بعد میں کون پوچھے گا

    • مصنف, سہیل حلیم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
  • وقت اشاعت

بعد میں کون پوچھے گا؟

سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ 2002 کے گجرات فسادات میں مودی کے رول کی تفتیش کی جائے۔
،تصویر کا کیپشنسپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ 2002 کے گجرات فسادات میں مودی کے رول کی تفتیش کی جائے۔

سپریم کورٹ کے اس حکم کے بعد کہ گودھرا فسادات میں وزیر اعلی نریندر مودی کے رول کی جانچ کی جائے، مسٹر مودی نے ایک حیرت انگیز بات کہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان پر اگر جرم ثابت ہوگیا تو وہ جیل جانے کو تیار ہیں!

مودی صاحب، اخلاقی ذمہ داری کے بارے میں تو آپ نے سنا ہی ہوگا؟ آپ کو یہ بھی شاید معلوم ہو ہی گیا ہوگا کہ آپ کی حکومت کی ایک وزیر انہیں فسادات کے سلسلے میں جیل میں ہیں۔ بہت سے لوگ یہ مانتے ہیں کہ آپ چاہتے تو بہت سی جانیں بچا سکتے تھے۔ مجھے نہیں معلوم کہ یہ سچ ہے یا نہیں۔ لیکن ایک دو ہزار لوگوں کے مارے جانے کے بعد بھی آپ نے مستعفی ہونے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ تو کیا یہ نتیجہ اخذ کرنا غلط ہے کہ جو کچھ ہوا، آپ کی نظر میں وہ غلط نہیں تھا؟

چلیے پرانی باتیں چھوڑیے، یہ بتائیے کہ جرم ثابت ہوجانے کے بعد یہ آپ سے کون پوچھے گا کہ آپ جیل جانا چاہتے ہیں یا نہیں؟

اڈوانی سے رابطہ

آج کل اڈوانی صاحب سے فون پر ہی رابطہ رہتا ہے۔ کبھی وہ یہ بتاتے ہیں کہ ٹی وی پر ان کا خصوصی انٹرویو آنے والا ہے، کبھی یہ کہ بی جے پی ہی اس ملک کو ایک مستحکم سرکار دے سکتی ہے، کبھی۔۔۔

دن میں ایک دو ایس ایم ایس آہی جاتے ہیں۔ میں نہ انہیں جانتا ہوں، نہ ان سے کبھی ملا ہوں اور خدا گواہ ہے کہ میں نے کبھی ان کے کسی ایس ایم ایس کا جواب بھی نہیں دیا۔

کچھ لوگ اشاروں کی زبان نہیں سمجھتے۔شاید اسی لیے ایس ایم ایس کی بوچھار جاری ہے۔

اگر اڈوانی اشاروں کی زبان سمجھ سکتے تو اب بھی وزیر اعظم بننے کے خواب نہ دیکھ رہے ہوتے۔ ان کی پارٹی کے کئی بڑے رہنما اب اس انتخاب کی نہیں اگلے الیکشن کی بات کر رہے ہیں جب ان کا دعوی ہے کہ نریندر مودی وزیر اعظم کے عہدے کے امیدوار ہوں گے۔ بادشاہ کی زندگی میں ہی جانشین کی تاج پوشی؟

تو پھر اڈوانی پریشان کیوں نہیں ہیں؟ کیا ان کا خیال ہے کہ اگلے انتخابات تک وہ انکوائری مکمل ہو چکی ہوگی جس کا حکم سپریم کورٹ نے دیا ہے۔

مجھے اس کا جواب نہیں معلوم کیونکہ جیسا میں نے کہا میں تو اڈوانی صاحب کو جانتا تک نہیں!!