بھارت: حکومت سازی کے امکانات

- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
- وقت اشاعت
پارلیمانی انتخابات کا عمل اب اپنے آخری مراحل میں ہے اور حکومت سازی کے لیے نئے اتحاد بنانے کی کوششیں تیز ہوگئی ہیں۔
سوال یہ ہےکہ کون کس کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے؟ حکومت کس کی بن سکتی ہے اور کیا سنگھ بدستور کنگ رہیں گے یا کسی نئے وزیراعظم کی تاج پوشی ہونے والی ہے؟
اگر ہندوستان کا نقشہ سامنے رکھا جائے تو چار پانچ ایسی علاقائی جماعتیں نظر آتی ہیں جو بلا شبہ کنگ میکر کا رول ادا کریں گی: اترپردیش سے بہوجن سماج پارٹی اور سماج وادی پارٹی، بہار سے راشٹریہ جنتا دل اور جنتا دل یونائٹڈ، تمل ناڈو سے آل انڈیا انا ڈی ایم کے، اڑیسہ سے بیجو جنتا دل، آندھر پردیش سے تیلگو دیسم اور مہاراشٹر سے نیشنلسٹ کانگریس پارٹی۔
اب سوال یہ ہے کہ یہ جماعتیں کس کے ساتھ جاسکتی ہیں؟
ہندوستان میں سیاست بنیادی طور پر دو زمروں میں تقسیم ہے: سیکولر اور نان سیکولر۔ اس پس منظر میں ان پارٹیوں کی وفاداریوں کے تین دعویدار ہیں: کانگریس کی قیادت والا متحدہ ترقی پسند محاذ، بی جے پی کی قیادت والا قومی جمہوری اتحاد، اور تھرڈ فرنٹ جس میں(ان سمیت) کئی علاقائی جماعتیں غیر رسمی طور پر شامل ہیں، لیکن جس میں شرکت صرف لیفٹ پارٹیز کی یقینی ہے۔ باقیوں نے اپنے راستے ’کھلے رکھےہیں‘۔
سیکولر جماعتیں کون سی ہیں؟
یہ سوال شاید سب سے مشکل ہے۔ علاقائی جماعتیں سیاسی مفاد کے مطابق سیکولرزم کا لبادہ اوڑھتی یا اتارتی رہتی ہیں۔ مثال کے طور پر اترپردیش کی وزیر اعلی مایاوتی، آندھر پردیش کے سابق وزیر اعلی چندر بابو نائڈو اور تمل ناڈو کی سابق وزیر اعلی جیا للتا تینوں ہی ماضی میں بی جے پی کا ساتھ دے چکے ہیں۔ لیکن ان میں سے کوئی بھی جماعت ہندوتوا کے اس ایجنڈے پر عمل یا یقین نہیں کرتی جسے بی جے پی نے اپنی سیاست کی بنیاد بنایا ہے۔ لہذا باقی جماعتوں کی طرح یہ تینوں بھی تینوں میں سے کسی بھی اتحاد کے ساتھ جا سکتی ہیں۔
شاید صرف لالو پرساد یادو کے بارے میں قدرے وثوق سے کہا جاسکتا ہےکہ وہ بی جے پی کے ساتھ نہیں جائیں گے۔ ملائم سنگھ یادو کی سماج وادی پارٹی نے کبھی کھل کر بی جے پی سے ہاتھ نہیں ملایا ہے لیکن اس پر اکثر در پردہ مفاہمت کے الزامات لگتے رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تو حکومت کس کی بن سکتی ہے؟ امکانات کیا ہیں؟
یہ کسی کو نہیں معلوم! تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ بی جے پی اور کانگریس کی سیٹوں میں زیادہ فرق نہیں رہے گا۔ دونوں کے لیے تقریباً ڈیڑھ سو سیٹوں کی بات کی جارہی ہے۔ انتخابی جائزوں پر پابندی ہے لیکن سیاسی منظرنامہ اتنا مبہم ہے کہ جو ماہرین پیشن گوئی کر بھی رہے ہیں، وہ بار بار یہ بات ضرور دہراتے ہیں کہ ان کا اندازہ بالکل غلط ہوسکتا ہے!
