عام انتخابات: مغربی بنگال اور کمیونسٹ

    • مصنف, صلاح الدین
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
  • وقت اشاعت

ہندوستان کی ریاست مغربی بنگال میں انتخابات کے تیسرے مرحلے یعنی تیس اپریل سے پولنگ شروع ہوگی جس کے لیے اس وقت انتخابی سرگرمیاں زوروں پر ہیں۔

ریاست میں بایاں محاذ گزشتہ بتیس برس سے اقتدار میں ہے۔ دنیا کی کسی بھی ریاست میں جمہوری طریقہ سے منتخب حکومت کی طرف سے اقتدار کی یہ طویل ترین معیاد ہے۔

گرچہ ریاست کیرالا میں بھی وہ اقتدار میں آتے رہے ہیں لیکن مغربی بنگال میں کامیابیوں کے سبب بایاں محاذ بعض دفعہ مرکز کی سیاست میں بھی اہم رول ادا کرتا رہا ہے۔

انتخابات آئے ہیں تو ایک بار پھر یہ بحث تیز ہوگئی ہے کہ آخر کمیونسٹ پارٹیاں اس ریاست میں اپنی کارکردگی کے سبب اقتدار میں ہیں یا پھر ان کی خاص طرز سیاست کے آگے مخالفین کی نہیں چلتی۔

مارکسی کمیونسٹ پارٹی کے سینیئر رہنما محمد سلیم کا کہنا ہے کہ ان کی پارٹی غریبوں اور کسانوں کی ترقی کے لیے کام کرتی ہے اس لیے وہ ریاست میں سب سے زیادہ مقبول ہے۔

محمد سلیم کے مطابق مغربی بنگال میں زمینی اصلاحات کا عمل ان کی پارٹی کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔' لیکن ہم نے تعلیم، روزگار، سماجی انصاف اور غریبی کو ختم کرنے کے لیے بھی بہت سے اقدامات کیے ہیں۔ فرقہ پرستی کو پنپنے نہیں دیا گیا اس لیے ہمارے حریف کوشش تو بہت کرتے ہیں کہ بایاں محاذ کو ختم کردیا جائے لیکن عوام کی حمایت حاصل ہے اس لیے ان کی چلتی نہیں۔''

مغربی بنگال حکومت میں زمینی اصلاحات کے شعبہ میں سابق سکریٹری دیبا برت بندھواپادھیائے کہتے ہیں کہ ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد اندرا گاندھی کے خوف کا سایہ تھا جس کے بعد انیس سو ستتر میں بایاں محاذ اقتدار میں آیا تھا۔'' یہ حقیقت ہے کہ لیفٹ نے ان غریب کسانوں کو جو دوسروں کی زمین کے سہارے گزر بسر کرتے تھے انہیں بعض حقوق دیے۔ یہ بہت اچھا قدم تھا کیونکہ زمیندار ان پر ظلم کرتے تھے لیکن ان غریبوں کو زمینداروں کی اراضی میں صرف کام کرنے کا ہی تو حق دیا گیاہے، زمین کی ملکیت آج تک نہیں دی گئی جبکہ اسی کا وعدہ کیا گیا تھا اور کسان آج بھی اس کے منظر ہیں۔''

دیبا برت کے مطابق غریب یہ سوج کر آج تک بایاں محاذ کی حمایت کرتے آئے ہیں کہ مارکسی کمیونسٹ پارٹی یعنی سی پی ایم انہیں ملکیت بھی دےگی لیکن '' ایسا برسوں سے نہیں ہوا اور نا ہوگا کیونکہ اب بایاں محاذ گاؤں میں زمیندار اور شہر میں بورژوا بن چکی ہے۔''

اس سلسلے بعض کسان کہتے ہیں ۔اچھلم مہتو کے کھیت میں مکئی بوئی ہے اور وہ بہت خوش ہیں۔ کہتے ہیں کہ زمین سی پی ایم نے دی ہے۔ '' میرے پاس ایک پرچی ہے جس پر ہمارے باپ کا نام ہے، زمین ہمارے نام تو نہیں لیکن بہت دن سے ہم اس پر کھیتی کرتے آئے ہیں اور خوشی اس بات کی ہے کہ ہمارے گھر کے پانچ چھ افراد کا خرچ چل جاتا ہے۔''

لیکن مہتو کے والد بوڑھے ہو چکے ہیں اور انہیں یہ بات ستانے لگی ہے کہ کہیں ان کے گھر سے یہ زمین چلی نا جائے۔ '' یہ سرکاری زمین ہے کئی لوگوں سے لی جا چکی ہے اس لیے مجھے بھی ڈر لگتا ہے۔''

