ملائم سنگھ کا آئیڈیا اور مودی کی بڑھیا
- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دلی
- وقت اشاعت
ابھی تو میں جوان ہوں

نریندر مودی کو اپنی جوانی پر بہت غرور ہے شاید اسی لیے انہوں نے کہا ہے کہ کانگریس ایک بڑھیا ہے جو اپنے خاندان پر بوجھ بن گئی ہے۔ جواب میں پرینکا گاندھی نے مودی سے پوچھا ہے کہ کیا میں آپ کو بوڑھی لگتی ہوں؟ اور یہ کہ ’اگر بزرگ اپنے آپ کو جوان محسوس کریں تو یہ ان کی صحت کے لیے اچھا ہے‘۔
مودی صاحب، پرینکا حسین بھی ہیں اور جوان بھی، ان سے مقابلہ نہ ہی کریں تو آپکی درازی عمر کے لیے اچھا ہوگا۔ ایک مشورہ ہمارا بھی ہے۔ آپ پارکوں میں اور پبز میں نوجوان لڑکے لڑکیوں کو ہندوستانی تہذیب سکھاتے پھرتے ہیں، شاید ایک دو سبق کی آپکو بھی ضرورت ہے۔ ہم نے تو یہ ہی دیکھا ہے کہ بزرگوں کا سایہ سلامت رہے، اس کے لیے لوگ دعائیں کرتے ہیں۔ اپنی تہذیب مت بھولیے، ابھی بھی وقت ہے، اس بڑھیا کے قدموں تلے اپنی جنت تلاش کر لیجیے!
نہ انگریزی نہ کمپیوٹر

ملائم سنگھ یادو سماج وادی پارٹی کے لیڈر ہیں۔ وہ وزیراعظم بننا چاہتے ہیں اور وزیراعظم بننے کے بعد انگریزی زبان میں تعلیم اور نئے منصوبوں میں کمپیوٹرز کے استعمال پر پابندی لگانا چاہتے ہیں۔ یہ دھمکی ہم بہت زمانے سے سن رہے ہیں۔ کاش کہ آپ اپنے منصوبوں میں کامیاب نہ ہوں لیکن رہ رہ کر یہ خیال ضرور آتا ہے کہ یہ آئیڈیاز آپ کو آتے کہاں سے ہیں؟ آپ کے تو اپنے دونوں بیٹے باہر سے پڑھ کر آئے ہیں؟ انہیں کو دیکھ کر تو نہیں؟
حقیقت اور افسانہ
کبھی کبھی حقیقت اور افسانے میں فرق کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ جسپال بھٹی مشہور مزاحیہ فنکار ہیں اور اکثر سیاست اور سیاست دانوں پر طنز کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنی ’ریسیشن پارٹی‘ کا انتخابی منشور جاری کیا ہے۔ پارٹی کے ارکان نے وعدہ کیا ہے کہ وہ اپنی مالی صحت بہتر بنانے کے لیے جو ضروری ہوگا وہ کریں گے، چاہے چوری ہی کرنی پڑے۔ ’ہماری پارٹی کا نہ کوئی نظریہ ہے نہ اصول، ہم کسی سے بھی اتحاد کر سکتے ہیں بس وزیراعظم میں بنوں گا‘۔ ’جو بھی ہماری پارٹی کو چندہ دے گا، الیکشن جیتنے کے بعد جب کمائی شروع ہوجائے گی تو انہیں منافع میں حصہ دیا جائے گا۔۔۔‘۔مجھے یہ سمجھ نہیں آیا کہ اس میں طنز کہاں ہے، اس کے لیے نئی پارٹی کی ضرورت کہاں ہے؟ یہ سب تو سبھی سیاسی پارٹیاں بہت پہلے سے کر رہی ہیں!


















