ٹائٹلر کو کلین چٹ، سکھوں کا احتجاج

سکھ احتجاج
،تصویر کا کیپشنسی بی آئی کی جانب سے جگدیش ٹائٹلر کو کلین چٹ دیئے جانے کے بعد حکومت کے خلاف سکھوں کا احتجاج تیز ہوگیا ہے۔
وقت اشاعت

انیس سو چوراسی کے سکھ مخالف فسادات کے معاملے میں کانگریس کے لیڈر جگدیش ٹائٹلر کو سی بی آئی کی کلین چٹ پر سماعت سے پہلے دلی ک ایک عدالت کے باہر بڑی تعداد میں سکھوں نے احتجاج کیا ہے۔

جگدیش ٹائٹلر کیس کی سماعت 28 اپریل تک ملتوی کردی گئی ہے۔

سنہ چوارسی میں سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کےاپنے ایک سکھ محافظ کے ہاتھوں قتل کے بعد دلی میں سکھ مخالف فسادات بھڑک اٹھے تھے جس میں تقریباً تین ہزار سکھ مارے گئے تھے۔ متاثرین گزشتہ بیس برس سے انصاف کی لڑائی لڑ رہے ہیں۔

جگدیش ٹائٹلر پر ان فسادات میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کا الزام تھا۔ سی بی آئی نے تفتیش کے بعد اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں کہا ہے کہ جگدیش ٹائٹلر کے خلاف درج ایف آئی آر کو ناکافی ثبوت کی بنیاد پر خارج کر دینا چاہیے۔

جس وقت عدالت سماعت کرنے والی تھی اس سے پہلے شرومنی اکالی دل، آل انڈیا اسٹوڈینٹس فیڈریشن اور کئی دیگر تنظیموں کے اراکین کورٹ کے باہر احتجاج کررہے تھے۔

ٹائٹلر کو سی بی آئی کی جانب سےبری کیے جانے پر سکھ برادری میں غصہ ہے اور سی بی آئی کے اس فیصلے کے بعد گزشتہ روز پنجاب میں سکھوں نے ریلوے ٹریکس جام کیے تھے اور منگل کو ایک سکھ صحافی نے وزیر داخلہ پی چدامبرم پر جوتا پھینکا تھا۔

ٹائٹلرکو سی بی آئی کی جانب سے کلین چٹ کا معاملہ اب متنازعہ رخ اختیار کرچکا ہے اور اب وزیر اعظم کے دفتر نے سی بی آئی کے سربراہ سے بات کی ہے۔

اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم کے دفتر نے سی بی آئی سے یہ جاننا چاہا کہ کن ثبوتوں کے تحت ٹائٹلر کو کلین چٹ دی گئی ہے۔

جگدیش ٹائٹلر شمالی دلی سے کانگریس کے امیدوار ہیں اور سی بی آئی سے کلین چٹ ملنے کے بعد کانگریس پر یہ دباؤ بڑھ رہا ہے کہ انہیں انتخابات سے ہٹایا جائے۔