کانچی پورم کی ساڑھی ہر میڈم کی پسند

Image
    • مصنف, اسد علی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، مہابلی پورم
  • وقت اشاعت

کانچی پورم کے قدیم اور خوبصورت مندروں سے نکلے تو قریب ہی سادہ سی گلی میں ساڑھیوں کی دکانوں کے سامنے سے گزرتے ہوئے دکانداروں نے روکنا شروع کر دیا کہ میڈم کے لیے زبردست ڈیزائین ہیں۔ ایک دکاندار کا کہنا تھا کہ ڈیزائین جیسا بھی ہو ہرعورت کانچی پورم ساڑھی پہننا چاہتی ہے۔ ’آپ بے فکر ہو کر کوئی بھی ڈیزائین لے جائیں وہ خوش ہوں گی۔‘

دلچسپ بات ہے کہ تمل ناڈو میں دو چار دکانداروں اور ان صاحب کے جو مجھے خصوصی پوجا کروا کر پیسے لینا چاہتے تھے کسی نے ہندی بولنے کی کوشش نہیں کی۔ ان کی کوشش سے کچھ زیادہ فرق نہیں پڑا لیکن کچھ کچھ بات ضرور سمجھ میں آئی۔

<link type="page"><caption> دیکھا ہندوستان(4)، </caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/india/2009/05/090503_asad_travelogue4_ra.shtml" platform="highweb"/></link><link type="page"><caption> دیکھا ہندوستان (3)، </caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/india/2009/04/090429_asad_travelogue3.shtml" platform="highweb"/></link><link type="page"><caption> دیکھا ہندوستان(2) </caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/india/2009/04/090428_asad_travelogue2.shtml" platform="highweb"/></link><link type="page"><caption> دیکھا ہندوستان(1) </caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/india/2009/04/090427_asad_travelogue1.shtml" platform="highweb"/></link>

دکاندار میرا انکار سننے کے لیے تیار نہ تھے اور ٹیکسی ڈرائیور بھی ان سے مل گیا۔ دکان میں جانا پڑا۔ مختصر سا چکر لگایا۔ اس دوران دکان میں پوجا بھی ہوتی رہی۔ ایک شخص پوجا والی تھالی گھما رہا تھا جس سے ہر طرف خوشبو اور دھواں پھیل گیا اور ایک لڑکی اس دوران مسلسل گھنٹی بجاتی رہی۔

میں نے خواہش ظاہر کی کہ ان لوگوں سے ملوایا جائے جو ساڑھیاں بناتے ہیں۔ ٹیکسی والے نے قریب ہی ایک دکان کے آگے گاڑی کھڑی کر دی اور ان سے تمل زبان میں بات کی۔ ایک شخص مجھے دکان کے پیچھے لے گیا جہاں قطار میں چھوٹے چھوٹے مکان تھے جن پر ساڑھیاں بنانے کا کام کام ہو رہا تھا۔

تمل زبان سے ناواقفیت کی وجہ سے زیادہ بات تو نہ ہو سکی لیکن کچھ تصاویر بن گئیں۔ یہ بھی معلوم ہو گیا کہ کانچی پورم ساڑھی بھاری ہوتی ہے، اس کا بارڈر چوڑا ہوتا ہے اور ان کے مطابق یہ دنیا کی ہر عورت کا خواب ہے۔

دکاندار نے بتایا کہ ساڑھیوں کے ڈیزائین کے لیے وہ مندروں میں بنے نقش و نگار اور اب کمپیوٹر کی بھی مدد لیتے ہیں۔

وہاں سے روانہ ہوئے تو مہابلی پورم روانہ ہو گئے۔ مہابلی پورم چودہ سو سال پرانے مندروں کے آثاروں کی وجہ سے مشہور ہے۔ ان میں مندروں کا وہ سلسلہ بھی شامل ہے جس میں سے ایک کے سوا باقی اب سمندر کے نیچے ہیں۔

کانچی پورم سے مہابلی پورم کا تقریباً ساٹھ کلومیٹر کا سفر ہے۔ زیادہ تر دیہاتی علاقوں سے گزرنا ہوا۔ سڑک کے کنارے وقفے وقفے سے مندر، مسجد، گرجا گھر نظر آتے رہے۔ جنوبی ہند کے مندروں کا ڈیزائین کچھ مختلف ہے۔ یہاں مندر کا گوپورام یعنی چھت والا حصہ رنگین مورتیوں سے مزین ہوتا جن کے ذریعے ہندومت کے مختلف کردار اپنے اپنے انداز میں دیکھے جا سکتے ہیں۔

