کواتروکی کا نام انٹرپول فہرست سے خارج

- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
- وقت اشاعت
ہندوستان کی مرکزی تفتیشی ایجنسی سی بی آئی نے بوفورس توپ گھپلے کے مرکزی ملزم اوتاویو کواتروکی کے خلاف انٹرپول ریڈ کارنر نوٹس واپس لے لیا ہے۔
اطالوی شہری کواتروکی پر بوفورس توپوں کے سودے میں دلالی وصول کرنےکا الزام ہے۔
ان کے خلاف یہ نوٹس تقریباً دس سال پہلے جاری کیا گیا تھا لیکن الزامات کا سامنا کرنے کے لیے انہیں ہندوستان لانے کی تمام کوششیں اب تک ناکام رہی ہیں۔سی بی آئی نے نوٹس واپس لیے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت کو اس فیصلے سے تیس اپریل کو مطلع کیا جائے گا جب اس معاملے کی اگلی سماعت ہوگی۔
ہندوستان نے اسّی کے عشرے میں سوئیڈن کی بوفورس کمپنی سے تقریباً ایک اعشاریہ چار ارب ڈالر کی توپیں خریدی تھیں جس کے بعد انیس سو ستاسی میں یہ الزامات سامنے آئے کہ اس سودے میں چونسٹھ کروڑ روپے کی رقم بطور کمیشن وصول کی گئی تھی۔یہ رقم وصول کرنے کے سلسلے میں جن لوگوں پر الزامات عائد ہوئے ان میں کواتروکی کے علاوہ سابق وزیراعظم راجیوگاندھی اور دولت مند صنعت کار ہندوجہ برادران بھی شامل تھے۔
اطلاعات کے مطابق نوٹس واپس لینے کا فیصلہ اٹارنی جنرل میلون بینرجی کے مشورے پر کیا گیا ہے جن کا خیال ہے کہ یہ نوٹس غیر معینہ مدت کے لیے قابلِ عمل نہیں اور اب ہندوستان کے لیے شرمندگی کا سبب بن گیا ہے کیونکہ کواتروکی کو ہندوستان لانے کی تمام کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔ اس سے قبل کواتروکی کے وکیل نے اکتوبر دو ہزار آٹھ میں عدالت سے اس نوٹس کو منسوخ کرنے کی درخواست کی تھی۔
بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ کواتروکی کے خلاف قانونی کارروائی ختم کرنے کا فیصلہ ایک بڑا انتخابی موضوع بن جائے گا۔ پارٹی کے ترجمان پرکاش جاوڑیکر نے کہا کہ ’ کانگریس کہتی ہے کہ وہ عام آدمی کے ساتھ ہے لیکن در اصل وہ کواتروکی کےساتھ ہے۔ وہ نئی حکومت کے آنے سے قبل اس کیس کو داخل دفتر کرنا چاہتے تھے‘۔
تاہم کانگریس کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ اب ختم ہوچکا ہے کیونکہ عدالت سن دو ہزار چار میں اس پر اپنا فیصلہ سنا چکی ہے۔ کانگریس کے ترجمان ابھی شیک منو سنگھوی نے کہا کہ کانگریس کا اس معاملے سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔
کواتروکی کو سن دو ہزار سات میں ارجنٹائن میں گرفتار کیا گیا تھا لیکن وہاں کی مقامی عدالت کا خیال تھا کہ سی بی آئی نے جو ثبوت پیش کیے، وہ ناکافی تھے۔ کواتروکی ساٹھ کے عشرے میں ایک اطالوی گیس کمپنی کے نمائندے کی حیثیت سے پہلی مرتبہ ہندوستان آئے تھے۔ کانگریس کی موجودہ صدر سونیا گاندھی سے ان کی جان پہچان تھی اور کہا جاتا ہے کہ وہ گاندھی خاندان کے قریب ہوگئے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بوفورس توپ گھپلے نے ہندوستان کی سیاست کو ہلا دیا تھا اور انیس سو نواسی کے انتخابات میں کانگریس کی شکست میں دلالی کے الزامات نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ کواتروکی کو انیس سو ترانوے میں باقاعدہ طور پر ملزم بنایا گیا تھا۔






















