کشمیر: پولنگ کے دوران پتھراؤ

کشمیری ووٹر
،تصویر کا کیپشنسرینگر سمیت تین اضلاع میں سخت ترین سیکورٹی پابندیوں اور مکمل ہڑتال کے بیچ پولنگ جاری ہے
    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر
  • وقت اشاعت

لوک سبھا انتخابات کے چوتھے مرحلے میں بھارت کے زیرانتظام کشمیر کے دارالحکومت سرینگر سمیت تین اضلاع میں سخت ترین سیکورٹی انتظامات اور مکمل ہڑتال کے درمیان جمعرات کی صبح سات بجے ووٹنگ شروع ہوئی۔

جمعرات کو ہی ریاستی اسمبلی کے سرینگر کے سونہ وار حلقے کے لیے ضمنی انتخابات کے سلسلے میں بھی پولنگ ہورہی ہے۔ یہ حلقہ سرینگر، بڈگام اور گاندربل اضلاع پر مشتمل ہے، اور یہاں پر درج ووٹروں کی تعداد گیارہ لاکھ سے زائد ہے۔

گاندربل اور بڈگام کے بیشتر مقامات پر صبح سویرے ہی مرد اور خواتین ووٹروں کو پولنگ بوتھوں کی طرف جاتے دیکھا گیا، لیکن سرینگر میں پولنگ شروع ہوتے ہی مختلف مقامات پر نوجوانوں کی ٹولیاں سڑکوں پر نمودار ہوئیں جس کے بعد انہوں نے پولیس اور سرکاری املاک پر پتھراؤ کیا۔

اس دوران پُرانے سرینگر کے لعل بازار علاقے میں عمرکالونی پولنگ بوتھ پر نامعلوم نوجوانوں نے ایک پیٹرول بم پھینکا، جس سے پولنگ کچھ دیر کے لیے متاثر ہوئی۔

شہر کے زینہ کوٹ علاقے میں بھی پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم ہوا جس میں پانچ نیم فوجی اہلکاروں سمیت متعدد افراد زخمی ہوگئے۔

نواحی علاقے رام باغ میں بعض مشتعل نوجوانوں نے ایک پولنگ بوتھ پر دھاوا بول کر وہاں مائیکروفون کے ذریعہ 'آزاد کشمیر' کا ترانہ بجایا، جس کے بعد پولیس نے کارروائی کرکے انہیں منتشر کردیا۔

دریں اثنا شہر کی تاریخی جامع مسجد کے گرد نیم فوجی عملے کی اضافی نفری بٹھادی گئی ہے، اور وہاں جانے والے تمام راستوں کو سیل کردیا گیا ہے۔

کشمیر میں احتجاج
،تصویر کا کیپشنشہر کے بعض مقامات پر پتھراؤ اور احتجاج ہوا

جامع مسجد کے گردونواح میں کئی مقامات پر ممنوعہ لشکر طیبہ کے پوسٹر دیکھے گئے، جن پر عام لوگوں کو پولنگ سے دوُر رہنے کی تاکید کی گئی تھی۔ لشکر کے ترجمان ڈاکڑ عبداللہ غزنوی نے بی بی سی کو فون پر بتایا 'کشمیریوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ آزادی قریب ہے اور بھارت کو یہاں سے جانا ہوگا، لہٰذا وہ الیکشن کے لاحاصل عمل سے دوُر رہیں۔'

اس دوران دوسرے اضلاع میں بھی سرینگر، بڈگام اور گاندربل جانے والی شاہراہوں پر آمدورفت روک دی گئی ہے۔ شہر کے پولیس سربراہ افہاد المجتبیٰ کے مطابق یہ پابندیاں علیحدگی پسندوں کی طرف سے پولنگ کے عمل کو سبوتاژ کرنے کے منصوبے کو دیکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔

واضح رہے سید علی گیلانی، میرواعظ عمرفاروق اور محمد یٰسین ملک سمیت تقریباً ایک درجن علیحدگی پسند رہنما پچھلے دو ہفتوں سے اپنے ہی گھروں میں نظربند ہیں۔ تاہم سید علی گیلانی نے نظربندی کے دوران ہی پانچ مئی کی شام سے پولنگ کے اختتام تک پچاس گھنٹے تک ہڑتال کی کال دی تھی، جسکے باعث پچھلے دو روز سے عام زندگی معطل ہوکر رہ گئ ہے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ سرینگر پارلیمانی حلقے کے لیے دو خواتین اور پانچ آزاد اُمیدواروں سمیت پندرہ اُمیدوار میدان میں ہیں، لیکن اصل مقابلہ پی ڈی پی کے مولوی افتخار انصاری اور نیشنل کانفرنس رہنما فاروق عبداللہ کے درمیان ہے۔ فاروق عبداللہ کے خلاف ان کی سگی بہن خالدہ شاہ بھی انتخابی اکھاڑے میں کُود پڑی ہیں۔