندرہ لوگ ہمارے علاقے میں گھُس گئے ہیں۔‘

واضح رہےکنڑول لائن کے ساتھ لگنے والے کپوارہ کے وسیع جنگلی علاقے میں پچھلے چھ روز سے جاری فوجی آپریشن سے متعلق بدھ کو ایک سینئر فوجی افسر برگیڈیئر گورمیت سنگھ نے دعویٰ کیا کہ شدت پسندوں کی موجودگی کے بارے میں ’کنٹرول لائن کی دوسری جانب‘ سے اطلاع ملی تھی۔

اس دوران ممنوعہ مسلح تنظیم لشکر طیبہ نے ایک بیان میں فوج پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اس میں تیس فوجیوں کی ہلاکت کا دعوٰی کیا ہے۔ فوج کے مطابق شمس واری آپریشن میں افسر سمیت آٹھ فوجی اور سترہ شدت پسند مارے گئے تھے۔

اس دوران بھارتی فوج کے سربراہ جنرل دیپک کپور نے بدھ وار کو انکشاف کیا کہ کنٹرول لائن کے اُس پار ممنوعہ لشکر طیبہ کے تین سو تربیت یافتہ شدت پسند وادی وارد ہونے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