قصاب نے پاکستانی وکیل کا مطالبہ کیا

انجلی
،تصویر کا کیپشنانجلی واگھمارے پر اس سے قبل شیو سینا کے کارکنان نے بھی حملہ کیا تھا
    • مصنف, ریحانہ بستی والا
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ممبئی
  • وقت اشاعت

ممبئی حملوں کے مشتبہ حملہ آور ملزم اجمل قصاب نے آج خصوصی جج ایم ایل تہیلیانی سے اپنے دفاع کے لیے پاکستانی وکیل کا مطالبہ کیا ہے۔ آج ممبئی حملوں کے کیس کی سماعت کے پہلے ہی دن عدالت نے اجمل کی وکیل انجلی واگھمارے کو قانونی بنیادوں پر برطرف کر دیا۔

عدالت نے انجلی واگمھارے کو اس بنا پر اجمل قصاب کی وکالت سے ہٹایا ہے کہ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ممبئی حملوں کے ایک متاثرہ شخص کا مقدمہ لے رکھا ہے۔

عدالت نے کہا کہ انجلی واگھمارے کو غیر پیشہ وارنہ رویہ کی وجہ سے ہٹایا گیا ہے۔ جج ایم ایل تہلیانی نے کہا کہ '' یہ مناسب نہیں لگتا ہے ک انجلی واگھمارے کو اجمل کا وکیل باقی رکھا جائے، متاثرہ شخص اور ملزم کے مفاد میں تضاد ہے اس لیے ان کی تقرری فوری طور پر ختم کی جاتی ہے۔''

انجلی وگھمارے پر ممبئی حملوں میں متاثرہ ایک شخص شری وردھن کر کا بھی کیس لینےکا الزام ہے جو کامہ ہسپتال پر حملے میں ایک گواہ بھی ہیں۔ لیکن واگھمارے کا کہنا ہے کہ وہ شری وردھن سے ایک بار ملی ضرور ہیں لیکن ان کا کیس لڑنے کے لیے کسی کاغذات پر دستخط نہیں کیے ہیں۔

ایڈوکیٹ واگھمارے کو ہٹائے جانے کی اطلاع کے بعد اجمل نے کھڑے ہو کر جج تہیلیانی سےگزارش کی کہ انہیں پاکستانی وکیل فراہم کیا جائے۔ جج نے جواب میں کہا کہ انہیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔اگر حکومت پاکستان اپنی جانب سے فیس ادا کر کے کسی ہندستانی وکیل کو کیس کی پیروی کے لیے تیار کرتے ہیں یا پھر اپنی جانب سے کسی پاکستانی وکیل کو مقرر کر تے ہیں۔

جج نے مزید کہا کہ اس سے قبل ان کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا گیا تھا۔اجمل نے اس سے قبل پاکستانی سفارت خانے کو ایک خط لکھ کر اپنے لیے وکیل کی سفارش کی تھی۔

اجمل نے عدالت سے ایک مرتبہ پھر کوشش کی درخواست کی ہے ۔ جج تہیلیانی نے اجمل سے کہا کہ وہ پہلے سفارتی سطح پر پاکستانی وکیل کی گزارش کرنے کی کوشش کریں گے اگر کل تک جواب مل گیا تو ٹھیک ہے ورنہ پھر لیگل ایڈ پینل کے ذریعہ کسی سینئر وکیل کو مقرر کیا جائیگا۔

بھارتی وکلاء قانون کے مطابق کوئی بھی غیر ملکی یہاں پر کسی ملزم کے کیس کی پیروی نہیں کر سکتا ہے تاہم وہ مخصوص حالات میں بار کاؤنسل سے اجازت لینے کے بعد ملزم کی پیروی کرسکتے ہیں

اجمل امیر قصاب
،تصویر کا کیپشناجمل عدالتی کارروائی کے دوران مسکراتے ہی رہے

قصاب کو وکیل نہ ملنے کے سبب اس مقدمے کی سماعت میں تاخیر ہوئی ہے اور جب پہلے دن آرتھر روڈ جیل میں بنائی گئی خصوصی عدالت میں اس کی سماعت شروع ہوئی تو اس کی پہلی بڑی خبر یہ آئی کہ اجمل کے دفاع کے لیے مقرر کردہ وکیل کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔

بی بی سی کی نامہ نگار پراچی پنگلے سماعت کے دوارن وہاں موجود تھیں جن کے مطابق اجمل کو زبردست سکیورٹی میں مقامی وقت کے مطابق گیارہ بجکر اڑتیس منٹ پر عدالت میں لایا گيا۔ ان کے ساتھ دوسرے دو ملزم بھی تھے۔

اجمل نے جج کو سلام کیا اور پھر وہ مسکرائے بلکہ پوری کارروائی کے دوران وہ مسکراتے ہی رہے۔ جج ایم ایل تہیلیانی نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ کچھ کہنا چاہتے ہیں؟ اس پر اجمل نے کہا کہ ابھی وہ کچھ نہیں کہیں گے اور انہیں جو بھی کہنا ہوگا وہ اپنی وکیل کو بتا دیں گے۔

اجمل نے سرمئی رنگ کی ٹی شرٹ پہن رکھی تھی اور کالے رنگ کا پاجامہ جس پر سرخ رنگ کی سٹرپز تھیں۔ ان کی داڑھی بڑھی ہوئی تھی۔

کارروائی کے دوران اجمل نے اپنے ایک دوسرے ساتھی ملزم فہیم سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن جج نے کہا کہ عدالت میں بات کرنا منع ہے۔