اجمل قصاب کے لیے وکیل مقرر

- مصنف, ریحانہ بستی والا
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ممبئی
- وقت اشاعت
مہاراشٹر لیگل ایڈ کی وکیل انجلی واگھمارے ممبئی حملوں کے واحد زندہ بچ جانے والےملزم محمد اجمل قصاب کی وکیل ہوں گی۔ ممبئی حملوں کے کیس کے لیے مقرر خصوصی جج ایم ایل تہیلیانی نے آج عدالت میں اس کا اعلان کیا۔ کیس کی آئندہ سماعت چھ اپریل کو ہو گی۔
وکیل واگھمارے سرکاری پینل میں گزشتہ دس برسوں سے ہیں اور انہوں نے انیس سو ترانوے کے بم دھماکے میں ملزم کریم اللہ کے کیس کی پیروی کی تھی۔وہ ملزمان جن کےپاس اتنی رقم نہیں ہوتی ہے یا کوئی وکیل ان کے کیس کی پیروی کے لیے تیار نہیں ہوتے ہیں، مہاراشٹر لیگل ایڈ اپنی طرف سے انہیں وکیل فراہم کرتی ہے۔
اجمل نے سب سے پہلے پاکستانی ہائی کمیشن سے اپنے لیے وکیل مقرر کرنے کی اپیل کی تھی لیکن انہیں پاکستان کی جانب سے اس سلسلہ میں کوئی جواب نہیں ملا تھا۔مبمئی سے وکیل اشوک سروگی اور کے بی این لام نے اجمل کے کیس کی پیروی کے لیے خواہش ظاہر کی تھی لیکن وکیل اشوک نے اپنا نام واپس لے لیا تھا جب ایک سیاسی پارٹی کے ورکروں نے ان کے گھر پر حملہ کیا تھا اور کے بے این لام کو دھمکایا گیا تھا۔ لام کی اپیل کو ممبئی پولیس نے منظور نہیں کیا۔
اجمل کے کیس کی پیروی کے لیے کولکتہ اور دِلی کے وکلاء نے بھی اپیل داخل کی تھی لیکن ان غور نہیں کیا گیا کیونکہ وہ لیگل ایڈ پینل کے وکلاء نہیں تھے۔
قبل ازیں آج عدالت میں اجمل اور دیگر دو ملزمان فہیم انصاری اور صباح الدین کے کیس کی سماعت ویڈیو رابطہ کے ذریعہ عدالت میں ہوئی۔جج تہیلیانی نے اجمل سے کہا کہ ان کی وکیل انہیں فرد جرم میں ان پر عائد الزامات کو پڑھ کر بتا سکیں گی کیونکہ انہیں مراٹھی اور انگریزی آتی ہے۔ عدالت نے اجمل کی اردو زبان میں فرد جرم دیے جانے کی اپیل کو مسترد کر دیا۔
اجمل نے جج سے اردو اخبار دیے جانے کا مطالبہ کیا انہوں نے کہا کہ جیل میں انہیں وقت گزارنا بہت مشکل ہوتا ہے اس لیے انہیں اخبار فراہم کیا جائے۔جج نے انہیں اپنے وکیل کے ذریعہ باقاعدہ تحریری درخواست دائر کرنے کے لیے کہا۔
ممبئی حملوں کی سماعت آج پھر سیشن عدالت کےکمرے میں ہوئی کیونکہ سینٹرل آرتھر روڈ جیل کا خصوصی کمرہ ابھی تک بن کر تیار نہیں ہوا ہے۔کمرے کو بم پروف بنانے کا کام جاری ہے۔
گزشتہ برس چھبیس نومبر کے روز ممبئی پر شدت پسندانہ حملے ہوئے تھے۔پولیس کے مطابق یہ حملے شدت پسند تنظیم لشکر طیبہ کے اراکین نے کیے تھے۔دس حملہ آوروں میں سے نو پولیس اور فوج آپریشن کے دوران مارے گئے تھے لیکن پولیس ایک حملہ آور اجمل قصاب کو زندہ پکڑنے میں کامیاب ہو گئی تھی۔اس حملے میں پولیس کے مطابق ایک سو ساٹھ سے زیادہ افراد ہلاک اور تین سو زیادہ زخمی ہوئے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پولیس نے پچیس فروری کے پینتالیس ملزمان کے خلاف گیارہ ہزار سے زائد صفحات پر مشتمل فرد جرم عدالت میں داخل کر دی تھی۔حکومت نے اس کیس کی سماعت کے لیے خصوصی عدالت قائم کی جس کے لیے جج ایم ایل تہیلیانی کو مقرر کیا گیا ہے۔






















