جگدیش ٹائٹلر کو 'کلین چٹ'

انیس سو چوراسی میں دلی میں ہوئے سکھ مخالف فسادات کے سلسلے میں مرکزي تفتیشی ادارے سی بی آئی نے کانگریس کے سیئنر رہنما جگدیش ٹائٹلر کو ’کلین چٹ‘ دے دی ہے۔
سنہ چوارسی میں سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کےاپنے سکھ محافظ کے ہاتھوں قتل کے بعد دلی میں سکھ مخالف فسادات بھڑک اٹھے تھے جس میں تقریباً تین ہزار سکھ مارے گئے تھے۔ متاثرین گزشتہ بیس برس سے انصاف کی لڑائی لڑ رہے ہیں۔
جگدیش ٹائٹلر پر ان فسادات میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کا الزام تھا۔ سی بی آئی نے یہ بھی کہا ہے کہ جگدیش ٹائٹلر کے خلاف درج ایف آئی آر کو ناکافی ثبوت کی بنیاد پر خارج کر دینا چاہیے۔
خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق سی بی آئی کے کونسل سنجے کمار نے اڈیشنل چیف میٹروپولٹن مجسٹریٹ راکیش پنڈت کو بتایا ’اس سلسلے میں ہم نے کیس ختم کرنے سے متعلق ایک رپورٹ داخل کر دی ہے اور ہم مزید تفتیش کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔‘
جگدیش ٹائٹلر پر اس کیس میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کا الزام تھا جس میں گروداورا پل بنگاش کو ایک ہجوم نے آگ لگا دی تھی جس میں تین افراد ہلاک ہوئے تھے۔
پی ٹی آئی کے مطابق جگدیش ٹائٹر نے سی بی آئی کے فیصلے پراپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’شروعات سے میں نے کہا ہے کہ یہ میرے خلاف ایک سازش ہے۔ میں بے قصور تھا اور سچائی لوگوں کے سامنے آ گئی ہے۔ لوگ جو بھی کہیں انہیں کہنے دوں میں اب اس سلسلے کو یہیں ختم کرنا چاہتا ہوں۔"
کانگریس کی ایک اور رہنما جیتنی نٹراجن کا کہنا ہے ’ کانگریس سی بی آئی کی کارکردگی میں دخل نہیں دیتی ہے۔ سی بی آئی ایک آزادانہ باڈی ہے۔ یہ تحقیقات سی بی آئی نے خود کی ہے اور فیصلہ بھی خود دیا ہے۔‘
سی بی آئی کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کانگریس کے سیئنر رہنما کپل سبل نے کہا ہے کہ قانون کے مطابق کسی بھی قسم کی تحقیقات کے بعد ایک رپورٹ تیار کی جاتی ہے اور اور عدالت میں پیش کی جاتی ۔ تاہم یہ عدالت پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ اس رپورٹ کو تسلیم کرے یا نہ کرے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ادھر حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے کہا ہے کہ سی بی آئی سنٹرل بیورو آف انوسٹیگیشن نہيں بلکہ کانگریس انوسٹیگیشن آف بیورو ہے۔ 'اس فیصلے سے ہر اس انسان کو گہرا دہچکہ لگا ہے جو قانونی نظام پر یقین رکھتے ہیں۔ ہم کو پتا ہے کہ ہزاروں سکھوں کو 1984 میں قتل کر دیا تھا اور آج پچیس برس گزرنے کے بعد بھی متاثرہ افراد آج بھی انصاف کے انتظار میں ہیں۔‘






















