جو کہوں گی سچ کہوں گی

سشما سوراج
،تصویر کا کیپشنسشما سوراج کا کہنا ہے کہ قومی جمہوری اتحاد کو اکثریت حاصل نہیں ہوگی۔
    • مصنف, سہیل حلیم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دلی
  • وقت اشاعت

سشما سواراج کا نام تو آپ نے سنا ہی ہوگا۔ وہی جو سونیا گاندھی کو غیر ملکی کہا کرتی تھیں لیکن جب ایک مرتبہ لوک سبھا کے انتخاب میں ان کے مد مقابل ہوئیں تو انہیں معلوم ہوا کہ ہندوستانی عوام غیر ملکی مصنوعات کتنی پسند کرتے ہیں۔

لیکن یہ ماننا پڑے گا کہ وہ کافی صاف گو ہیں۔ وہ مدھیہ پردیش کے ودیشا حلقے سے میدان میں ہیں جہاں انہوں نے دو باتوں کا اعتراف کرکے سبھی کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔

ایک تو یہ کہ قومی جمہوری اتحاد کو انتخابات میں اکثریت حاصل نہیں ہو گی اور دوسرا یہ کہ ورون گاندھی نے مسلمانوں کے خلاف جن الفاظ کا استعمال کیا وہ انہیں نہیں کرنا چاہیے تھا۔

میں سوچ ہی رہا تھا کہ کاش کچھ اور رہنما بھی اتنی حق پرستی اور حقیقت پسندی سے کام لے پاتے۔انتخابی نتائج کے بارے میں تو زیادہ تر لوگوں کا یہی خیال ہے لیکن کیا سشما سواراج نے اعتدال پسندی کا دامن بھی تھام لیا ہے؟

شاید نہیں۔ وہ صرف ورون گاندھی کو یہ مشورہ دے رہی تھیں کہ ’جو کچھ انہوں نے کہا وہ زیادہ شائستگی کے ساتھ بھی کہا جاسکتا تھا!‘

ہاتھ کاٹنے کی بات شائستگی کے ساتھ؟ ایسی توقعات پر اتنی کم عمر کا لڑکا کیسے پورا اتر سکتا ہے؟

سکیورٹی کا مسئلہ ابھر رہا ہے

پہلے مرحلے کی پولنگ کا کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہوگیا ہے لیکن کم سے کم مجھے ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ ملک کے دونوں بڑے سیاسی اتحاد کن ایشوز پر الیکشن لڑ رہے ہیں۔ انتخابی منشور تو خود سیاسی رہنما نہیں پڑھتے لہذا ان میں شامل وعدوں کو تو نظرانداز کرنا ہی بہتر ہوگا۔

لیکن اخبارات دیکھ کر یہ لگتا ہے کہ شاید سکیورٹی ہی بڑا مسئلہ بن جائے۔ گزشتہ ایک دو روز میں کچھ حیرت انگیز خبریں سامنے آئی ہیں یا یوں کہیے کہ لائی جا رہی ہیں۔ مثال کے طور پر انڈر ورلڈ کا سرغنہ چھوٹا شکیل ورون کاندھی کو قتل کرانا چاہتا تھا، اور کرناٹک کے ہندو قوم پرست رہنما پرمود متھالک کو بھی، جن کے اشارے پر شراب خانوں میں لڑکیوں پر حملے کیے گئے تھے۔

اگر یہ خبر صحیح ہے تو ماننا پڑے گا کے انڈر ورلڈ کے ڈان کچھ بھی برداشت کرسکتے ہیں، لڑکیوں پر حملے نہیں!

اور اب خبر ہے کہ ہندوستان میں بیس دہشت گرد داخل ہوگئے ہیں جن میں سات آٹھ پائلٹ اور تقریباً ایک درجن ’فدائین‘ لڑکیاں شامل ہیں۔ اور ’ذرائع‘ نے صحافیوں کو بتانا شروع کر دیا ہے کہ یہ دہشت گرد پاکستانی شہری ہو سکتے ہیں اور ہو سکتا ہے کہ وہ انتخابات کے دوران حملوں کی تیاری کر رہے ہوں۔

اگر کوئی حملہ ہوتا ہے تو بی جے پی کو ایک گرما گرم انتخابی ایشو ضرور مل جائے گا۔ ہم تو یہ ہی دعا کرسکتے ہیں کہ یہ پائلٹ صرف نوکریوں کی تلاش میں ہندوستان آئے ہوں۔

مفروضوں کے وزیر اعظم

لگتا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما اور بیس سال سے وزارت عظمی کے طالب لال کرشن اڈوانی کی سیاست صرف مفروضوں پر ہی چل رہی ہے۔

وہ وزیر اعظم منموہن سنگھ کو ٹی وی پر مباحثے کے لیے چیلنج کر رہے ہیں۔ مفروضہ یہ ہے کہ ملک میں وزیر اعظم کی کرسی کے صرف دو ہی دعویدار ہیں۔

لیکن اڈوانی صاحب، یہ قطار ذرا لمبی ہے اور منموہن سنگھ اپنی ہی رفتار سے بات کرتے ہیں۔ اگر وہ ہر دعویدار سے بحث کرنے لگے تو اگلے پارلیمانی انتخاب تک بھی فرصت نہیں ملے گی!

تم ایک پیسہ دوگے۔۔۔

کچھ سیاسی رہنما اس بات کو زیادہ ہی سنجیدگی سے لے رہے ہیں کہ تم ایک پیسہ دوگے وہ دس لاکھ دے گا، غریبوں کی سنو وہ تمہاری سنے گا۔۔۔

پہلے گوندا، پھر ملائم سنگھ اور جیا پردا اور اب جسونت سنگھ پر الزام ہے کہ انہوں نے ووٹوں کےلیے لوگوں میں پیسے تقسیم کیے ہیں۔

لیکن جسونت سنگھ کا جواب ہے کہ وہ صرف غریبوں کی مدد کررہے تھے۔ اور ہاں وہ خود امیدوار بھی نہیں ہیں، راجستھان کے بارمیر حلقے سے ان کے بیٹے میدان میں ہیں۔

تو جناب جسونت سنگھ صاحب، آپ سابق وزیر خزانہ ہیں، غریبوں کی مدد کیسے کی جانی چاہیے آپ سے بہتر کون جان سکتا ہے؟

اور اگر احسان مان کر کوئی بدلے میں ووٹ بھی دیدے تو اس میں برائی ہی کیا ہے؟