لالو، پاسوان اور ملائم کی مشکلیں

لالو پرساد
،تصویر کا کیپشنلالو پرساد نے اس بار دو جگہ پٹنہ صاحب اور سارن کے حلقوں انتخاب لڑا ہے
    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
  • وقت اشاعت

ہندوستان کے پارلیمانی انتخابات آخری مراحل میں ہیں اور جیسے جیسے ووٹوں کی گنتی کا دن قریب آ رہا ہے، اس بات کے امکانات قوی ہوتے جا رہے ہیں کہ انتخابات میں کسی بھی اتحاد کو حکومت سازی کے لیے مطلوبہ اکثریت لہیں مل پائے گی ۔

معلق پالیمنٹ کے امکانات نے ایک طرف اگر علاقائی جماعتوں کو ''کنگ میکر'' بنا دیا ہے تو دوسری جانب یہ انتخاب لالو پرساد یادو ، رام ولاس پاسوان اور ملائم سنگھ یادو جیسے رہنماؤں کے لیے سیاسی بے یقینی کا سبب بھی بن گیا ہے۔

رام ولاس پاسوان کی لوک جن شکتی پارٹی اور لالو پرساد کے راشٹریہ جنتا دل نے بہار میں متحد ہو کر انتخاب لڑا ہے ۔ ان دونوں جماعتوں نے اتر پردیش میں ملائم سنگھ یادو کی سماجوادی پارٹی سے بھی اتحاد کر رکھا ہے ۔

بیشتر تجزیہ کار بہار میں لالو اور پاسوان کی انتخابی شکست کی پیش گوئیاں کر رہے ہیں ۔ 16 مئی کو نتیجے آنے سے قبل نتائج کے بارے میں حتمی طور پر تو کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا اور سارے تجزیے اور اندازے غلط بھی ثابت ہو سکتے لیکن اگر نتائج واقعی لالو اور پاسوان کے لیے منفی نکلے تو ان کے سیاسی وجود کے لیے سخت مشکلیں پیدا ہو سکتی ہیں ۔

گزشتہ انتخابت میں لالو کو بہار کی چالیس میں سے بائیس سیٹیں اور پاسوان کو چار سیٹیں ملی تھیں ۔ اس بار نہ صرف یہ کہ صوبے میں وزیر اعلی نتیش کمار کی مقبولیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھی ہے بلکہ کانگریس کو بھی پہلے سے زیادہ ووٹ مل سکتے ہیں ۔

یہ دونوں ہی پہلو لالو پرساد کے لیے اچھے نہیں ہیں ۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ نتیش کمار کا جنتا دل یونائٹیڈ اور بی جے پی کا اتحاد صوبے میں لالو- پاسوان اتحاد کو زبردست شکست دینے والا ہے ۔

صورتحال کا اندازہ لالو کو بھی ہے اور شاید اسی لیے انہوں نے سیاسی سودے بازیوں کے لیے انتخابات سے ذرا قبل اچانک ملائم سنگھ یادو سے اتحاد کر لیا۔

رام ولاس پاسوان کی پارٹی نسبتا ایک چھوٹی پارٹی ہے اور ان کی سیاست بہار کے کچھ حصے تک محدود ہے لیکن ان کی سیاست کا محور بہار سے کہیں زیادہ مرکز رہا ہے ۔

اس کے برعکس لالو قومی سیاست میں اس وقت آئے جب ان کا صوبے کی سیاست میں زوال شروع ہوا ۔ بد عنوانی کے ایک معاملے میں جولائی 1997 میں اپنی گرفتاری کے بعد جب انہوں نےاپنی اہلیہ رابڑی دیوی کو بہار کا وزیر اعلی بنا یا اسی وقت سے ان کی سیاست کا دائرہ پٹنہ سے نکل تک دلی تک پھیل گیا ۔

