گجرات فسادات میں 'ملوث' وزیر مستعفی

گجرات فسادات
،تصویر کا کیپشنعدالت نے ریاست گجرات کی وزیر مابین کوڈنانی کی قبل از گرفتاری ضمانت منظور نہیں کی
وقت اشاعت

گجرات ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کی ایک وزیر مایا بین کوڈنانی کی پیشگی ضمانت خارج کردی ہے۔

مایا بین کی پیشگی ضمانت کی عرضی خارج ہونے کے بعد انہوں نے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا ہے۔ اور اطلاعات ہیں انکی گرفتاری ہوسکتی ہے۔

مایا بین کوڈنانی اعلی تعلیم کے ساتھ ساتھ خواتین اور بچوں کے فلاح بہبود کی وزیر تھیں۔

مایا بین پر الزام ہے کہ انہوں نے 2002 کے گجرات فسادات کے دوران نرودا پٹیہ میں فسادیوں کو اکسایا تھا۔

گودھرا واقعہ کے بعد نرودا پٹیہ اور نرودا گام میں ہوئے فسادات میں 95 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

گجرات حکومت نے ہائی کورٹ میں دائر حلف نامے میں کہا ہے کہ فسادات کے دوران مایا بین کوڈنانی نے فسادیوں کو ہتھیار بھی بانٹے تھے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے ریاست میں ہوئے فسادات میں سے 9 مقامات پر ہوئے فسادات کی دوبارہ تفتیش کرنے کے لیے خصوصی تفتیشی ٹیم(ایس آئی ٹی) تشکیل دی تھی۔

ایس آئی ٹی مایابین کوڈنانی کو نرودا پٹیہ میں ہوئے فسادات کے معاملے میں گرفتار کرنا چاہتی تھی اور اسی سے بچنے کے لیے مایابین نے ہائی کورٹ میں قبل از صمانت ضمانت کی عرضی داخل کی تھی۔

مایابین کو نرودا پٹیہ معاملے میں ملزم قرار دیا گیا تھا لیکن ماتحت عدالت نے انہیں پیشگی ضمانت دے دی تھی۔جب اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا تو سپریم کورٹ نے معاملے کی تفتیش کے لیے ایس آئی ٹی تشکیل دی۔

ایس آئی ٹی کے سامنے ریاستی حکومت نے حلف نامہ داخل کیا جس میں کہا گیا کہ ' مایابین کوڈنانی فسادیوں کی سربراہی کررہی تھیں وہ اس دوران اس حلقے سے رکن اسمبلی تھیں'۔

حلف نامے میں ایک عین شاہد کے حوالے سے یہ بھی ذکر ہے کہ مایابین کوڈنانی نے اپنی پستول سے فائرنگ بھی کی۔ ایک اور بیان کے مطابق وہ اپنے کار سے جائے وقوع پر پہنچی اور لوگوں کو تلواریں باٹیں۔

اس معاملے میں ایس آئی ٹی نے پہلے انہیں فرار قرار دیا اور مایابین کچھ دن غائب رہیں اور تب دکھائی دیں جب نچلی عدالت نے انہیں پیشگی ضمانت دے دی تھی۔ گجرات میں 2002 میں فرقہ وارانہ فسادات ہوئے تھے جس میں ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