گجرات کے مسلمان ’زندہ لاشیں‘

- مصنف, شوتک بسواس
- عہدہ, بی بی سی، گجرات
- وقت اشاعت
ہندوستان میں عام انتخابات کی گہما گہمی تیز ہے اور سیاسی پارٹیاں اپنے اپنے مقصد کو حاصل کرنے میں مصروف ہیں۔ لیکن انتخابات کی گہما گہمی کے درمیان ریاست گجرات میں 2002 کے فرقہ وارانہ فسادات کے متاثرین کو سیاسی پارٹیوں نے بھلادیا ہے اور وہ ’زندہ لاشوں‘ کی طرح رہ رہے ہیں۔
2002 گجرات فسادات میں تقرییاً ڈیڑھ ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے اور تقریباً ڈیڑھ لاکھ افراد بے گھر ہوگئے تھے۔ بے گھروں کو پناہ گزین کمیپوں میں رہنے کی جگہ دی گئی تھی اور معاوضے کے طور پر حکومت کی جانب سے انہیں ڈھائی ڈھائی ہزار روپے دیئے گئے تھے۔ فسادات کے دوران بے گھر ہونے والے بیشتر افراد کا تعلق گجرات کے شہر احمد آباد سے تھا۔
ایسے ہی ایک متاثرہ ہیں چھتیس سالہ میراز احمد۔ میراز احمد خوش قسمت تھے کہ فسادات میں ان کے اہل خانے کا کوئی فراد ہلاک نہیں ہوا تھا۔ فسادات کے دوران وہ اپنے ایک ہندو پڑوسی کی وراننگ پر چمپن پورا علاقے سے اپنا گھر چھوڑ کر بھاگ نکلنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔
میراز احمد نے فسادات میں اپنا گھر اور نوکری گنوائی۔
میراز احمد کڑھائی کا کارخانہ چلاتے تھے اور وہ ماہانہ پندرہ سے بیس ہزار روپے کماتے تھے۔
فسادیوں سے بچنے کے لیے میراز نے جلدی میں اپنا گھر اپنے ایک ہندو پڑوسی کو تقریباً ڈھائی لاکھ روپے میں بیچ دیا تھا۔ گھر فروخت کرنے کے بعد میراز بمبےہوٹل نامی علاقے میں منتقل ہوگئے جہاں بیشتر متاثرین نے فسادات کے بعد پناہ لی تھی۔
میراز کی زندگی انتہائی کمپرسی کی حالت میں گزر رہی ہے۔ میراز نے کمائی کے لیے پانچ سلائی مشینیں لگائی ہیں اور اسے اپنی ’پروڈکٹس‘ بیچنے کے لیے کے لیے بارہ سے پندرہ کلومیٹر کی دوری کا سفر طے کرنا پڑتا اور ان کے بچے جس سرکاری سکول میں پڑھتے ہیں وہ جلد ہی ایک نئی بس لائن بننے کی وجہ سے منہدم کردیا جائے گا۔
میراز نے دوبارہ اپنی زندگی شروع کی ہے لیکن اب ان کے پاس اتنے پیسے اور ذرائع نہیں ہیں کہ وہ دوبارہ اپنا کارخانہ شروع کرسکیں۔ ان کا گھر چھوٹا اور ریاستی حکومت نے انہیں گھر کھونے کا معاوضہ تین سو روپے دیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
میراز کا کہنا ہے ’پہلے میں ایک اچھی زندگی گزار رہا تھا۔ اب میں زیادہ محنت کرتا ہوں اور مشکل سے بسر کر پاتا ہوں۔ زندگی رک تو نہیں سکتی لیکن کبھی کبھی لگتا ہے کم ہم زندہ لاشیں ہیں۔‘
میراز جیسے فسادات متاثرین کے لیے عام انتخابات کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔
فسادات کے سات برس بعد ریاست میں حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اور حزب اختلاف کی جماعت کانگریس پارٹیاں فسادات کے بعد آبادکاری اور انصاف دلانے کے مسئلے پر خاموش ہیں۔گجرات میں مسلمانوں کی شرح صرف دس فیصد ہے اس لیے یہ سیاسی جماعتوں کی توجہ بھی حاصل نہیں کر پاتے۔
میراز کا کہنا ہے ’ہم بی جے پی کو تو ووٹ دے نہیں سکتے ہیں اور کانگریس نے ہمارے ووٹوں پر فکس ڈپوزٹ کر دیا ہے۔ ہمارے پاس کوئی متبادل نہیں ہے۔‘
علاقے میں مٹھائی کی دکان چلانے والے شابت انصاری کا کہنا ہے کہ ’فسادات سے پہلے اس علاقے میں صرف گنے چنے گھر تھے۔ لیکن اب یہاں ڈیڑھ ہزار سے زیادہ گھر ہیں اور اسی ہزار رہائشی ہیں۔ ریاست کے بیشتر مسلمان یہاں آگئے ہیں۔ وہ یہاں اپنے آپ کو محفوظ پاتے ہیں۔‘
ان کا مزید کہنا ہے کہ ’ کوئی سیاسی پارٹی مسلمانوں کے لیے کچھ نہیں کرتی ہے۔‘
فسادات متاثرہ نور بانو اور ان کے شوہر عاشق علی بدر علی فسادات کے بعد اس علاقے میں آئے تھے اور مشکل سے اپنی گزر بسر کرتے ہیں۔
علی ایک آٹو رکشا چلاتے تھے اور روزانہ ڈیڑھ سو روپے کماتے تھے۔ لیکن اب ایک سیکورٹی گارڈ کی حیثیت سے کام کرتے ہیں اور مہینے میں اٹھارہ سو روپے کماتے ہیں۔
علی کی بارہ سالہ پڑوسی پتنگ بناتی ہیں اور زرین اسلم بھائی غانچی سیاسی پارٹیوں کے لیے بینرز بنانے کا کام کرتے ہیں اور ایک بینر سینے پر صرف ستر پیسے کماتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے ’سیاسی پارٹی بھی جب ہمیں نوکریاں دیتی ہیں یا کام دیتی ہیں تو ہمارا استحصال ہی کرتی ہیں۔‘
عاشق علی بدر کا کہنا ہے کہ وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو ووٹ دیں گے۔ ان کا کہنا ہے ’بھارتیہ جنتا پارٹی مسلمانوں کی کھلی دشمن ہے اور کانگریس چھپی دشمن۔ میں کھلے دشمن کے لیے ووٹ کرنا پسند کروں گا تاکہ ضرورت پڑنے پر میں ان کے پاس جا سکوں۔‘






















