’کانگریس میں ہمیشہ پنڈتوں کا کنٹرول رہا‘

مسلمانوں کو جو چھوٹ دی گئی ہے وہ ختم ہونی چاہیے: اجیت سنگھ سندھو
،تصویر کا کیپشنمسلمانوں کو جو چھوٹ دی گئی ہے وہ ختم ہونی چاہیے: اجیت سنگھ سندھو
    • مصنف, اسد علی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، چنئی
  • وقت اشاعت

دلی سے ایئر انڈیا کی پرواز کے ذریعے میں ڈھائی گھنٹے میں جنوبی انڈیا کی ریاست تامل ناڈو کے دارالحکومت چنئی پہنچا۔ انڈیا کے کئی دوسرے شہروں کی طرح ماضی میں مدراس کے نام سے جانے جانے والے اس شہر کا نام بھی حال میں تبدیل کیا گیا ہے۔ لیکن شہر کی بات شروع کرنے سے پہلے میں سفر کا حال سنا دوں۔

جہاز میں میری ملاقات ہریانہ کے ایک جاٹ اجیت سنگھ سندھو سے ہوئی۔ انہوں نے باتوں باتوں میں مجھے ہریانہ کی سیر کروا دی اور ہندوستان کی سیاست پر بھی اپنا نقطہ نظر واضح کیا۔ گفتگو کے دوران انہوں نے ہندوستان ٹائمز کا مطالعہ جاری رکھا اور اس میں پاکستان کے بارے میں خبروں کی وضاحت مانگتے رہے۔

انہوں نے پہلے میرے کام، ذات اور علاقے کے بارے میں سوالات کیے۔ پھر بتایا کہ وہ کانگریس کی حمایت کرتے ہیں کیونکہ وہ ہمیشہ اپنے منشور پر پورا عمل کرتی ہے۔

انڈیا کے سیاسی حالات پر گفتگو شروع ہو گئی۔ اچانک انہوں نے میرے قریب آ کر دھیمی آواز میں کہا کہ مسلمانوں کو جو چھوٹ دی گئی ہے وہ ختم ہونی چاہیے۔ میں نے کہا کون سی چھوٹ۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ شادیاں اور زیادہ بچے پیدا کرنے کی چھوٹ۔ 'ملک کی آبادی کہاں سے کہاں نکل گئی ہے۔'

پاکستان کے بارے میں کچھ سوالات کرنے کے بعد انہوں نےکہا کہ عجیب بات یہ ہے کہ لوگوں سے ویسے ملو تو ایک ہی جیسے لگتے ہیں لیکن میڈیا دیکھ دیکھ کر خیال آتا ہے کہ ہم فرق لوگ ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ کھیلتے اور ملتے جلتے بڑے ہوئے۔ لیکن اب مسلمانوں کو دیکھ کر ذہن میں آتا ہے کہ 'اوئے یہ تو مسلمان ہے، یہ تو ایسا کرتے ہیں، ویسا کرتے ہیں'۔ انہوں نے بتایا کہ کرنال کے قریب ان کے گاؤں میں ایک بابا قلندر شاہ کا دربار ہے اور وہ ہمیشہ اس کی خدمت کرتے رہے ہیں۔

انڈیا کے کئی دوسرے شہروں کی طرح ماضی میں مدراس کے نام سے جانے جانے والے شہر چنئی کا نام حال میں تبدیل کیا گیا ہے
،تصویر کا کیپشنانڈیا کے کئی دوسرے شہروں کی طرح ماضی میں مدراس کے نام سے جانے جانے والے شہر چنئی کا نام حال میں تبدیل کیا گیا ہے

اجیت سنگھ کا کہنا تھا کہ ان کے دادا بھی دربار جاتے تھے اور انہوں نے بھی ایسا کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہاں مسلمانوں کے تقریباً سو گھر ہیں جن سے ان کا ملنا جلنا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پریشانی یہ ہے کہ ان کے دادا نے کبھی کوئی ایسی بات نہیں کی تھی، ان کے اپنے ذہن میں خیالات آنا شروع ہوئے ہیں تو ان کے بعد ان کا بچہ تو شاید مسلمانوں سے بات بھی نہ کرے۔

انہوں نے کہا کہ جاٹ تو بڑا سیکولر اور کھلے ذہن کا ہوتا ہے۔ وہ بار بار جاٹ اور ہندوؤں کی بات کرتے تھے۔ میں نے پوچھا کہ دونوں میں کیا فرق ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جاٹ مندر نہیں جاتا اور مورتی پوجا نہیں کرتا۔ انہوں نے کہ وہ زندگی میں صرف ایک بار اپنی شادی پر مندر گئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ گاؤں کے بیچ میں پتھر کا گنبد نما 'کھیڑا' ہوتا تھا اور اتوار کو پورا گاؤں اس کے گرد جمع ہو کر عبادت کرتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اب مندر جانے کا کچھ رجحان شروع ہوا ہے۔ 'جب ایک ماحول بن رہا ہو تو اثر تو ہوتا ہی ہے'۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک بار سر چھوٹو رام اور جناح صاحب کا الیکشن میں مقابلہ ہو گیا۔ جناح نے مسلمانوں سے دھرم کے نام پر ووٹ مانگا لیکن مسلمانوں نے کہا کہ نہیں ہم سر چھوٹو رام کو ووٹ دیں گے۔