گزشتہ انتخابات میں لوک سبھا کی 24 سیٹیں حاصل کر کے وہ کانگریس کے سب سے مضبوط اور قابل اعتبار اتحادی بن گئے ۔ صوبائی انتخابات میں لالو کو زبر دست شکست ہوئی تھی ۔ لیکن مرکز میں حکومت میں ایک با اثر حیثیت میں ہونے کے سبب صوبے کے نقصان کی بڑی حد تک تلافی ہوتی رہی ۔

لالو اور پاسوان
،تصویر کا کیپشنبہار میں لالو پاسوان ایک ساتھ انتخابات لڑ رہے ہيں

لیکن اب ایک ایسی صررتحال ہے جب لالو صوبے کی سیاست میں محدود ہو چکے ہیں اور اگر ان کی جماعت پارلیمانی انتخابات میں بھی کمزور ثابت ہو ئی اور محض چھہ سات سیٹیں ہی لا سکی تو لالو کے لیے سیاسی وجود کا مسلہ پیدا ہو جائے گا ۔

معروف تجزیہ کار جے پی یادو کہتے ہیں کہ لالو مشکل میں ضرور ہیں لیکن اس حد تک نہیں کہ ان کا سیاسی وجود ہی خطرے میں پڑ جائے۔'' میڈیا نے لالو کے لیے جتنی خراب پیش گوئی کی ہے گراؤنڈ پراتنی بری حالت نہیں ہے۔ لالو سیاست کے ایک شاطر کھلاڑی ہیں اور انہیں معلوم ہے کہ مخالف حالات میں کیسے بچنا ہے۔''

پاسوان بھی سیاست کے اچے کھلاڑی ہیں ۔ جے پی یادو کہتے ہیں ''وہ واجپئی حکومت میں بھی وزیر تھے اور منموہن سنگھ کی موجودہ حکومت میں بھی وزیر ہیں اور شاید آئندہ حکومت میں بھی وزیر رہیں گے۔'' لالو ہوں پاسوان یا اتر پردیش کے ملائم سنگھ یادو ان سبھی کی سیاست کی جڑیں ان کے صوبوں میں ہیں ۔ بہارمیں تقریبا ایک برس بعد اسمبلی کے انتخا بات ہونے والے ہیں اور وہاں نتیش کے ستارے اس وقت عروج پر ہیں ۔ ان کی مقبولیت ان کے کام کرنے کے طریقے اور ایمانداری کے سبب بڑھتی جا رہی ہے ۔

یو پی میں مایاوتی زبردست اکثریت سے اقتدار میں ہیں ۔ ان کا سیاسی اثر اس قدر بڑھ چکا ہے کہ کہ وہ بلا شبہ وزارت عظمی کے اولین تین امیدواروں میں ہیں ۔

ملائم سنگھ کے لیے یہ صورتحال پیچیدہ ہے ۔ اگر وہ مرکز میں بھی اقتدار میں حصے دار نہ بن سکے تو مایاوتی کا بڑھتا ہو سیاسی اثر انہیں سیاسی طور پر دائمی نقصان پہنچا سکتا ہے ۔

تو کیا وہ اپنی بقا کے لیے بی جے پی کا ساتھ بھی دے سکتے ہیں ؟ تجزیہ کار ونود شرما کا خیال ہے کہ یہ صورتحال ملائم کو کانگریس کے قریب لا دے گی ۔ '' آئندہ حکومت ایک مخلوط حکومت ہو گی اور یہ کتنی مستحکم ہو گی یہ کہنا مشکل ہے ۔ اسی لیے ملائم اور لالو جیسے رہنما اپنا سماجی اتحاد یعنی سپورٹ بیس نہیں توڑیں گے کیونکہ انہیں جلد ہی پھر انتخابات میں جانا پڑ سکتا ہے۔''

پارلیمانی انتخابات کے آخری مراحل میں بیشتر علاقائی جماعتیں مرکز میں اپنا اپنا کردار ادا کرنے کی حکمت عملی میں مشغول ہیں لیکن لالو پاسوان اور ملائم سیاست کی اس بساط پر کہاں ہونگے یہ شاید اس مرحلے پر وہ خود بھی نہیں جانتے۔