انڈیا کے نہایت اہم مسلمان ووٹ

- مصنف, سووجیت بگچی
- عہدہ, بی بی سی نیوز، دلی
- وقت اشاعت
بھارتی حکومت کی’دہشتگردی کے خلاف جنگ‘ کانگریس پارٹی کو انتخابات میں بہت مہنگی پڑ سکتی ہے کیونکہ اس نام نہاد جنگ کے دوران مسلمان نوجوانوں کی گرفتاریوں اور مبینہ ماورائے عدالت ہلاکتوں پر مسلمان برادری کو غصہ ہے۔
جامع مسجد دلی کے بااثر امام سید احمد بخاری کا ایک حالیہ پریس کانفرنس میں کہنا تھا: ’ حکومت میں لوگ ہمیں دہشتگرد کا لقب بھی دیتے ہیں اور ہمیں ووٹ بینک کے طور پر استعمال بھی کرتے ہیں۔ یہ سلسلہ اب زیادہ دیر تک نہیں چل سکتا۔‘
گذشتہ اکتوبر میں شمالی دلی کے مسلمان علاقے میں پولیس کے ہاتھوں دو مسلمان نوجوانوں کی مبینہ ہلاکت کے بارے میں بات کرتے ہوئے سید احمد بخاری کا کہنا تھا کہ مسلمان ’انصاف چاہتے ہیں۔‘
اس سوچ کے نتیجہ میں کہ انہیں انصاف نہیں ملتا، بھارتی مسلمانوں نے گزشتہ کچھ مہینوں میں اپنی الگ سیاسی جماعتیں بنا لی ہیں۔ ان پارٹیوں کا مؤقف یہ ہے کہ انہیں انڈیا کی جمہوریت پر یقین ہے اور بقول انکے الگ مسلمان جماعتوں کے قیام سے وہ اس جہوریت کو ’مضبوط‘ کر رہے ہیں۔
ان تمام جماعتوں کے منشور میں ایک چیز مشترک ہے اور وہ ہے تمام طبقوں، خاص طور پر مسلمانوں کا ’تحفظ اور سکیورٹی۔‘ مثلاً مسلمانوں کی خاصی بااثر تنظیم آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’مسلمانوں کا تحفظ ایک بڑا مسئلہ ہے کیونکہ انڈیا میں ہر دھماکے کے بعد مسلمان نوجوانوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔‘ ترجمان کا الزام ہے کہ ’ایک منصوبے‘ کے تحت پولیس مقابلوں میں مسلمان نوجوانوں کو مار دیا جاتا ہے۔
مسلمان انڈیا کی آبادی کا تیرہ فی صد یا اس سے کچھ زیادہ ہیں، اور اکثریت اس بات پر ناخوش ہے کہ ملک کی پارلیمان میں ان کی نمائندگی ان کی آبادی کے تناسب کا نصف بھی نہیں۔

شاید یہی وجہ ہے کہ اِن انتخابات میں حصہ لینے والی چھوٹی بڑی مسلمان سیاسی جماعتوں کی تعداد گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں دگنی ہوگئی ہے۔ ان انتخابات میں حصہ لینے والی مسلمان جماعتوں میں جن کو اہم سمجھا جا رہا ہے ان میں اترپردیش میں آسام یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (اے یو ڈی ایف)، علماء کونسل اور انڈین پِیس پارٹی، تمل ناڈو میں یمل مسلم منترہ خاصاگام، مغربی بنگال میں پیپلز ڈیموکریٹک کونسل، کیرالا میں مسلم لیگ اور انڈین نیشنل لیگ جیسے تاریخی نام، بہار میں ڈیموکریٹک سیکولر پارٹی اور آندھرا پردیش میں مجلسِ اتحاد المسلمین شامل ہیں۔
یہ بڑے بڑے نام اپنی جگہ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ مسلمان سیاسی جماعتوں کے کٹر حامیوں کو بھی یقین نہیں کہ یہ جماعتیں انتخابات جیتنے جا رہی ہیں۔ اے یو ڈی ایف سے تعلق رکھنے والے تجزیہ کار برہان الدین قاسمی کہتے ہیں کہ ’ہمارا بنیادی مقصد کانگریس پارٹی کے ووٹ بینک کو تباہ کرنا ہے اور اس کے بعد کچھ نشستیں لینا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کئی مسلمان تو الگ سیاسی جماعتوں کے قیام کے پیچھے کارفرما منطق کو ہی درست نہیں سمجھتے۔ ان لوگوں کی دلیل یہ ہے کہ علماء کونسل جیسی جماعت تو انتخابات میں کوئی قابل ذکر کارکردگی نہیں دکھا سکے گی کیونکہ اس جماعت نے نہ تو کوئی منصوبہ بندی کی ہے اور نہ ہی اس کا کوئی واضح حدف ہے۔
بھارتی انتخابات کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اس جماعت کے جیتنے کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں جو نچلی ذاتوں کے ووٹوں کے علاوہ مسلمان آبادی کے ووٹ حاصل کرتی ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ آزادی کے پہلے پچاس برسوں میں قومی سطح پر کانگریس پارٹی بڑی تعداد میں مسلمان ووٹ حاصل کرنے میں اس لیے کامیاب ہوتی رہی کہ مسلمان سوچتے تھے کہ انہیں یہ ثابت کرنا ہے کہ وہ انڈیا کے ساتھ مخلص ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انڈیا میں ہندوستان کی تقسیم اور پاکستان کے قیام کا ذمہ دار مسلم لیگ اور اس کے سربراہ محمد علی جناح کو سمجھا جاتا ہے۔ تقسیم کے بعد انڈیا میں رہ جانے والے مسلمان روائتی طور پر کانگریس کی حمایت محض یہ ثابت کرنے کے لیے کرتے رہے کہ وہ انڈیا کے ساتھ مخلص ہیں۔
لیکن مشہور سیاسی تجزیہ کار یوگندر یادو کا خیال ہے کہ اب صورتحال ویسی نہیں رہی اور یہ کہ مسلمان جماعتیں بالغ ہوگئی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ ’ پہلے پچاس برسوں میں تقسیمِ ہند کے المیہ نے مسلمانوں کو اپنی مرضی کی سیاست کرنے سے روکے رکھا لیکن وہ دھیرے دھیرے اس سوچ سے نکل رہے ہیں۔ پچھلے تقریباً دس برسوں سے مسلمان اپنی بات کرنے لگے ہیں، اور یہ تبدیلی مسلمانوں اور جمہوریت دونوں کے لیے مثبت ہے۔‘
لگتا ہے کہ اعداد و شمار بھی یوگندر یادو کے اس خیال کی تائید کرتے ہیں کیونکہ مسلمانوں کی نئی نئی جماعتوں کے آنے کا مطلب یہ ہے کہ کسی ایک جماعت کو بھی مسلمان ووٹوں کا ساٹھ فی صد ملنے کی توقع نہیں ہوتی۔
لیکن کانگریس کا خیال ہے کہ انڈین مسلمانوں کو اپنی ایک الگ جماعت بنانے سے تقویت نہیں مل سکتی۔ پارٹی کے ایک رہنما عمران الرحمان قدوائی کہتے ہیں کہ: ’مسلمان جماعتیں روائتی طور پر کانگریس کو ووٹ دیتی رہی ہیں اور وہ مستقبل میں بھی ایسا کریں گی، کیونکہ ان کو معلوم ہے کہ کانگریس جیسی سیکولر پارٹی ہی ان کو تقویت دے سکتی ہے۔