اجیت سنگھ نے کہا کہ جناح نے ان سے وجہ پوچھی تو لوگوں نے جواب دیا کہ وہ تو ان کے دھرم بھائی ہیں لیکن دھرم تو بدلا جا سکتا ہے جبکہ چھوٹو رام خون کا بھائی ہے اور خون بدلا نہیں جا سکتا۔'

اسی طرح انہوں نے کہا کہ ایک بار جاٹوں کا ایک قبیلہ مسلمان ہو گیا۔ انہیں سمجھایا گیا اور واپس لانے کی کوشش کی گئی۔ اجیت سنگھ نے بتایا کہ ایک پنچایت کا فیصلہ ہوا لیکن پنڈتوں نے کام خراب کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ پنڈتوں نے کہا کہ یہ اب 'پوتر(پاک)' نہیں رہے اور دوبارہ ہندو نہیں بن سکتے۔

میں نے اجیت سنگھ سے پوچھا کہ ہندوستان میں حکمران طبقہ کونسا ہے؟ انہوں نے کہا کانگریس میں ہمیشہ پنڈتوں اور ٹھاکروں کا کنٹرول رہا ہے اور انہوں نے ہی حکومت کی۔ انہوں نے کہا کہ آپ دیکھ لینا مایا وتی کبھی وزیر اعظم نہیں بنے گی کیونکہ وہ چھوٹی ذات سے ہے۔

انہوں نے کہا کہ کانگریس اس بار حکومت نہیں بنائے گی بلکہ اپوزیشن میں بیٹھ کر تین سال انتظار کرے گی، پھر راہول گاندھی کا نام تجویز کر دے گی۔ انہوں نے کہا کہ اتنی زیادہ چھوٹی سیاسی پارٹیاں بننے کی وجہ بھی یہی ہے کہ پچھڑی ہوئی ذاتوں کو محسوس ہوا کہ کانگریس میں ان کی سنی نہیں جا رہی اور وہ ترقی نہیں کر سکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ جمہوریت کی یہی خوبی ہے کہ لوگوں اپنا غصہ نکال لیتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مایاوتی نے اسی لیے' اجگر' یعنی آہیر، جاٹ، گجر اور راجپوت کا نعرہ لگایا تھا کہ یہ لوگ اکٹھے ہو کر اپنے حق کے لیے لڑیں۔

اجیت سنگھ نے بتایا کہ ان کی ریاست ہندوستان کی سب سے چھوٹی ریاست ہے لیکن اس کے باوجود وہاں نامور کھلاڑی اور لوگ پیدا ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کارگل کی لڑائی میں بھی سب سے زیادہ شہید ہریانہ کے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہریانہ ملک کی واحد ریاست ہے جہاں بوڑھوں کو 'اولڈ ایج' بینیفٹ ملتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ سابق وزیر اعلیٰ دیوی لال نے شروع کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ جاٹوں کی بہادری کی وجہ سے ہی انگریزوں نے دلی میں راج دھانی بنائی تھی کیونکہ راج دھانی کے گرد اگر آبادی دلیر نہ ہو تو دفاع مشکل ہو جاتا ہے۔

انہوں نے ہنستے ہوئے کہا کہ انگریزوں نے کلکتہ میں افواہ پھیلائی کہ حملہ ہو رہا ہے تو ارد گرد کے قصبوں سے لوگ بھاگ گئے۔ یہی کام انہوں نے دلی میں کیا تو جاٹ اپنی لاٹھیوں کے ساتھ باہر آ گئے کہ چلو لڑائی دیکھ کر آئیں۔ 'اس کے بعد راج دھانی دلی آئی۔'

پھر انہوں نے جاٹوں کی بہادری کی ایک اور مثال دی۔ انہوں نے کہا کہ مغلوں نے ہندوستان میں اپنے راج کے لیے دوسری قوموں میں شادیاں کیں، لیکن وہ خواہش کے باوجود جٹوں سے نہیں کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ اکبر بادشاہ نے جودھا بائی سے شادی کے بعد جاٹوں سے بھی رشتہ مانگا تھا لیکن انہوں نے انکار دیا۔

انہوں نے کہا کہ جاٹوں کی پنچایت بلائی گئی جس میں فیصلہ ہونا تھا کہ 'بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے'۔ پھر ایک سرپنچ نے یہ ذمہ داری اپنے سر لی اور جا کر اکبر سے کہا کہ 'مہاراج ہمیں کچھ اور جو بھی کہہ لو، لیکن یہ نہیں ہونے کا'۔