بہر حال، تین ہی امکانات ہیں۔ یا تو کانگریس کی زیادہ سیٹیں آئیں گی، یا بی جے پی کی یا نام نہاد تھرڈ فرنٹ کی۔ اس نتیجے پر پہنچنا تو کوئی راکٹ سائنس نہیں لیکن اس کے بعد معاملہ ذرا پیچیدہ ہو جاتا ہے۔
یو پی اے
اگر کانگریس کو ایک سو پچاس پچپن سیٹیں مل جاتی ہیں، اور جن جماعتوں سے اس کے سیٹوں کی تقسیم پر اختلافات ہوگئے تھے، وہ دوبارہ اس کے ساتھ آجاتی ہیں( آر جے ڈی، ایل جے پی اور سماج وادی پارٹی) تب بھی اس کے لیے لیفٹ پارٹیز کی حمایت ناگزیر ہوگی۔
انتخابی مہم کے دوران اگرچہ دونوں نے ایک دوسرے پر شدید نکتہ چینی کی ہے، لیفٹ پارٹیز نے کانگریس کی حمایت کو خارج از امکان قرار دیا ہے لیکن موجودہ صورتحال میں ان کے سامنے دو مجبوریاں آسکتی ہیں: ان کی سیٹیں گزشتہ لوک سبھا کے مقابلے میں کم ہوسکتی ہیں، اور اگر وہ کانگریس کی حمایت نہیں کرتے تو بی جے پی کی سرکار بن سکتی ہے۔
لیفٹ پارٹیز کو منموہن سنگھ قبول نہیں اور بنگال میں کانگریس کی اتحادی جماعت ترنمول کانگریس کو کمیونسٹ جماعتیں برداشت نہیں۔
میرے خیال میں حکومت بنانے کے لیے کانگریس دونوں کی قربانی دینے کو تیار ہوجائے گی۔ دو سو بہتر کے ’میجک نمبر‘ تک پہنچنے کے لیے اسے کچھ اور علاقائی جماعتوں کی حمایت درکار ہوگی۔ یہ مایاوتی بھی ہوسکتی ہیں۔ لیکن شاید کانگریس کی زیادہ دلچسپی بہار کی جنتا دل یونائٹڈ یا تمل ناڈو کی آل انڈیا انا ڈی ایم کے میں ہوگی۔ بظاہر دونوں سے درپردہ بات چیت جاری ہے۔
این ڈی اے
گزشتہ چند دنوں میں بی جے پی کی پوزیشن کچھ بہتر ہوئی ہے، ایسا کچھ مبصرین کا خیال ہے۔ اگر بی جے پی ڈیڑھ سو سے اوپر پہنچتی ہے اور بیجو جنتا دل اور تیلگو دیسم جیسی وہ جماعتیں واپس آجاتی ہیں جو این ڈی اے سے الگ ہوگئی تھیں، تب بھی اس کے لیے دو سو بہتر تک پہنچنے کا راستہ نظر نہیں آتا۔ اسے اقتدار تک مایاوتی اور جیا للتا ہی پہنچا سکتی ہیں، اور جو ان دونوں خواتین کو جانتا ہے، اسے اندازہ ہوگا کہ ان کی حمایت سستے میں نہیں ملے گی۔ سوال یہ ہے کہ بی جے پی حکومت بنانے کے لیے کیا قیمت ادا کرنے کو تیار ہے؟ مجھے بی جے پی کے لیے حکومت بنا پانے کا راستہ سب سے مشکل نظر آرہا ہے۔
تھرڈ فرنٹ
اس اتحاد کا مسئلہ یہ ہے کہ اس میں لیڈر کچھ زیادہ ہی ہیں۔ اور وہ سب وزیر اعظم بننا چاہتے ہیں۔ چونکہ کانگریس اور بی جے پی کے بر عکس تھرڈ فرنٹ کی ممکنہ حکومت میں وزیراعظم کا عہدہ ابھی خالی ہے، لہذا اس اتحاد کے مضبوط ہونے اور بکھر جانے دونوں ہی کا برابر امکان ہے۔
تو پھر ہوکیا سکتا ہے؟
میرے خیال میں دو امکانات ہیں۔ اگر کانگریس کی حکومت نہیں بھی بنتی، تب بھی اس کے لیے خاموش تماشائی رہنا مشکل ہوگا۔ بی جے پی کو روکنے کے لیے وہ تھرڈ فرنٹ کی حمایت کرسکتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس مرتبہ کافی تعداد میں مسلم ووٹ کانگریس کی طرف گیا ہے، اور پارٹی اسے کھونے کا خطرہ مول نہیں لے سکتی (لیکن یہ اسی صورت میں ہوگا جب تھرڈ فرنٹ کو نوے یا سو سیٹیں حاصل ہو جائیں)۔ لیفٹ فرنٹ کا وزیر اعظم کون ہوگا، کوئی نہیں جانتا۔ مایاوتی؟ جیاللتا؟ شرد پوار؟ نوین پٹنائک؟ نتیش کمار، رام بلاس پاسوان۔۔۔ کہنا ناممکن ہے۔
دوسرا امکان یہ ہے کہ لیفٹ پارٹیز کو خوش کرنے کے لیے کانگریس من موہن سنگھ کی چھٹی کر دے۔ جو لوگ لیفٹ فرنٹ کی سیاست کو سمجھتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ وہ پرنب مکھرجی کو وزیر اعظم کے عہدے پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ لیکن میرے خیال میں اگر وزیر اعظم واقعی کانگریس کا بنتا ہے تو وزیر دفاع اے کے اینٹونی پر نگاہ رکھیے، ان کی امیج کلین ہے اور وہ کانگریس کے پرانے وفادار بھی ہیں۔
امکانات تو اور بھی بہت ہیں، لیکن میرے خیال میں دو باتیں اعتماد کے ساتھ کہی جاسکتی ہیں:
ایک تو یہ کہ پندرہویں لوک سبھا میں کسی جماعت کو واضح اکثریت حاصل نہیں ہوگی اور وسط مدتی انتخابات کا خطرہ ہمیشہ منڈلاتا رہے گا اور دوسرا یہ کہ میں نے جتنے بھی امکانات کا ذکر کیا ہے، وہ سب غلط ثابت ہوسکتے ہیں!






















