بھارتی انتخابات میں سجاد فیکٹر

سجاد لون
    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر
  • وقت اشاعت

بھارتی لوک سبھا کے لئے تیرہ مئی کو ہونے والے پولنگ کے آخری مرحلے میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی لداخ اور بارہمولہ پارلیمنٹ سیٹوں کے لئے بھی ووٹ ڈالے جائیں گے۔ اس مرحلے کی خاص بات یہ ہے کہ اس بار انتخابی اکھاڑے میں علیحدگی پسند رہنما سجاد غنی لون بھی ہیں جو مسئلہ کشمیر کو پارلیمنٹ میں لے جانے کی بات کرتے ہیں۔

گو کہ شمالی کشمیر کی اس سیٹ پر کالعدم حزب المجاہدین کے سابق ڈپٹی چیف کمانڈر عمران راہی بھی چناؤ لڑرہے ہیں، لیکن انتخابی اکھاڑے میں سجاد لون کی موجودگی کے باعث عوامی حلقوں میں اس سیٹ کے نتائج سے متعلق دلچسپی پائی جاتی ہے۔ عام تائثر یہ ہے کہ پولنگ کے اس آخری مرحلہ میں دراصل ہندنواز اور علیحدگی پسند سیاست کے درمیان مقابلہ ہے۔

تین اضلاع اور پندرہ اسمبلی حلقوں پر مشتمل شمالی کشمیر کے انتخابی حلقے کے لئے ساڑھے دس لاکھ سے زائد ووٹروں کا اندراج ہوچکا ہے۔ اس چناؤ میں نیشنل کانفرنس کے شریف الدین شارق، پیپلز کانفرنس کے سجاد لون اور پی ڈی پی کے دلاور میر کی سیاسی تقدیر کا فیصلہ ہوگا۔

شارق اور دلاور دونوں منجھے ہوئے سیاستداں ہیں مگر دونوں نے پچھلے سال ہوئے اسمبلی انتخابات میں نو آموز سیاستدانوں سے شکست کھائی تھی۔

شارق کو، جو نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر ہیں اور راجیہ سبھا کے رُکن رہے ہیں، ایک غریب شہری عبدالرشید نے بھاری فرق سے ہرا دیا تھا، جبکہ جاوید ڈار نامی ایک نوجوان نے سابق وزیر دلاور میر کی سیٹ پر قبضہ جمالیا تھا۔ قابل ذکر ہے کہ جاوید اور رشید دونوں نے پہلی بار چناؤ لڑا تھا۔

دلچسپ پہلو یہ ہے کہ شارق اور دلاور کو پارلیمانی چناؤ میں بھی ایک اور نوآموز کا سامنا ہے اور وہ ہے تینتالیس سالہ سجاد غنی لون۔

سجاد لون کے والد عبدالغنی لون کو دو ہزار دو میں ایک ریلی کے دوران نامعلوم مسلح افراد نے قتل کردیا تھا۔ مقتول لون ضلع کپوارہ کے ہی پشتینی باشندہ تھے اور انہوں نے ستّر کی دہائی میں پیپلز کانفرنس قائم کرلی تھی جس کے پرچم تلے وہ الیکشن لڑتے تھے۔ مسلح شورش سے قبل وہ صوبائی حکومت میں کافی دیر تک تعلیم کے وزیر بھی رہے۔ بعد ازاں انہوں نے اُنیس سو نواسی میں مسلح شورش شروع ہوتے ہی علیحدگی پسند تحریک میں شمولیت کرلی اور حُریت کانفرنس کی مجلس عاملہ کے رُکن بن گئے۔

غنی لون کی موت کے بعد ان کے دونوں بیٹوں سجاد لون اور بلال لون نے بھی علیحدگی پسند سیاست کو ہی اپنایا تاہم سجاد لون دو ہزار دو میں متنازعہ بن گئے کیونکہ سخت گیر علیحدگی پسند رہنما سید علی گیلانی نے ان پر الزام عائد کیا کہ اسمبلی انتخابات میں انہوں نے اپنی طرف سے بالواسطہ چناؤ لڑنے کے لئے ’پراکسی اُمیدواروں‘ کو اُتارا تھا۔ اس تنازعہ کے بعد دونوں بھائیوں کے درمیان سیاسی کشیدگی پیدا ہوگئی اور پیپلز کانفرنس عملاً دو حصوں میں بٹ گئی۔ بعدازاں بھارتی وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے ساتھ ملاقات کے بعد سجاد لون نے ’قابل حصول وطنیت‘ کے عنوان سے ایک ’وژن ڈاکومنٹ‘ تحریر کیا، جس میں انہوں نے انکشاف کیا کہ ان کے اور بلال لون کے درمیان غلط فہمیاں دُور ہوگئی ہیں۔ لیکن مقتول عبدالغنی لون کی بیٹی شبنم لون کے ساتھ دونوں کے تعلقات اچھے نہیں ہیں۔

