ماؤ نوازوں نے ٹرین کا قبضہ چھوڑ دیا

جھارکھنڈ میں تشدد
،تصویر کا کیپشنپہلے مرحلے کی ووٹنگ میں تشدد کے واقعات پیش آئے تھے
    • مصنف, سلمان راوی
    • عہدہ, بی بی سی ، جھارکھنڈ
  • وقت اشاعت

ہندوستان کی ریاست جھارکھنڈ میں ماؤنواز باغیوں نے ایک مسافر ٹرین پر قبضہ کرنے کے کچھ دیر بعد اسے چھوڑ دیا ہے۔

ماؤنواز باغیوں نے بدھ کی صبح ریاست کے دھنباد زون میں واقع ہیہے گڑا ریلوے سٹیشن پر مغل سرائے سے براکاکانہ جانے والی ایک مسافر ٹرین پر قبضہ کر لیا تھا۔

اس ٹرین پر پانچ سو کے قریب مسافر سوار تھے جو سب محفوظ ہیں۔ ماؤ نواز باغیوں نے اس اغواء کو ایک علامتی قدم قرار دیا ہے۔

پولیس اہلکاروں نے بتایا ہے کہ ماؤ نواز باغی رات گئے برواڈیہ ریلوے سٹیشن سے اس ٹرین میں سوار ہوئے تھے اور ہیہےگڑا کے گھنے جنگلات والے پہاڑی علاقے میں ان لوگوں نے ٹرین پر قبضہ کر لیا۔ مسافروں کے علاوہ ٹرین کا ڈرائیور اور گارڈ بھی ماؤ نواز باغیوں کے قبضے ميں تھے۔

لاتاہیر ضلع کے اس علاقے میں سولہ اپریل کو ہوئے پہلے مرحلے کی ووٹنگ ميں انتخابات ہو چکے ہيں۔ ووٹنگ سے قبل یہاں نکسلی تشدد میں سنٹرل رزرو فورس کے دو جوان ہلاک ہو گئے تھے۔ اس کے جواب میں پولیس نے ووٹنگ کے بعد تصادم میں پانچ ماؤ نواز باغی مارنے کا دعوٰی کیا تھا لیکن گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ مارے گئے افراد ماؤنواز باغی نہيں بلکہ گاؤں والے تھے۔

ادھر ریاست جھار کھنڈ میں دوسرے مرحلے کی ووٹنگ سے قبل بھی دو مقامات پر نکسلی حملے ہوئے ہیں۔ ان حملوں میں ایک سٹیشن پر ریل کی پٹڑیاں دھماکے سے اڑا دی گئیں اور ایک عمارت کو بھی مسمار کر دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کے دوسرے مرحلے کے لیے نیم فوجی دستوں اور اضافی سکیورٹی افسرز کو ووٹنگ والے علاقوں میں بھیج دیا گیا ہے۔