ملکہ سارا بھائی، ’تبدیلی کی علامت‘

بین الاقوامی شہرت یافتہ کلاسیکی رقاصہ ملکہ سارا بھائی انڈین حزبِ اختلاف اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے مرکزی رہنما ایل کے اڈوانی کے مقابلے پر انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں۔ بی بی سی کے سوتک بسواس نے گجرات کےگاندھی نگر حلقے میں ان کی انتخابی مہم کا جائزہ لیا۔
تقریباً پندرہ دن قبل غیر سرکاری تنظیموں کے ایک گروپ نے ان سے رابطہ کیا اور انہیں پیشکش کی کہ وہ اگر عام انتخابات میں بطور آزاد امیدوار حصہ لیں تو وہ ان کی حمایت کو تیار ہیں۔
اس پیشکش نے ملکہ کو مخمصے میں ڈال دیا۔ وہ اس وقت ایک ٹی وی کوئز پروگرام ریکارڈ کروا رہی تھیں جس میں ریاست گجرات کے سکولوں کے بچے شامل تھے۔ انہوں نے اس پیشکش پر غور کیا۔ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ انہیں ایسی کوئی پیشکش کی گئی تھی۔ ان کے مطابق سنہ 1984 سے ہر انتخاب کے موقع پر کانگریس نے ان سے انتخاب میں حصہ لینے کے لیے رابطہ کیا ہے۔
ملکہ کے مطابق ’میں نے ان کی پیشکش ہمیشہ یہ کہہ کر رد کر دی کہ میں اس کے لیے تیار نہیں اور میں نے کبھی آزاد حیثیت سے انتخاب میں حصہ لینے کے بارے میں سوچا بھی نہیں تھا کیونکہ میں جانتی ہوں کہ ہمارے سیاسی نظام میں آزاد امیدواروں کے لیے زیادہ جگہ نہیں‘۔
تاہم اس مرتبہ ملکہ نے اپنے دل کی آواز سنی۔ ان کے مطابق ’میرے دل نے مجھے کہا کہ یہی وقت ہے‘ اور یوں وہ انتخابی دوڑ میں شامل ہوگئیں اور یہ دوڑ بھی کسی عام رہنما کے خلاف نہیں بلکہ ان کا مقابلہ ملک کی وزارتِ عظمٰی کے لیے نامزد کردہ امیدوار ایل کے ایڈوانی سے ہے۔ ملکہ کہتی ہیں کہ ’یوں میری زندگی بس پندرہ دن میں بدل گئی۔ اب میں دن میں سولہ گھنٹے کام کر رہی ہوں اور اس مہم کے دوران ایک لاکھ افراد سے مل چکی ہوں‘۔

