فلمی صنعت : پچاس کروڑ روپیوں کا خسارہ

- مصنف, ریحانہ بستی والا
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ممبئی
- وقت اشاعت
فلمسازوں اور ڈسٹری بیوٹرز کے ساتھ ملٹی پلیکس مالکان کے تنازعہ کی وجہ سے اب تک بھارتی فلمی صنعت کو پچاس کروڑ روپیوں سے زیادہ کا خسارہ ہوا ہے۔ اس کا دعوی فلمساز مکیش بھٹ نے کیا ہے۔
مکیش بھٹ نے کہا ہے کہ کئی بڑے بجٹ کی فلمیں بن کر تیار ہیں لیکن ان کی نمائش نہ ہونے کی وجہ سے روزانہ کےحساب سے انہیں لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں کا نقصان ہو رہا ہے۔اسی کے ساتھ فلموں سے جڑے دوسرے بزنس بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔
منافع میں حصہ داری کے معاملہ کو لے کر فلمساز ،ڈسٹری بیوٹرز اور ملٹی پلیکس مالکان کے درمیان نااتفاقی کی وجہ سے گزشتہ کچھ عرصہ سے فلموں کی نمائش پر روک لگی ہوئی تھی۔
فلم پروڈیوسرز نے اپنی کوئی بھی فلم ریلیز کرنے سے انکار کر دیا تھا۔فلم پروڈیوسرز ہر فلم میں پچاس فیصد کا منافع کا ملٹی پلیکس مالکان سے مطالبہ کر رہے تھے جبکہ ملٹی پلیکس مالکان کا کہنا تھا کہ اگر فلم ہٹ ہوئی تو نصف منافع لیکن اگر فلاپ ہوئی تو ساٹھ اور چالیس فیصد کی منافع میں شراکت داری ہو گی جو فلمسازوں کو قبول نہیں تھی۔
کسی بھی فلم کی ریلیز سے قبل فلم کی تشہیر کسی بھی اشتہاری ایجنسی کے حوالے کر دی جاتی ہے۔ پی آر ایجنسی اسی کے ساتھ شہروں میں فلم کے ہورڈنگس لگانے والی کمپنیوں کے ساتھ بھی معاہدہ کرتی ہیں۔ٹیلی ویژن چینلز پر بھی فلموں کی پبلسٹی نہیں ہو رہی ہے۔ایسی ہی ایک میڈیا ایڈورٹائزنگ کمپنی کے ڈائرکٹر کا کہنا تھا کہ اسی وجہ سے ان کی کمپنی بھی گزشتہ پانچ ہفتوں سے زیادہ بیکار بیٹھی ہیں لیکن انہیں ملازمین کی تنخواہ دینی ہوتی ہے۔
اس سال بڑی فلمی کمپنیوں اور بڑے بینر کی کئی فلمیں قطار میں ہیں۔کئی پروڈیوسرز نے تو اپنی فلموں کی نمائش کی تاریخیں بڑھا دی ہیں کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ ملٹی پلیکس میں ان کی فلم کی نمائش کی وجہ سے انہیں منافع زیادہ مل سکتا ہے۔
ساجد نڈیاڈوالا کی فلم ' کم بخت عشق ' جس میں کرینہ کپور اور اکشے کمار کے ساتھ ہالی وڈ سے سلویسٹر سٹالون بھی پہلی مرتبہ بالی وڈ میں قدم رکھ رہے ہیں، کی ریلیز کی تاریخ بڑھا دی گئی ہے۔سنجے دت اور اکشے کی فلم 'بلیو' اور فلمساز کبیر خان کی فلم ' نیویارک ' کا بھی یہی حال ہے۔
جو فلمیں اس سال نمائش کے لیے پیش ہوں گی ان میں سلمان خان کی ' میں اور مسز کھنہ ، رتیک روشن کی فلم ' کائٹ ' عامر کی فلم ' تھری ایڈیٹس ' رنبیر کپور کی ' عجب پریم کی گجب کہانی ' وانٹیڈ ڈیڈ اور الائیو' چند ایسی فلمیں ہیں جو کروڑوں روپے لاگت سے بنی ہیں اسی لیے ان کے فلمساز اس کے لیے فکر مند ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ملٹی پلیکس مالکان بھی خسارے کا شکار ہو رہے ہیں۔انہیں بھی تیس سے پچاس فیصد کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔حالانکہ کئی ملٹی پلیکس میں انگریزی فلمیں چل رہی ہیں اور کچھ نے پرانی فلمیں لگائی ہیں لیکن اصل آمدنی انہیں نئی ہندی فلموں سے ہوتی تھی۔
پانچ ہفتوں کی ہڑتال کے بعد اس مسئلہ کا حل نکالنے کے لیے یونائیٹیڈ ڈسٹری بیوٹرز انڈی پروڈیوسرز فورم نے جمعرات کے روز ایک میٹنگ منعقد کی تھی لیکن اس میں ملٹی پلیکس میں فلموں کی نمائش کے بجائے یہ طے ہوا کہ اب فلمساز سنگل سکرین تھیئٹرز میں اپنی فلمیں ریلیز کریں گے۔
فورم کے چیئرمین فلمساز مکیش بھٹ نے کہا کہ ملٹی پلیکس مالکان ابھی بھی اپنے مطالبہ پر ہی اڑے ہوئے ہیں۔اس لیے فورم نے مشترکہ طور پر یہ فیصلہ کیا ہے کہ انتیس مئی سے سنگل سکرین سنیما گھروں میں ہر ہفتہ ایک فلم ریلیز کی جائے گی۔
ملک میں گیارہ ہزار سنگل سکرین سنیما گھر ہیں۔ہر نئی فلم ایک ہفتہ کے لیے نمائش کے لیے پیش کی جائے گی اس کے بعد دوسری فلم پیش ہو گی کیونکہ اس سال ستائیس جمعہ باقی ہیں اور تیس سے زیادہ فلمیں نمائش کے لیے قطار میں ہیں۔
چند بڑی فلمی کمپنیوں نے اپنے پروجیکٹ کو آئندہ برس تک کے لیے ملتوی کر دیا ہے ان میں یوٹی وی بھی شامل ہے۔انہیں یقین ہے کہ تب تک یہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔






















