دوستی کرنے آیا ہوں: راہول گاندھی

راہل اور عمرعبداللہ
،تصویر کا کیپشنراہل نے عمرعبداللہ کے ساتھ دوستی کا برملا اعلان کیا
    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر
  • وقت اشاعت

’میں یہاں سیاستدان بن کر نہیں، بلکہ اپنے دوست عمر عبداللہ کے لیے آیا ہوں۔ میں دراصل تمام کشمیری نوجوانوں سے دوستی کرنا چاہتا ہوں‘۔ یہ الفاظ یو پی اے کی سربراہ سونیا گاندھی کے بیٹے اور کانگریس کے جنرل سیکریٹری راہول گاندھی نے سرینگر سے پچپن کلومیٹر دُور اننت ناگ میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہے۔

راہول دراصل عمر عبداللہ کی پارٹی نیشنل کانفرنس کے حق میں انتخابی مہم کے لیے کشمیر کے ایک روزہ دورے پر آئے تھے۔ نیشنل کانفرنس فی الوقت کانگریس کی شراکت سے جموں کشمیر میں مخلوط حکومت کی قیادت کر رہی ہے اور عمر عبداللہ بھارت کے اب تک کے سب سے کم عمر وزیراعلیٰ ہیں۔

اس موقع پر اپنی تقریر میں راہول نے گاندھی اور عبداللہ خاندانوں کے تاریخی مراسم کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہا کہ ’میں پانچ چھ سال کا تھا جب اپنی دادی کے ساتھ یہاں آتا تھا۔ انہیں اور میرے والد راجیوگاندھی کو کشمیر سے کافی لگاؤ تھا‘۔

انہوں نے کرتے ہوئے کہا’ میں اور عمر نوجوان ہیں۔ عمر عبداللہ دس پندرہ دن کی سیاست نہیں پچیس تیس سال کی سیاست کرینگے۔ہماری سوچ پندرہ دن کی نہیں، تیس سال کی ہے۔ آپ کے لیے یہاں عمرعبداللہ ہیں اور میں دلّی میں ہوں، ہم مل کر کشمیر کو خوشحال بنائیں گے‘۔

راہول گاندھی اور عمر عبداللہ نے اپنی الگ الگ تقریروں میں اننت ناگ کے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ پی ڈی پی نہیں بلکہ نیشنل کانفرنس کے اُمیدوار کو کامیاب بنائیں۔ ’نیشنل کانفرنس کو ووٹ دینے کامطلب ہے منموہن سنگھ کو ووٹ دینا اور پی ڈی پی کو ووٹ دینے کا مطلب ہے آر ایس ایس ، بی جے پی اور ایڈوانی کو ووٹ دینا‘۔

یہ انتخابی جلسہ اننت ناگ کے ڈگری کالج میں منعقد ہوا، جہاں راہول گاندھی اور عمر عبداللہ ہیلی کاپٹر میں پہنچے۔ جلسے میں کانگریس اور نیشنل کانفرنس کے سینکڑوں حامیوں نے شرکت کی۔

واضح رہے کہ اننت ناگ انتخابی حلقہ جنوبی کشمیر کے چار اضلاع اور سولہ اسمبلی سیٹوں پر مشتمل ہے۔ یہاں تیس اپریل کو تیسرے مرحلے کے تحت ووٹ ڈالے جائیں گے۔ اس حلقے کے لیے چودہ امیدوار قسمت آزمائی کر رہے ہیں لیکن اصل مقابلہ نیشنل کانفرنس کے ڈاکٹر محبوب بیگ اور پی ڈی پی کے پیرمحمد حُسین کے درمیان ہوگا۔

قابل ذکر ہے کہ جنوبی کشمیر کی سولہ اسمبلی نشتوں میں سے پی ڈی پی بارہ پر قابض ہے۔ کانگریس کے پاس دو اور سی پی آئی ایم کے پاس ایک سیٹ ہے۔ نیشنل کانفرنس صرف ایک سیٹ پر برتری حاصل کرپائی ہے۔

مُبصرین اس خطے میں پی ڈی پی کی سیاسی بالادستی کو حکمران نیشنل کانفرنس کے لیے چیلنج سمجھ رہے ہیں۔