سجاد لون اپنے مقتول والد کے نام پر ووٹ مانگ رہے ہیں
،تصویر کا کیپشنسجاد لون اپنے مقتول والد کے نام پر ووٹ مانگ رہے ہیں

سپریم کورٹ میں کئی سال سے وکالت کر رہی شبنم لون نے پچھلے سال کپوارہ سے اسمبلی الیکشن لڑنے کا اعلان کیا تو سجاد نے بائیکاٹ کی کال دی۔ تاہم انہوں نے الیکشن کے بعد ایک پریس کانفرنس میں اعتراف کیا کہ، ’بائیکاٹ کی کال ناکام رہی، اور لوگوں نے ووٹ ڈالے‘۔

تیرہ مئی کے انتخابات میں سجاد لون دراصل اپنے والد کے ہی ووٹ بینک پر تکیہ کررہے ہیں۔ سجاد مغربی وضع قطع اور فراٹے کی انگریزی بول چال کے لئے جانے جاتے ہیں۔ لیکن انتخابی مہم کےدوران انہوں نے مقتول لون کی طرز کا ٹھیٹ کشمیری لباس پہنا اور شمالی کشمیر کے مختلف علاقوں میں روڈ شوز کے دوران مقتول غنی لون کا عصا (سہارے کی چھڑی) ہاتھ میں لئے لوگوں سے ووٹ کی درخواست کرتے رہے۔

سوموار کو ایک اجتماع سے خطاب کے دوران سجاد لون نے جذباتی کارڈ کھیلتے ہوئے کہا: ’میں اسی سرزمین کا بیٹا ہوں، آپ کے اپنے لون صاحب کا بیٹا ہوں۔ عمرعبداللہ کو پاپا انگلی پکڑ کر سیاست سِکھا رہے ہیں، محبوبہ کو مفتی سعید کی رہنمائی حاصل ہے۔ میرے باپ کو تو قتل کردیا گیا۔ میرا سہارا تم ہی لوگ ہو۔‘

قابل ذکر ہے کہ شمالی کشمیر کے ووٹ بینک پر کسی ایک سیاسی قوت کا غلبہ نہیں ہے۔ یہاں کی پندرہ اسمبلی سیٹوں میں سے سات نیشنل کانفرنس کے پاس ہیں، پانچ پر پی ڈی پی کا قبضہ ہے، دو کانگریس جیت چکی ہے جبکہ ایک سیٹ پر آزاد امیدار کو فتح ملی تھی۔

مقتول عبدالغنی لون کپوارہ میں وسیع اثر ورسوخ رکھتے تھے، لیکن یہ خطہ نیشنل کانفرنس کا روایتی ووٹ بینک کہلاتا ہے۔ سوموار کو کپوارہ میں ہی ایک انتخابی ریلی سے خطاب کے دوران عمرعبداللہ نے کہا : ’میری دلّی تمنا تھی کہ سجاد لون اس خطے سے نیشنل کانفرنس کے اُمیدوار کی حیثیت سے چناؤ لڑتے‘۔ وہ پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ حُریت راہنماؤں کو سجاد لون کے فیصلہ سے سبق سیکھنا چاہیے۔

پارلیمنٹ یا اسمبلی الیکشن میں جیت کے بعد ممبران کو بھارتی آئین پر حلف لینا ہوتا ہے کہ وہ ملک کی سالمیت اور وحدت کا تحفظ کریں گے۔ ماضی میں کئی مرتبہ حریت قائدین الیکشن میں شمولیت کے لئے حلف کی ضرورت کو ہی رکاوٹ سمجھتے آئے ہیں۔ اس معاملے سے متعلق سجاد کہتے ہیں: ’یہ تو ایک تکنیکی ضرورت ہے، میں بادل ناخواستہ حلف لوں گا۔‘