اعظم گڑھ: شناخت کی تلاش میں مسلم نوجوان

- مصنف, پاننی آنند
- عہدہ, بی بی سی، اعظم گڈھ
- وقت اشاعت
’میرا بھائی بے قصور ہے۔ جو کسی کی چوٹ دیکھ کر ڈر جاتا تھا وہ کسی دہشت گردانہ کارروائی میں کیسے شامل ہوسکتا ہے؟‘ یہ کہنا ہے کہ عارف کی بہن کا۔ عارف اعظم گڑھ کے سنجر پور گاؤں کے رہنے والے ہیں اور ان دنوں لکھنؤ میں پولیس حراست میں ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ وہ لکھنؤ کی ایک عدالت میں 2007 میں ہونے والے دھماکوں میں ملوث تھے۔
پولیس کی نظر میں عارف ایک شدت پسند ہے۔
اس کی یہ پہچان بنی دلّی کے بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر کے سلسلے میں گرفتار کیے گئے اعظم گڑھ کے ایک نوجوان سیف کے موبائیل کے ذریعے۔
سیف کے موبائیل سے پولیس کو عارف کا نمبر حاصل ہوا تھا۔ پولیس سے گھر والے پوچھتے ہیں کہ عارف کا جرم کیا ہے، تو پولیس کہتی ہے کہ عارف بھی سیف کی طرح شدت پسندی کی کارروائیوں میں ملوث تھے۔ ثبوت سیف کے فون میں ان کا نمبر۔
پولیس سے اگر پوچھیں کہ عارف کون ہیں تو ان کا جواب ہے، ایک شدت پسند۔ سیاستدانوں سے پوچھیں تو وہ کہتے ہیں، ایک مسلمان جو والدین کے لیے بڑھاپے میں امید کی کرن تھا۔
آج عارف کی کہانی اعظم گڑھ کے تقریباً 17 نوجوانوں کی کہانی ہے جنہیں 2007 سے اب تک شدت پسند کارروائیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کیا جا چکا ہے۔
عارف کے گاؤں اور آس پاس کے نوجوانوں کی آنکھوں میں دیکھیں تو تکلیف اور ڈر صاف دکھائی دیتا ہے۔
اس علاقے میں کئی گھروں کے بچے اب اسی ڈر کی وجہ سے باہر نہیں جا سکتے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک نوجوان کا کہنا تھا ’ہم لوگوں کے ساتھ بہت برا ہو رہا ہے۔ پولیس اور سیاستدان خود کو بچانے کے لیے ہم لوگوں کے ساتھ ایسا کر رہے ہیں۔ سیاستدانوں کے پاس کچھ کرنے کے لیے نہیں ہے اس لیے ہم لوگوں کو پھنسایا جا رہا ہے۔ ملک کو توڑنے کی سیاست کی جارہی ہے۔‘
ایک اور نوجوان کا کہنا تھا ’اعظم گڑھ کے نوجوانوں کو، خاص کر ایک طبقے کے لوگوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ہمیں دہشت گردی کے نام پر پھنسایا جا رہا ہے۔‘
انسانی حقوق کے لیے کام کرنےوالے طارق کہتے ہیں کہ ’گزشتہ دنوں یہاں سماج وادی پارٹی کے شوپال یادو آئے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کی لڑائی لڑیں گے۔ پر اگر واقعی کچھ کرنا ہے تو پارلیمنٹ میں سوال اٹھانا چاہیے۔ بہوجن سماج پارٹی کے ٹکٹ پر لڑ رہے اکبر احمد ڈمپی بھی پارلیمنٹ میں سوال کیوں نہیں اٹھاتے۔‘
شدت پسندی اعظم گڑھ میں انتخابات کا اہم موضوع ہے۔ لیکن عارف کے گاؤں میں ماحول سنجیدہ ہے۔ لوگوں میں ناامیدی ہے۔ سیاستدانوں کے پاس انسانی حقوق کے نعرے ہیں، اور مسلمانوں کو باعزت زندگی دینے کے وعدے ہیں۔ سیاستدانوں کے ان وعدوں کے جواب میں یہاں کے نوجوانوں کے چہروں پر ایک کھوکھلی مسکراہٹ ہے۔






















