کشمیر پولنگ: ووٹروں میں جوش کی کمی

علیحدگی پسندوں کی طرف سے ہڑتال اور احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر پوری وادی میں سخت سکیورٹی انتظامات کیے گیے ہیں
،تصویر کا کیپشنعلیحدگی پسندوں کی طرف سے ہڑتال اور احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر پوری وادی میں سخت سکیورٹی انتظامات کیے گیے ہیں
    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر
  • وقت اشاعت

ہندوستان کے پارلیمانی انتخابات میں آج پہلی مرتبہ وادی کشمیر کے ایک حلقے میں پولنگ ہو رہی ہے لیکن رائے دہندگان میں وہ جوش نہیں ہے جو انہوں نے اسمبلی انتخابات میں دکھایا تھا۔

اننت ناگ کا پارلیمانی حلقہ چار ضلعوں پر محیط ہے۔ شہر اور دیگر قصبوں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم میں اکیس افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

علیحدگی پسندوں کی طرف سے ہڑتال اور احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر پوری وادی میں سخت سکیورٹی انتظامات کیے گیے ہیں۔ ہڑتال اور سکیورٹی کی پابندیوں کے باعث عام زندگی ٹھپ ہوکر رہ گئی ہے۔

جنوبی کشمیر کے پلوامہ ضلع میں جمعرات کی صبح نوجوانوں نے گاڑیوں کے ٹائر جلاکر مظاہرہ کرنے کی کوشش کی لیکن نے پولیس نے انہیں منتشر کر دیا۔

اننت ناگ، پلوامہ، شوپیان اور کلگام میں لوگوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انتخابات کے تئیں عدم دلچسپی کا اظہار کیا۔

اننت ناگ کے عبدالرحمان ڈار نے ووٹ ڈالنے کے بعد بتایا کہ علیحدگی پسندوں کی کال اور کھیتی باڑی میں مصروفیت کی وجہ سے لوگوں میں ووٹنگ کے تئیں جوش و خروش نہیں ہے۔

ادھر شوپیان کے ٹاؤن ہال میں قائم ایک پولنگ بوتھ پر مبینہ دھاندلیوں کے خلاف بعض خواتین نے احتجاج کیا۔

لیکن مقامی لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ دوپہر بعد پولنگ کی رفتار میں تیزی آسکتی ہے۔

اننت ناگ پارلیمانی حلقے میں حکمراں نیشنل کانفرنس اور حزب اخفلاف پی ڈی پی کےدرمیان راست مقابلہ ہے۔ حلقے میں گیارہ لاکھ پینسٹھ ہزار ووٹر ہیں اور میدان میں تیرہ امیدوار ہیں۔

اس حلقے کے تمام چودہ سو پچاسی پولنگ مراکز کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے جہاں بھاری تعداد میں پولیس اور نیم فوجی دستے تعینات ہیں۔

حریت کانفرنس کے ایک دھڑے کے سربراہ سید علی گیلانی نے منگل کی شام سے جمعرات شام تک پچاس گھنٹے کی ہڑتال کی کال دی تھی جس کی میر واعظ عمر فاروق کی سربراہی وال حریت دھڑے نے حمایت کی تھی۔