ممبئی سے حیدرآباد کے لیے رواں دواں

بی بی سی ٹرین
،تصویر کا کیپشنبی بی سی ٹرین اپنے دوسرے پڑاؤ میں حیدرآباد میں ہے
    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، حیدرآـاد
  • وقت اشاعت

بی بی سی کی خصوصی الیکشن ٹرین شروع ہوئے آج ایک ہفتہ ہو چکا ہے۔ ٹرین کا آغاز دارالحکومت دلی سے ہوا تھا اور یہ احمد آباد سے ہوتے ہوئے ممبئی پہنچی اور اب یہ حیدرآبا د کی طرف بڑھ رہی ہے جو اس سفر کی درمیان کی منزل ہے۔ میں یہ ڈائری جس وقت ریکارڈ کر رہا ہوں ہماری یہ ٹرین آندھرا پردش کے اندرونی دیہی علاقوں سے گزر رہی تھی۔

حیدرآباد سے یہ ٹرین اڑیسہ پہنچے گی وہاں سے ہماری اگلی منزل مغربی بنگال ہے۔ آخری مرحلے میں ہم پٹنہ اور پھر الہ آباد ہوتے ہوئےتیرہ مئی کو واپس دلی پہنچیں گے۔ اس دن پارلیمانی انتخاب کا آخری مرحلہ ہوگا۔

ہماری خصوصی ٹرین جن صوبوں سے گز رہی ہے وہ پارلیمانی انتخابات میں فیصلہ کن کردار ادا کریں گے۔ ریلوے نظام ہندوستان میں دور دراز تک پہنچنے کا سب سے اہم ذریعہ ہے۔ بی بی سی نے الیکشن کوریج کے لیے ٹرین کا انتخاب اسی لیے کیا تاکہ اصل ہندوستان کو دیکھا جا سکے اور اسے پیش کیا جا سکے۔

ممبئی سے حیدرآباد جاتے ہوئے مہاراشٹر اور آندھرا پردیش کے کپاس کے وہ زرعی علاقے بھی نظر آئے جہاں آج بھی کسانوں کی خود کشیاں جاری ہیں۔ حد نظر تک پھیلی ہوئی کالی مٹی کو دیکھنے سے ایسا لگتا ہے کہ جیسے یہ زمین کسانوں کی تقدیر کو بھی سیاہ کر گئی ہے۔

مہاراشٹر سے لے کر آندھرا پردیش تک ہزاروں کسان خود کشی کر چکے ہیں۔ ستر ہزار کروڑ روپے کے قرضے معاف کرنے سے بھی کسانوں کی زندگی میں کوئی بنیادی فرق نہیں آیا ہے۔ صدیوں پہلے بھی کسان افلاس اور غربت کے یرغمال تھے اور آج اس صدی میں بھی وہ موت کے کگر پر ہیں جسے بہت سے لوگ ہندوستان کی صدی سے تعبیر کرتے ہیں۔

دور تک پھیلی ہوئی کپاس کی کالی زمینوں کو دیکھتے ہوئے مجھے اچانک ممبئی اور حیدرآباد یاد آیا جہاں کی اونچی اونچی بلند و بالا شیشے کی عمارتیں۔ بڑے بڑے ہوٹل اور شاندار مکانات ترقی اور خوشحالی کا پتہ دیتے ہیں۔ ایک طرف صرف زندہ رہنے کے لیے جدوجہد کرنی پڑ رہی ہے تو دوسری جانب دولت کی اتنی فراوانی ہے کہ لوگ ایسے ہوٹلوں اور ریستورانوں میں معمول کی طرح کھاتے پیتے ہیں جہاں ایک پیالی دال چار سو روپے اور ایک کپ چائے تین سو روپے میں ملتی ہے۔

احمد آباد ہو ممبئی یا حیدرآباد ، دیہی علاقوں کے کسانوں کی طرح ان بڑے شہروں میں بھی لاکھوں لوگ اپنا وجودکسی طرح برقرار رکھنے کی جدوجہد میں ہیں۔ ممبئی سے حیدرآباد کے اس سفر میں وہ کالی زمین بہت دور تک میرا تعاقب کرتی رہی اور میں بس یہ سوچتا رہا کہ تہذیب و ترقی کی اس منزل پر آج بھی ہماری زمین پر آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ بنیادی سہولیت سے محروم ہے اور جس کے لیے زندگی محض بقا کی جنگ ہے۔ ان کے لیے زمین تنگ ہوتی جا رہی ہے اور جو کسی الیکشن کا موضوع نہیں ہے۔