ملکہ سارابھائی کا کہنا ہے کہ ’میں فتح کے امکانات کو رد نہیں کر رہی۔ ہو سکتا ہے کہ مجھے ایک ووٹ ملے یا پھر پانچ لاکھ ووٹ لیکن میں مقابلہ کروں گی۔ انڈیا میں سیاست اپنے سب سے نچلے درجے پر پہنچ گئی ہے‘۔ تاہم جہاں تک بات سیاسی مقابلے کی ہے تو سارابھائی اور ایڈوانی کے مقابلے سے زیادہ غیرمساوی مقابلہ بھارتی انتخابات میں ممکن نہیں۔
اکیاسی سالہ ایڈوانی بھارت کے سیاسی میدان کے پرانے کھلاڑی ہیں اور انہیں ملک کی ایک بڑی سیاسی جماعت کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ اس کے مقابلے میں چوّن سالہ ملکہ سارابھائی ایک ایسی رہنما ہیں کہ جنہیں کسی سیاسی جماعت کی حمایت تو حاصل نہیں لیکن ان کے پاس نہ صرف جوش وجذبہ ہے بلکہ ایک قابلِ رشک شہرت بھی ہے۔ وہ بھارت کی جانی مانی رقاصہ اور اداکارہ ہیں جنہوں نے ملک کے بہترین بزنس سکول سے ایم بی اے اور ڈاکٹریٹ کیا ہوا ہے اور وہ ایک نامور خلائی سائنسدان کی بیٹی ہیں۔ یہی نہیں ان کا تعلق انڈیا کے ایک تیزی سے ترقی کرتے ہوئے کاروباری خاندان سے بھی ہے۔
ملکہ سارابھائی کی مہم چلانے والے بھی ان ہی طرح سیاسی میدان میں نووارد ہیں۔ ان کے حامی گانے گا کر، سٹریٹ تھیٹر پرفارمنس اور آن لائن سماجی روابط کے ذریعے ان کی مہم کا دائرہ پھیلانے میں مصروف ہیں۔ ملکہ کا کہنا ہے کہ ’میرے پاس الیکشن لڑنے کے لیے رقم نہیں لیکن گزارہ ہو ہی رہا ہے‘۔ ان کی انتخابی ویب سائٹ کے مطابق ملکہ نے پندرہ دن میں چندے اور عطیات کی مد میں چھ لاکھ روپے جمع کیے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ملکہ نے بارہا اڈوانی کو ایک عوامی مباحثے کی دعوت دی ہے لیکن وہ اس سے کتراتے رہے ہیں تاہم خود ملکہ عوام میں گھل مل رہی ہیں۔ نیویارک سے تعلق رکھنے والے ریٹیل مینجمنٹ مشیر اور ملکہ کی انتخابی مہم چلانے والے ولسن بٹو کے مطابق ’وہ تبدیلی کی علامت ہیں‘۔ ملکہ سارابھائی کی انتخابی مہم میں نوجوان طبقے کی شمولیت ایک ایسی چیز ہے جو عام طور پر بھارت میں انتخابی مہم میں نظر نہیں آتی۔
ان کی انتخابی مہم چلانے والے کارکنان کے مطابق انہوں نے اس انتخابی مہم کی تیاری میں امریکی صدر بارک اوباما کی انتخابی مہم سے مدد لی ہے۔ ملکہ جب بھی عوام سے ملنے نکلتی ہیں تو پس منظر میں مہم کے لیے خصوصی طور پر تیارکردہ گانے بج رہے ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ مہم سے متعلقہ ایک فلم اور موبائل ویڈیو بھی تیار کی گئی ہے جبکہ فیس بک اور ٹوئٹر پر بھی مہم جاری ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ ملکہ کی مہم میں شامل رضاکاروں نے ان کی مہم کو رنگین بنا دیا ہے اور اب ملکہ کے ساتھ چلنے والے افراد سرخ، سفید اور جامنی کپڑے پہنے یا ان رنگوں کے سکارف گلے میں ڈالے نظر آتے ہیں۔

مہم کے دوران ملکہ کی صبح کا آغاز متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد سے ملاقات سے ہوا۔ وہ ان ملاقاتوں کو ’نیٹ ورک میٹنگز‘ کا نام دیتی ہیں۔ ایسی ہی ملاقاتوں میں ملکہ لوگوں سے سوال کرتی ہیں کہ ’ہماری ترجیح کیا ہے۔ ایک صاف ستھرا ماحول یا گندا معاشرہ‘۔ دن کے ڈھلنے پر ملکہ اپنے حلقے کا دورہ کرتی ہیں جس میں پندرہ لاکھ ووٹر ہیں۔ ان کے مطابق:’یہ انتخابی مہم ایک ایسا تجربہ ہے جس سے مجھے معاشی طور پر بھارت کی سب سے زیادہ ترقی یافتہ سمجھی جانے والی ریاست کے استحصالی اور غیرمساویانہ حالات کا پتہ چلا ہے‘۔
ملکہ کا کہنا ہے کہ مہم کے دوران جہاں وہ مشکلات کا شکار سرکاری اہلکاروں سے ملی ہیں جن کی تنخواہ سرکار کی مقرر کردہ کم از کم تنخواہ سے بھی کم ہے وہیں انہیں ایک ایسا مسلمان ڈرائیور بھی ملا جسے جب ملکہ نے نوکری کی پیشکش کی تو وہ آبدیدہ ہو گیا کیونکہ اسے چالیس مرتبہ صرف مذہب کی بنیاد پر نوکری نہیں دی گئی تھی۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’میرے حلقے میں شامل سّتر فیصد دیہات اور کچی آبادیوں میں بیت الخلا نہیں ہیں۔ اور ان حالات میں حکومت کس ترقی کی بات کرتی ہے۔ کس کی ترقی؟‘
ملکہ کی مہم کا نعرہ ہے’ کیا آپ میرے حامی نہیں؟ کیا آپ مجھے ووٹ نہیں دیں گے‘۔ اس سوال کا جواب تین ہفتے بعد ملکہ اور ان کے ان گنت چاہنے والوں کو مل جائے گا۔ لیکن اگر وہ شکست کھا جاتی ہیں تب بھی ان کا وعدہ ہے کہ وہ واپس آئیں گی کیونکہ وہ خود کو ایک حادثاتی سیاستدان نہیں مانتیں۔






















