وہ دن دور نہیں۔۔۔۔

    • مصنف, سہیل حلیم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
  • وقت اشاعت

آؤٹ سورسنگ

لال کرشن آڈوانی پر مدھیہ پردیش کے کٹنی ضلع میں ایک انتخابی ریلی کےدوران جوتا پھینکا گیا
،تصویر کا کیپشنلال کرشن آڈوانی پر مدھیہ پردیش کے کٹنی ضلع میں ایک انتخابی ریلی کےدوران جوتا پھینکا گیا

تو لال کرشن اڈوانی بھی سیاسی رہنماؤں کی اس فہرست میں شامل ہو ہی گئے جن پر جوتے چپل پھینکے گئے ہیں۔ لیکن جس تیزی سے یہ بیماری پھیل رہی ہے، وہ سیاسی رہنما جن کی جان کو کوئی خطرہ نہیں، بلیٹ پروف شیشے کے پیچھے کھڑے ہونے کے بجائے اگر مچھر دانی کے جال کے پیچھے کھڑے ہوں، تو اپنی حفاظت کر سکتے ہیں۔

ناراضگی کے اظہار کا یہ طریقہ بلاشبہ مناسب نہیں، لیکن شاید وہ دن دور نہیں جب کوئی کمپنی آپ کی جانب سے یہ کام انجام دینے کے لیے بازار میں آجائے گی۔ آخر اتنی گرمی اور آؤٹ سورسنگ کے اس دور میں انسان صرف ایک چپل پھینکنے کے لیے کہاں کہاں دھکے کھائے!

ماں تو ہماری بھی مسلمان ہیں

یہ تو آپ نے سن ہی لیا ہوگا کہ جب سنجے دت ٹاڈا کے تحت جیل میں تھے تو ان پر تشدد کیا گیا۔کم سے کم ان کا یہ دعوی ضرور ہے۔

اور اب پارلیمانی انتخابات کی مہم کے دوران اتر پردیش میں مسلمانوں کے ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سنجے نے یہ بھی کہا کہ انہیں نشانہ اس لیے بنایا گیا کیونکہ ان کی ماں مسلمان تھیں۔ (سنجے سنیل دت اور نرگس کے بیٹے ہیں جنہیں آپنے عہد رفتہ کی مشہور فلم مدر انڈیا میں ضرور دیکھا ہوگا)۔

سنجے دت اب انتخابات میں حصہ نہیں لے رہے
،تصویر کا کیپشنسنجے دت اب انتخابات میں حصہ نہیں لے رہے

سنجے، ماں تو ہماری بھی مسلمان ہیں۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بات کچھ اور رہی ہو۔ مثال کے طور خطرناک خودکار رائفل، یا شاید دستی بم؟ کچھ یاد آیا؟ اور ہاں ایک بات اور۔ آپ نے تو سنا ہی ہوگا، پولیس اور بدمعاشوں کی نہ دوستی اچھی، نہ دشمنی۔ یہ آپ سے بہتر اور کون جان سکتا ہے، تو پھر آپ اس سے سبق کیوں نہیں لیتے؟

اب کون حفاظت کرے گا

ورن گاندھی کی جیل سے پیرول پر رہائی کی شرط یہ ہے کہ وہ نفرت آمیز بیانات نہیں دیں گے۔ پہلے ورن کا دعوی تھا کہ انہوں نے ہاتھ اور گلے کاٹنے کی بات کی ہی نہیں تھی، سی ڈی فرضی تھی اور انہیں پھنسانے کے لیے تیار کی گئی تھی۔ جیل میں کچھ دن سکون سے سوچنے کا موقع ملا تو انہیں یاد آیا کہ یہ سب باتیں انہوں نے کہی تو تھیں لیکن عام مسلمانوں کے لیے نہیں طالبان اور القاعدہ کے لیے۔ مجھے تو فکر یہ ہےکہ سپریم کورٹ سے وعدے کے بعد ورن گاندھی نے بھی چپی سادھ لی تو طالبان اور القاعدہ سے ہماری حفاظت کون کرے گا؟

سب میڈیا کی غلطی ہے

اور ہاں، ورن کا ذکر نکل ہی آیا تو ایک بات اور۔ میں پیلی بھیت گیا، جہاں ورن نے یہ تقریریں کی تھیں، تو بی جے پی اور وشو ہندو پریشد کے دو رہنماؤں نے مجھ سے کہا کہ 'جو کچھ ہوا اس کے لیے آپ ذمہ دار ہیں۔'

یں نے پوچھا میں تو پہلی مرتبہ پیلی بھیت آیا ہوں، مجھ سے کیا ہوگیا؟

وضاحت ملی:’مطلب میڈیا کی غلطی ہے‘

رات لال کرشن اڈوانی کا ایک انٹرویو دیکھ رہا تھا جو انہوں نے ہوائی جہاز میں سفر کرتے ہوئےایک ٹی وی چینل کو دیا تھا۔ اڈوانی صاحب کا بھی یہ ہی کہنا تھا کہ جو کچھ کیا میڈیا نے ہی کیا۔

میں معلوم کرنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ کیا واقعی یہ تقریریں میڈیا نے ہی کی تھیں، اور کیا اب سپریم کورٹ کو احتیاط برتنے کی ضمانت بھی میڈیا نے ہی دی ہے؟

اڈوانی صاحب، اگر واقعی ایسا ہے تو میں میڈیا کی جانب سے اخلاقی ذمہ داری قبول کرتا ہوں!