اس بار انتخاب میں بایاں محاذ سے مقابلے کے لیے ریاست کی اپوزیشن جماعت ٹی ایم سی (ترنمول کانگریس) اور مرکزمیں حکمراں جماعت کانگریس ایک ساتھ مل کر انتخاب لڑ رہے ہیں۔ ٹی ایم سی کے نائب صدر پارس دتہ کہتے ہیں کہ اس بار بایاں محاذ کو چیلنج کیا گیا ہے۔ '' بتیس برسوں میں اس حکومت نے تعلیم، صحت، صنعت، ذراعت کے نظام کو تباہ کیا ہے اور غریبی کو بڑھاوا دیا ہے۔''

کانگریس کے رہنما راہل گاندھی انتخابی مہم کے سلسلے میں مغربی بنگال کے دورے پر ہیں۔ انہوں نے بھی بایاں محاذ پر غریبوں کی ان دیکھی کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

اپوزیشن جماعتیں بایاں محاذ پر الیکشن میں دھاندلی کرنے کا الزام بھی لگاتی رہی ہیں لیکن سی پی ایم اسے سختی سے مسترد کرتی ہے۔ ریاست میں اقلیتی امور کے وزیر عبدالستار کا کہنا ہے کہ اس طرح کی باتیں بائیں بازو کی جماعتوں کو بدنام کرنے کے لیے کی جاتی ہیں۔ '' اس الزام کا آج تک کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔ گزشتہ اسمبلی انتخابات میں انتخابی کمیشن نے تو بہت سختی اور نگرانی کی تھی اور کہا جارہا تھا کہ ہمارا صفایا ہو جائیگا لیکن ہماری تو سیٹیں بڑھ گئیں تھیں۔''

لیکن پارس دتہ کے مطابق دھاندلی بہت منظم طریقہ سے کی جاتی ہے جس کا آسانی سے پتہ نہیں چلتا'' ہم نے کئی بار کمیشن کو یہ دکھایا بھی ہے کہ کیسے ہوتی ہے۔ ''

کولکتہ میں اخبار ایشیئن ایج کے ایڈیٹر پرویز حفیظ کہتے ہیں کہ مغربی بنگال کے انتخابات میں دھاندلی کے متعلق بحث بڑی پرانی ہے لیکن اس کے ثبوت نہین ملتے۔ '' پچھلے انتخاب میں تو زبردست نگرانی ہوئی تھی لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ملا ۔''

بنگال میں بایاں سیاسی بیداری ہے اور اس ریاست میں اوسطا زیادہ فیصد پولنگ ہوتی ہے۔ محاذ کی کامیابی کی ایک وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ اس کا کارڈر سسٹم بہت مضبوط ہے۔ پرویز حفیظ کے مطابق یہاں سیاست دو خانوں میں تقسیم ہے۔ '' یا تو لوگ بایاں محاذ کے حامی ہیں یا پھر اس کے مخالف، درمیانی راستہ مشکل سے ملتا ہے اور کوئی بھی صورت حال پر تبصرہ کرتے مل جائیگا۔''

اپوزیشن پارٹیوں کا کہنا ہے کہ سی پی ائی ایم کے مستقل سیاسی کارکن ہیں جنہیں باقاعدہ تنحواہیں دی جاتی ہیں۔ دیبا برت بندھو اپادھیائے کہتے ہیں کہ تقریبا '' ہر محلّے سی پی ایم کے کار کن ہیں جن کا پیشہ ہی سیاست ہے اورا نہیں پارٹی تنخواہ دیتی ہے۔''

پارس دتہ کے مطابق یہ سب کو پتہ ہے کہ ان کے ہر علاقے میں فل ٹائم کار کن ہیں جنہیں پیسہ ملتا ہے'' اور اس میں بہت سا سرکاری پیسہ بھی استعمال ہوتا ہے۔'' لیکن بایاں محاذ ان تمام الزامات کو مسترد کر تی ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ اس کے حریف ایسی باتیں اسے بدنام کرنے کے لیے ایسا کرتی ہیں۔

ایک ایسے وقت جب سیاست پوری طرح بکھری ہوئی ہے اور کسی ایک جماعت کو اکثریت نہیں ملنے والی مرکز میں حکومت سازی کے عمل میں مغربی بنگال پھر سے اہم رول ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ بایاں محاذ کا دعوی ہے کہ وہ غیر بی جے پی او غیر کانگریس کا متبادل پیش کرے گی تو ترنمول کانگریس کہتی ہے اس بار وہ بایاں محاذ کو مرکز میں بلیک میل کرنے کا موقع نہیں دیگی۔