ثبوت پاکستان کو سونپنےکی اجازت

گزشتہ برس چھبیس نومبر کو ممبئی پر شدت پسند حملے ہوئے تھے جس  میں ایک سو ساٹھ افراد ہلاک اور تین سو سے زائد زخمی ہوئے تھے۔
،تصویر کا کیپشنگزشتہ برس چھبیس نومبر کو ممبئی پر شدت پسند حملے ہوئے تھے جس میں ایک سو ساٹھ افراد ہلاک اور تین سو سے زائد زخمی ہوئے تھے۔
    • مصنف, ریحانہ بستی والا
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ممبئی
  • وقت اشاعت

ممبئی حملوں کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت نے ان حملوں سے متعلق ثبوتوں کو حکومت پاکستان کے حوالے کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

ممبئی حملوں کی تفتیشی ایجنسی کرائم برانچ نے حملوں سے متعلق جتنے بھی ثبوت جمع کیے ہیں وہ اب حکومت پاکستان کو سونپ دیے جائیں گے اس کی اجازت آج ممبئی حملوں کی سماعت کرنے والی عدالت کےخصوصی جج ایم ایل تہیلیانی نے دی ہے۔

سرکاری وکیل اجول نکم نے آج عدالت میں دو عرضیاں داخل کی تھیں جن میں انہوں نےممبئی حملوں سے متعلق کچھ ثبوت پاکستانی حکومت کے حوالے کیے جانے اور کیس کے پینتیس ملزمین کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ جاری کیے جانے کی اپیل کی تھی۔

عرضي میں سرکاری وکیل نے کہا تھا کہ وہ تمام ثبوت جو استغاثہ کے پاس موجود ہیں اور جو اس کیس کی بنیاد ہیں وہ انہیں پاکستان کے حوالے کرنے کے لیے عدالت سے ان کی تصدیق شدہ کاپی چاہتے ہیں۔اس میں ملزم محمد اجمل قصاب کا اقبالی بیان ، ٹیلی فون کالز کی رپورٹ، قصاب اور ان کے ساتھی ابو اسماعیل کی ڈی این اے رپورٹ وہ سامان جو کشتی الکوبیر سے حاصل کیا گیا تھا، شامل ہیں۔

ساتھ ہی ایڈوکیٹ نکم نے عدالت سے کیس کے 35 انتہائی اہم ملزمان جنہوں نے ممبئی حملوں کے مبینہ ملزمین کو نہ صرف تربیت دی تھی بلکہ وہ ممبئی حملوں کی سازش رچنے کے بھی ملزم ہیں ان کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ جاری کرنے کی اپیل کی ہے۔ ان ملزمین میں لشکر طیبہ کے اعلی کمانڈر ذکی الرحمن لکھوی، ابو حمزہ، حافظ سعید سمیت پینتیس ملزمان شامل ہیں۔

عدالت نے اس عرضی پر فیصلہ فی الحال محفوظ رکھ لیا ہے۔عدالت کا کہنا تھا کہ پہلے ملزمان محمد اجمل قصاب، فہیم انصاری اور صباح الدین شیخ کے خلاف فرد جرم عدالت میں عائد ہو جائے اس کے بعد اس عرضی پر فیصلہ کیا جائے گا۔

بدھ کے روز ممبئی حملوں کے تینوں مشتبہ گرفتار ملزمین کے خلاف سرکاری وکیل اجول نکم عدالت میں فرد جرم عائد کریں گے جس کے بعد کیس کی باقاعدہ سماعت شروع ہو گی۔سرکاری وکیل نے عدالت میں گیارہ ہزار سے زائد صفحات پر مشتمل چارج شیٹ پیش کر دی تھی لیکن فرد جرم ابھی عائد نہیں کیا گیا ہے۔

گزشتہ برس چھبیس نومبر کو ممبئی پر شدت پسند حملے ہوئے تھے جس میں ایک سو ساٹھ افراد ہلاک اور تین سو سے زائد زخمی ہوئے تھے۔