سجاد لون الیکشن لڑیں گے

سجاد لون
،تصویر کا کیپشن’میرے الیکشن لڑنے سے نہ ہندوستان کو فائدہ ہے نہ حریت کو نقصان‘
    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر
  • وقت اشاعت

انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں اُنیس سو نواسی میں شروع ہونے والی مسلح جدوجہد کے بانی گروپوں میں سے ایک پیپلز کانفرنس کے سربراہ سجاد غنی لون نے سینیچر کو پارلیمانی انتخابات میں کپواڑہ حلقے سے چناؤ لڑنے کا اعلان کر دیا ہے۔

سجاد لون پیپلز کانفرنس کے بانی اور اپنے والد عبدالغنی لون کے دو ہزار دو میں پراسرار قتل کے بعد علیٰحدگی پسند تحریک سے وابستہ ہوئے تھے۔

انہوں نے انتخابات میں شرکت کا اعلان ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سجاد لون نے کہا کہ ’میں نے صرف حکمت عملی تبدیل کی ہے، نظریہ نہیں ۔ہم پارلیمنٹ میں جا کر مسئلہ کشمیر کی بات کریں گے۔ میں یہ وعدہ کرتا ہوں کہ دلّی جاکر موم کی گڑیا نہیں بنوں گا۔ میں کشمیر کی نمائندگی دلّی میں کرنے کا خواہشمند ہوں، اور میں کبھی بھی دلّی کی نمائندگی کشمیر میں نہیں کروں گا‘۔

قابل ذکرہے کہ مقتول عبدالغنی لون سولہ سالہ علیحدگی پسند اتحاد حریت کانفرنس کی مجلس عاملہ کے رُکن تھے۔ ان کے بعد سجاد کے بڑے بھائی بلال غنی لون حریت میں پیپلز کانفرنس کی نمائندگی کرتے رہے۔

تاہم سجاد لون نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ان کا حریت کانفرنس سے کوئی واسطہ نہیں ہے اور یہ کہ اس فیصلہ کے بعد بلال لون کے ساتھ ان کے مراسم ٹوٹ گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ کچھ بھارتی ٹی وی چینلوں نے کہا ہے کہ میرا یہ فیصلہ حرُیت کے لیے دھچکا ہے اور کچھ نے کہا ہے کہ یہ بھارتی جمہوریت کی فتح ہے جبکہ ایسا کچھ نہیں۔ علیحدگی پسند تحریک یہاں اُنیس سو سینتالیس سے جاری ہے اور جاری رہے گی۔ میرے الیکشن لڑنے سے نہ ہندوستان کو فائدہ ہے نہ حریت کو نقصان‘۔

حریت کانفرنس کے اہم قائدین سید علی گیلانی اور میرواعظ عمرفاروق نے ابھی اس سلسلے میں کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے جبکہ محمد یٰسین ملک، جو حریت کے دونوں دھڑوں سے یکساں دُوری بنائے ہوئے ہیں، بھی خاموش ہیں۔

واضح رہے مئی دو ہزار دو میں عبدالغنی لون کے قتل کے چھ ماہ بعد جب صوبے میں اسمبلی انتخابات منعقد ہوئے تھے تو ان میں سجاد لون کی پارٹی کے بعض اہم لیڈروں نے حصہ لیا تھا۔ ان انتخابات سے قبل بیشتر علیحدگی پسندوں کو قید کیا گیا تھا اور رہائی کے بعد سید علی گیلانی نے الزام عائد کیا تھا کہ سجاد لون نے’پراکسی امیدواروں‘ کو انتخابی میدان میں اُتارا۔ سجاد نے اس الزام کی تردید کی تھی اور انتخابات میں حصہ لینے والوں کو پارٹی سے بے دخل کرنے کا اعلان کیا تھا۔اس عمل کے دوران پیپلز کانفرنس سے بے دخل ہوچکے صوفی غلام محی الدین سینیچر کی پریس کانفرنس میں سجاد کے ساتھ تھے۔ صوفی مفتی سعید کے دور میں وزیر رہ چکے ہیں۔