بھارت، پولنگ ختم سسپنس برقرار

- مصنف, اسد علی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پٹنہ
- وقت اشاعت
انڈیا کی پندرھویں لوک سبھا کے لیے انتخابات آخری مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں اور یہ قیاس آرائیاں زوروں پر ہیں ہے کہ انتخابات کے بعد کون سی چھوٹی یا علاقائی جماعت بی جے پی کے ساتھ جائے گی اور کون سی کانگریس کے ساتھ یا یہ کہ کیا مختلف چھوٹی جماعتیں مل کر حکومت بنانے کی کوشش کریں گی۔ چھوٹی جماعتیں مصلحت سے کام لے رہی ہیں اور اپنی اہمیت سمجھتے ہوئے خاموشی سے نتائج کے انتظار میں ہیں۔
پنجاب اور تمل ناڈو کی اہم ریاستوں میں جہاں انتخابات ہونا باقی ہیں سیاسی پارٹیاں مہم چلانے کے ساتھ ساتھ بار بار اس بات زور دے رہی ہیں اور ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہیں کہ انہیں کتنی چھوٹی پارٹیوں کی حمایت حاصل ہے۔
زیادہ تر مبصراور ذرائع ابلاغ بھی اندازے لگا رہے ہیں کہ کون کس کے ساتھ جائے گا اور کون کس کے ساتھ جا سکتا ہے لیکن کوئی بھی حتمی بات نہیں کر پا رہا۔
جن پارٹیوں کا سب سے زیادہ ذکر ہو رہا ہے ان میں جنتا دل (یونائیٹڈ) کے سربراہ اور بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار اور بہوجن سماج پارٹی اور اتر پردیش کی وزیر اعلیٰ مایاوتی شامل ہیں۔ سماج وادی پارٹی کے ملائم سنگھ یادو بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
دلی میں پیر کو ذرائع ابلاغ میں بہار کے وزیر اعلیٰ اور جنتا دل (یونائیٹڈ) کے سربراہ نتیش کمار کی لدھیانہ میں بی جے پی کی ریلی میں شرکت کو بہت اہمیت دی گئی۔ ہندوستان ٹائمز نے کہا کہ نتیش کمار کے ریلی میں شرکت سے بی جے پی کی پریشانی کم ہوئی ہوگی کیونکہ یہ تاثر بھی دیا گیا کہ کانگریس بھی نتیش کمار کے قریب ہونے کی کوشش کر رہی ہے۔

بہار کی ایک اور قومی جماعت راشٹریہ جنتا دل کے رہنما لالو پرساد یادو کا، جو کانگریس کی قیادت میں موجودہ حکومت کے رکن تھے، کہنا ہے کہ ان کی جماعت ریاست میں اور باہر سے کل ملا کر تینتیس نشستیں حاصل کرے گی۔ ذرائع ابلاغ میں ذکر ہوتا ہے لالو کانگریس سے ناراض ہیں کیونکہ وہ نتیش کمار کے قریب ہونے کی کوششوں میں ہے۔
ٹیلی ویژن چینلوں پر یہ بھی قیاس آرائیاں چل رہی ہیں کہ کانگریس نے مایاوتی کی جماعت سے رابطے کی کوشش کی ہے۔
ذرائع ابلاغ کے مطابق کانگریس تمل ناڈو کی ریاست کی دونوں بڑی جماعتوں کے ساتھ اتحاد کا دروازہ کھلا رکھنا چاہتی ہے۔ ریاست میں انتالیس نشستیں ہیں جو سن دو ہزار چار میں سب ڈی ایم کے کو ملی تھیں اور انہوں نے کانگریس کی حمایت کی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس بار امکان ہے کہ ریاست کی دوسری جماعت جے للیتا کی اے آئی اے ڈی ایم کے بھی کامیابی حاصل کر سکتی ہے اور کانگریس کے ان سے رابطوں کی خبریں بھی آتی ہیں۔ ایک ٹیلی ویژن چینل پر یہ خبر بھی دی جا رہی ہے کہ شاید بی جے پی نے بھی جے للیتا سے رابطے کے لیے خصوصی ایلچی مقرر کیا ہے۔
ہندوستان ٹائمز نے 'ابھی تک حساب پورا نہیں ہو رہا‘ کہ عنوان سے لکھے گئے ایک اداریے میں کہا ہے کہ پولنگ تقریباً ختم ہو چکی ہے لیکن نئی حکومت کے بارے میں سسپنس ابھی تک ختم نہیں ہوا۔ اخبار لکھتا ہے کہ انتخابات میں اتنے امکانات پہلے کبھی سامنے نہیں آئے۔






















