دھولیہ: مسلمان اپنے لیڈروں سے نالاں

بھِکو چوک
،تصویر کا کیپشنبھِکو چوک میں دھماکے ہوئے تھے۔
    • مصنف, ریحانہ بستی والا
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دھولیہ
  • وقت اشاعت

دھولیہ پارلیمانی حلقہ انتخاب میں اس وقت مالیگاؤں کے پاورلوم کی آواز انتخابی جلوس اور تقاریر کے شورغل میں دب کر رہ سی گئی ہے لیکن یہاں کے مسلمانوں کا غم غصہ اور دھولیہ کے مسلمانوں کا خوف ان آوازوں سے کہیں زیادہ ہے۔

انتخابی مہم کے آخری روز ہر پارٹی کے امیدوار کی ریلی اور جلوس تھا لیکن لوگوں میں وہ جوش اور خروش نہیں تھا جو اتنے بڑے الیکشن میں ہونا لازمی ہے۔

مالیگاؤں میں تو پھر بھی لیڈروں نے ایک جھلک ہی سہی لیکن دکھائی تاہم دھولیہ کے مسلمان تو اپنے لیڈروں کی جھلک دیکھنا تو دور ان کے حواریوں کی فوج کو بھی نہیں دیکھ سکے۔ عام دنوں جیسا سکون اور خاموشی۔

گزشتہ برس پانچ اکتوبر کو دھولیہ میں فرقہ وارانہ فساد ہوا تھا جس میں نو افراد ہلاک اور ایک سو ستر سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ موہاڈی گاؤں میں اپنی پانچ بیٹوں کے ساتھ رہنے والی ریحانہ شیخ رشید کا گھر لوٹ کر انہی کے پڑوسیوں نے جلا ڈالا تھا اور آج وہ اب تک اپنے گھر واپس نہیں جا سکی ہیں۔ کرائے کے مکان میں رہنے پر مجبور ریحانہ کا کہتی ہیں 'مجھے ڈر لگتا ہے میری جوان بیٹیاں ہیں۔‘

ریحانہ
،تصویر کا کیپشنمجھے ڈر لگتا ہے میری جوان بیٹیاں ہیں۔: ریحانہ

ریحانہ اپنے گھر نہیں جا سکتیں اس لیے وہ اور ان کی دو بیٹیاں اپنا حق رائے دہی استعمال نہیں کر سکیں گی کیونکہ ووٹ دینے جانے کی ان میں ہمت نہیں ہے۔ چہار جانب سے ہندوؤں میں گھرے مسلمانوں کے پچیس مکانات تھے۔ ان میں سے شاید کوئی بھی ووٹ ڈالنے نہ جا سکے۔

پنچیری چال میں رہنے والی معراج بی نو اکتوبر کے روز گھر سے نکلیں اور آج تک گھر نہیں لوٹ سکیں۔ ’میرے ساتھ وہاں منصوری برادری کے ایک سو اسی گھر ہیں۔ سب میری طرح در بدر ہیں۔ ہم ووٹ نہیں ڈال سکیں گے۔ اگر ووٹ دیتے تو کم سے کم بی جے پی کے ووٹ تو کم ہوتے لیکن ہم اس طرح اپنا حق استعمال کر کے اپنا غصہ بھی نہیں اتار سکتے۔‘

حجن ممتاز بیگم اب کہیں بھی جانے سے ڈرتی ہیں۔کہیں بھی چار لوگوں کو ایک جگہ جمع دیکھ کر خوف ہوتا ہے کہ کہیں پھر تو کچھ نہیں ہوا۔ ’ہم نے آنکھوں سے وہ سب دیکھا ہے اس لیے ابھی تک دل سے خوف نہیں گیا ہے۔‘ وہ صرف اس لیے ووٹ ڈالنے باہر نہیں نکلیں گی۔

