گھورکھپور کا گورکھ دھندا

گورکھ ناتھ کا مندر
،تصویر کا کیپشنگورتھ ناتھ مندر کی گدی کے جانشین یوگی آدتیہ ناتھ چوتھی مرتبہ الیکشن لڑ رہے ہیں
    • مصنف, نادیہ پرویز
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، گورکھپور، انڈیا
  • وقت اشاعت

ہندوستان کی ریاست اتر پردیش کے گورکھپور ضلع میں ہندو عقیدت مندوں کا ایک مقدس مندر گورکھ ناتھ واقع ہے۔ گرو گورکھ ناتھ کے نام پر تعمیر کیے گئے اس مندر کی صدیوں پرانی تاریخ ہے۔ اسی مندر کی گدی کے جانشین اور گذشتہ تین مرتبہ سے رکن پارلیمان یوگی آدتیہ ناتھ چوتھی مرتبہ پارلیمانی انتخابات میں گورکھ پور انتخابی حلقے سے بھارتیہ جنتا پارٹی کے امیدوار ہیں۔

یوگی آدتیہ ناتھ کو ایک سخت گیر ہندو نظریاتی موقف رکھنے والے سیاستدان کے طور پر جانا جاتا ہے۔ انہيں دو ہزار سات ميں مسلم مخالف فسادات بھڑکانے اور ایک مسجد کو منہدم کرنے کے الزام میں گرفتار بھی کیا گیا تھا اور تب سے لیکر آج تک گورکھ پور اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں مسلمان انہیں ایک مسلم مخالف رہنما کے طور پر دیکھتے کرتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ تقریباً پچاس ایکڑ میں پھیلے ہوئے اس مندر کے چاروں طرف مسلم آبادی ہے۔ رسول پور نامی اس محلے کے سرفراز احمد پیشے سے ٹیچر ہیں، ان کے مطابق یوگی صرف فرقہ پرستی کی بات کرتے ہیں کبھی وہ علاقے کی ترقی کی بات نہیں کرتے۔ جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ ان کا ووٹ مانگنے کےلیے کون کون سے رہنما آئےتو ان کا کہنا تھا ’موجودہ رکن پارلیمان کو چھوڑ کر سبھی آئے تھے۔‘

سرفراز
،تصویر کا کیپشن’یوگی ہمیشہ فرقہ پرستی کی بات کرتے ہیں‘

وہيں ایک اور مقامی اخلاق احمد کا کہنا ہے کہ وہ اپنے رکن پارلیمان سے خوش نہیں ہیں۔ ’وہ فسادات کرواتے ہیں اور پھر کرفیو لگتا ہے جس سے ہماری روزی روٹی متاثر ہو جاتی ہے۔‘

مندر کے اعتراف میں سیکنڑوں دکانیں ہیں جن میں کئی دکانیں مسلمانوں کی بھی ہیں۔ جب مندر کا خصوصی میلہ منقد کیاجاتا ہے تو اس وقت دکانداروں میں مسلمانوں کی تعدا زیاہ ہوتی ہے۔

ایک اور دکان دار عامر احمد نے بتایا کہ مندر کے اعتراف میں سو دکانیں ہوں گی جس ميں بیس سے پچیس دکانیں مسلمانوں کی ہیں۔

مسلمان خواہ یوگی آدتیہ ناتھ کے بارے میں جو بھی کہیں لیکن ان کا اور ان کا اور ان کی پارٹی کا وفادار ووٹر اپنے رہنما سے بے حد مطمئن ہے۔ راجیو مدھیشہ بھی اسی احاطے میں ایک دکان دار ہیں اور کہتے ہیں کہ یوگی کبھی کوئی غلط بات نہيں کہتے ہیں اور ان کا ووٹ بالکہ یوگی آدتیہ ناتھ کو ہی جائے گا۔ جب ان سے یوگی کی فرقہ پرستی سے متعلق سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’وہ (یوگی) ہندوؤں کے محافظ ہیں۔ یوگی جب بولتے ہیں تو انسان میں جنون پیدا ہو جاتا ہے۔‘ آج اس انتخاجی حلقے میں ووٹ ڈالے جائيں گے۔ جہاں ووٹروں کی تعدا چودہ لاکھ سے زیادہ ہے۔یوگی آدتیہ ناتھ کے مقابلے میں بہوجن سماج پارٹی کے امیدوار ونے شنکر تیواری اور سماج وادی پارٹی کے امیدوار اور بھوج پوری فلموں کے مشہور و معروف اداکار منجو تیواری ہیں۔ تجزیہ کار مانتے ہيں کہ اگر اس انتخابی حلقے کا مسلم ووٹ بہوجن سماج پارٹی کی طرف چلا جاتا ہے تو یوگی آدتیہ ناتھ کی جیت خطرے میں پڑ سکتی ہے اور اگر ایسا نہیں ہوا تو گورکھناتھ مٹھ کا سکّا ایک بار پھر جم جائے گا۔