قدوائی اس حقیقت سے بھی انکار کرتے ہیں کہ مسلمان نوجوانوں میں ’ عدم تحفظ کے جذبات‘ پائے جاتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ عدم تحفظ کوئی ایشو نہیں ہے۔
لیکن قدوائی کے خیالات کے برعکس انڈیا کی ایک ریاست ایسی ضرور ہے جہاں ایک مسلمان جماعت نے کانگریس کو بڑی مشکل میں ڈال دیا ہے۔ آسام میں مسلمانوں کے کل ووٹوں کا کم از کم بیس فیصد ’اسلامی ووٹوں‘ پر مشتمل ہے اور یہ ووٹ کانگریس کو نہیں ملیں گے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ آسام میں بی جے پی جیت سکتی ہے حالانکہ مسلمان عموماً بی جے پی کے خلاف ووٹ دیتے ہیں۔ اس خدشے کے باوجود اے یو ڈی ایف نے کانگریس کے خلاف مہم جاری رکھی ہوئی ہے۔
اے یو ڈی ایف کے انتخابی تجزیہ کار برہان الدین قاسمی کہتے ہیں کہ ’ بہت ہو چکی۔ جب بھی مسلمان کانگریس کے خلاف ووٹ ڈالتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ وہ بی جے پی کی حمایت کر رہے ہیں۔ کیا ہم بی جے پی جیسی دائیں بازو کی جماعتوں کی وجہ سے اپنی بات کہنا ہی چھوڑ دیں۔‘
مسلمان ووٹوں کے لحاظ سے کانگریس کے حلق میں جوگولی پھنستی ہے وہ سچر رپورٹ ہے۔ یاد رہے کہ سچر رپورٹ وزیراعظم کی جانب سے بنائی جانے والی ایک کمیٹی کی حتمی رپورٹ ہے جس میں انڈیا میں مسلمانوں کی حالت بہتر بنانے کے لیے کئی سفارشات کی گئی تھیں۔
اس رپورٹ کا آغاز بھی کانگریس نے کیا تھا۔ سنہ دو ہزار چھ میں پارلیمان میں پیش کی جانے والی یہ رپورٹ مسلمانوں کی سیاست کا محور بن چکی ہے اور اسے اکثر مسلمانوں کے مسائل کے حوالے سے بطور ثبوت پیش کیا جاتا ہے۔
ان انتخابات کے دوران بھی مسلمان جماعتیں اس رپورٹ کے حوالے سے کہہ رہی ہیں کہ اسکی سفارشات پر عمل درآمد نہیں ہوا ہے۔ سچر کمیٹی رپورٹ کے رکن ڈاکٹر ابو صالح شریف کہتے ہیں کہ ’ ہو سکتا ہے کہ کانگریس اور منموہن سنگھ نے اس رپورٹ کی تیاری کی منظوری دیکر بڑا قابل تحسین کام کیا ہو۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اقلیتی امور کی وزارت نے، مسلمان طلبہ کو وظیفے دینے کے علاوہ، اس رپورٹ کی سفارشات پر عمل درآمد کے لیے کچھ بھی نہیں کِیا۔
عمران قدوائی اس سے اتفاق نہیں کرتے اور ان کا کہنا ہے کہ کمیٹی کی بائیس میں سے انیس سفارشات پر عمل ہو چکا ہے۔ انہوں نے بڑے یقین سے کہا کہ ’مسلمان کانگریس کو ہی ووٹ دیں گے۔‘






