انیس احمد
،تصویر کا کیپشنانیس احمد بم دھماکے کا نشانہ بنے

مالیگاؤں کی کہانی ان سے مختلف ہے۔ یہاں فرقہ وارانہ فسادات نے نہیں بلکہ بم دھماکوں کی وجہ سے لوگوں میں غم اور غصہ دونوں پایا جاتا ہے۔ ستائیس سالہ انیس احمد عبدالحفیظ کے جسم کا بایاں حصہ پوری طرح مفلوج ہو چکا ہے۔ بم کے چھرے ان کے ہاتھ اور پیروں میں گھس گئے تھے۔ اب وہ بیساکھی کے ذریعہ مصنوعی ٹانگ پر چلتے ہیں۔ ’مجھے صرف پچاس ہزار روپے دیے گئے۔ وہ اس وقت دواؤں کے لیے بھی کم تھے۔ پھر میرے کئی آپریشن ہوئے۔ آج کریانے کی دکان پر بیٹھتا ہوں اور اس سے ہونے والی آمدنی سے اپنے بوڑھے والدین اور بہنوں کا پیٹ پالتا ہوں۔‘

انیس اب کسی کو ووٹ دینا نہیں چاہتے کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا ’لیڈر ویسے بھی غریبوں کو کہاں پوچھتے ہیں‘۔

سن دو ہزار چھ میں مالیگاؤں کے قبرستان اور مسجد میں جو بم دھماکے ہوئے تھے اس میں انسداد دہشت گردی سکواڈ نے سیمی کے نو مبینہ اراکین کو گرفتار کیا تھا جس میں مالیگاؤں کے پانچ افراد تھے۔ ان میں ایک شبیر مسیح اللہ بیٹری والے بھی ہیں۔ ان کے بڑے بھائی جمیل سیاسی راہنماؤں سے نالاں ہیں۔ جب سے کرنل پروہت کا اقبالیہ بیان عدالت کے سامنے پیش ہوا ہے جس میں کرنل نے مبینہ طور پر یہ قبول کیا ہے کہ ان کی تنظیم نے اس سے قبل بھی دھماکے کیے ہیں، انہوں اپنے بھائی کی رہائی کے لیے تگ و دو شروع کر دی۔ سپریم کورٹ میں اپیل داخل کی ہے۔ مکوکا ہٹائے جانے کی اپیل پر عدالت میں سماعت ملتوی ہو گئی ہے لیکن فیصلہ آنا باقی ہے۔ جمیل کا کہنا ہے کہ اس دوران کوئی لیڈر ان کی یا دیگر ملزمان کے رشتہ داروں کی مدد کے لیے آگے نہیں آیا۔

جمیل کو غصہ ہے کہ انہوں نے کئی بڑے لیڈروں کو خط لکھے لیکن کسی نے جواب تک دینے کی زحمت گوارا نہیں کی، ’مسلمانوں کا آج تک صرف استحصال ہوتا آیا ہے۔ تو اب ہم سے ووٹ کی امید ہی کیوں کرتے ہیں‘۔

عافیہ
،تصویر کا کیپشنعافیہ کو اپنے زیر حراست شوہر سے ملنے پر تکلیف ہوتی ہے

ڈاکٹر فروغ مخدومی بھی اسی کیس میں ملزم ہیں۔اس وقت رتناگیری کی جیل میں قید ہیں۔ ان کے والد تو ہر تاریخ پر ان سے ملنے چلے جاتے ہیں لیکن اپنے دو چھوٹے بچوں کے ساتھ عافیہ اپنے شوہر سے ملنے نہیں جاتیں۔ وہ کہتی ہیں ’ان سے ملنے کے بعد تکلیف اور بڑھ جاتی ہے‘۔

اپنے حق کی لڑائی اور اپنی پہچان کی تلاش کرنے والے ملک کے ہر اس مسلمان کی طرح مالیگاؤں اور دھولیہ کا بھی مسلمان اس سب کے باوجود اس جمہوری طرز کا حصہ بننا چاہتا ہے۔ لیکن بیشتر اس کے خود کو دور رکھنا ہی بہتر سمجھتے ہیں کیونکہ اب ان کا دل اچاٹ ہو چکا ہے۔