ممبئی: ووٹنگ کی رفتار سست

ممبئی ووٹرز
،تصویر کا کیپشنبیشتر ووٹرز کی شکایت ہے کہ ان کا نام ووٹنگ لسٹ سے غائب ہے۔
    • مصنف, ریحانہ بستی والا
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ممبئی
  • وقت اشاعت

ممبئی کے چھ پارلیمانی حلقوں میں پولیس کے زبردست پہرے میں ووٹ ڈالنے کا کام شروع تو ہو گیا لیکن ووٹنگ کی رفتار بہت دھیمی ہے۔

صبح سات سے دس بجے کے درمیان محض پندرہ فیصد ووٹ ڈالے گئے ہیں۔کئی مقامات پر رائے دہندگان ایک جگہ سے دوسری جگہ اپنا نام تلاش کرتے گھوم رہے ہیں۔ حتی کہ ممبئی حملوں میں ہلاک ہوئے اعلی پولس افسر ہیمنت کرکرے کی بیوی کویتا کرکرے کا نام بھی ووٹرز لسٹ میں نہیں تھا۔

بوریولی کے بوتھ نمبر ایک ترپن کے انچارج ناصر شیخ کے مطابق ان کے بوتھ میں محض پندرہ فیصد ووٹنگ ہوئی ہے اور یہ کافی کم ہے۔

شمالی ممبئی سے بی جے پی کے رام نائیک اور کانگریس کے سنجے نروپم کے درمیان کانٹے کی ٹکر ہو گی وہیں دوسری جانب شمال مغربی سیٹ سے کانگریس کے گروداس کامت اور شیو سینا کے گجانن کیرتیکر کے درمیان اور سماج وادی لیڈر ابو عاصم اعظمی کے درمیان سہ رخی مقابلہ ہے۔

شمال مشرقی ممبئی سے بی جے پی کرٹ سومیہ اور این سی پی کانگریس امیدوار سنجے پاٹل کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔لیکن یہاں نتیجہ چونکانے والا ہو سکتا ہے کیونکہ منسے کے شیشر شندے بھی میدان میں ہیں جو مراٹھی ووٹ کی تقسیم کر سکتے ہیں۔شمال وسطی ممبئی سے سنیل دت کی بیٹی پریہ دت یہاں سے میدان میں ان کے مقابلے میں بی جے پی نے ایڈوکیٹ مہیش جیٹھ ملانی کو ٹکٹ دیا ہے۔دت کی کامیابی یقینی بتائی جاتی ہے لیکن بہو جن سماج پارٹی کے امیدوار ابراہیم بھائی جان بہت سے مسلم ووٹ حاصل کر سکتے ہیں۔

جنوبی مبمئی کے سیٹ اس الیکشن کے لیےکافی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ وہاں سے موجودہ ایم پی اور مرکزی وزیر پیٹرولیم مرلی دیورا کے بیٹے ملند دیورا کھڑے ہیں۔اس مرتبہ ان کے لیے بھی یہاں سے مقابلہ بہو جن سماج پارٹی کے امیدوار محمد علی کی وجہ سے کافی مشکل ہو گیا ہے۔

ممبئی کے مضافات میں انتہائی حساس علاقہ بہرام پاڑہ میں محض ایک علاقے میں سو ووٹروں کا نام فہرست میں نہیں تھا۔اس علاقے میں رائے دہندگان کو فہرست میں ان کا تلاش کر کے بوتھ تک رہنمائی کرنے والے ورکروں کے مطابق اس مرتبہ الیکشن کمیشن نے لوگوں کے پتے میں تبدیلی کر دی ہے جس کی وجہ سے لوگ پریشان ہیں اور ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے سے بےزار ہو کر لوگ تھک کر گھر بھی لوٹ جاتے ہیں۔دھاراوی لیبر کیپم کے ووٹر رجب علی کا نام بھی ووٹرز لسٹ میں نہیں ہے اور وہ صبح سے پریشان ہیں۔

بیشتر حلقوں میں ضعیف افراد قطار میں کھڑے نظر آئے کیونکہ وہ کڑی دھوپ نکلنے سے پہلے ووٹ ڈال کر گھر لوٹ جانا چاہتے ہیں۔کھیرواڑی حلقے میں ایسے ہی ایک بزرگ پچھتر سالہ ایم کے چوہان نے ووٹ تو ڈالا لیکن وہ لیڈران سے بہت ناراض ہیں ان کا کہنا تھا کہ یہ امیدوار ہمیشہ سے ووٹ مانگنے آتے ہیں تو آپ کو باپ بنا لیتے ہیں لیکن پھر کہیں بھی دکھائی نہیں دیتے۔لیکن وہ چونکہ اپنی جوانی سے ووٹ ڈالتے ہیں اس لیے ووٹ دیتے ہیں۔

ہر علاقے کے حساب سے اس کے رائے دہندگان کی توقعات بھی مختلف ہے۔دھاراوی کے لیبر کیمپ علاقے کے بیشتر ووٹرز چاہتے ہیں کہ انہیں نئی حکومت پختہ مکانات بنا کر دے اور انہیں روزگار فراہم کرے۔بیشتر تو یہ بھی نہیں جانتے کہ ان کے ممبر پارلیمنٹ امیدوار کی ذمہ داریاں کیا ہیں وہ چاہتے ہیں کہ ان کی گٹریں صاف ہو اور پینے کا پانی ملے۔

اس مرتبہ بڑی تعداد میں بالی وڈ اداکاروں نے بھی اپنا حق رائے دہی کا استعمال کیا۔عامر خان اور شاہ رخ محض ووٹ ڈالنے ملک واپس لوٹے ہیں۔عامر اور جان ابراہام نے ووٹروں میں بیداری کے لیے مہم بھی شروع کی تھی۔