سڑک کئی مقامات پر مکمل طور پر دونوں طرف لگے درختوں کے سائے میں تھی۔ ایسے معلوم ہوتا ہے جیسے آپ سبز سرنگ میں سے گزر رہے ہیں۔ درخت ویسے ہی گھنے اور راستے کو دھوپ سے پناہ فراہم کر رہے تھے جیسے اٹھارہویں صدی کے مصنف دین محمد نے اپنے ہندوستان کے سفرنامے میں اس ملک کی شاہراہوں کے گرد لگے آم، املی اور دیگر درختوں کے بارے میں لکھا تھا۔

گرمیوں کی ایک تپتی دوپہر کو ہم مہابلی پورم پہنچے۔ وہاں بڑے بڑے پھتروں اور چٹانوں کا سلسلہ تھا جن میں مختلف مقامات پر مورتیاں تھیں اور پرانے مندروں کے آثار۔ یہ سب بھی قومی ورثہ قرار پا چکا ہے۔ اب یہاں پوجا نہیں ہوتی۔ چٹانوں پر راماین اور مہابھارت کی کہانیاں تصاویر کی صورت میں کندہ ہیں۔

بڑی تعداد میں سیاح جن میں واضح اکثریت مقامی لوگوں کی تھی جو یہ مندر دیکھنے آئی تھی۔ ایک دیوار پر ایک بزرگ کے سامنے تین بغیر سر والے لوگ بیٹھے دکھائے گئے ہیں۔ گائیڈ نے بتایا کہ یہ ایک استاد ہیں جو اپنے ان شاگردوں سے کسی وجہ سے ناراض ہیں۔

ناراض استاد کے  شاگرد
،تصویر کا کیپشنناراض استاد کے شاگرد

پتھروں پر یہ سب تصاویر ایک نسل میں مکمل نہیں ہوئی ہوں گی۔ ان کو دیکھ کر لگتا ہے کہ ان میں ربط اسی صورت میں قائم رہ سکتا تھا کہ کہانی ایک نسل سے دوسری تک مکمل طور پر اپنی تمام تر باریکیوں کے ساتھ منتقل کی جائے۔

کہا جا سکتا ہے کہ ان تصاویر کو دیواروں پر کندہ کرنے والے سنگ تراش بھی ہندومت کی کہانیوں کے اہم امین تھے۔ کہیں کہیں دیواروں پر صرف چکور نشان بنے تھے۔ ان کے بارے میں بتایا گیا پہلے دیوار میں ایک حصہ چکور شکل میں تراشا جاتا تھا پھر اس پر تصویر بنتی تھی۔ مطلب یہ کہ چکور نشان کسی انکہی کہانی کی نشانیاں تھے۔

ایک ستون پر پہلی نظر میں نہ سمجھ میں آنے والی تصویر تھی۔ لیکن اس کے ایک حصے پر ہاتھ رکھا تو گائے کی تصویر بن گئی، قریب ہی دوسرا ہاتھ رکھا تو بچھڑا بھی نظر آنے لگا اوران دونوں پر ہاتھ رکھا تو ہاتھی کی تصویر بن گئی۔ سنگ تراش کی کاوش یقیناً قابل تعریف تھی۔

قریب ہی ساحل پر ایک اکیلا مندر تھا۔ وہاں موجود ایک گائید نے بتایا کہ اس کے ساتھ چھ اور مندر تھے جو اب سمندر کے نیچے ہیں اور جب سونامی آئی اور سمندر کا پانی پیچھے ہٹا تو مقامی لوگوں نے ان مندروں کو دیکھا تھا۔

انہوں نے ساحل پر موجود مندر کے قریب ہی ایک مورتی کے بارے میں بتایا کہ یہ پہلے ریت کے نیچے تھی لیکن سونامی کے بعد ظاہر ہوئی ہے۔

وہاں سے چلتے ہوئے قریب ہی ہاتھ کی بنی ہوئی مقامی اشیاء کی دکان نظر آئی۔ گائیڈ نے چوکیدار سے کچھ بات کرنے کے بعد مجھے کہا کہ آپ اندر چلے جائیں۔ اس نے بعد میں مجھے بتایا کہ یہ لوگ ہندوستانیوں کو اندر نہیں جانے دیتے کیونکہ ان کے مطابق وہ وقت ضائع کرتے ہیں۔

مہابلی پورم سے چنئی انتہائی خوبصورت ای سی آر نامی شاہراہ پر ہے جو ساحل سمندر کے ساتھ بل کھاتی جاتی ہے۔ کئی مقامات پر ناریل کے جھومتے پیڑ اور ویران ساحل پر پڑی مچھیروں کی کشتیاں پوسٹ کارڈوں پر نظر آنے والی تصاویر کا نقشہ پیش کرتے ہیں۔