مخلوط حکومتوں کا دور

پروفیسر جے ایس سیکھو
،تصویر کا کیپشنگورو ناننک دیو یونیورسٹی میں سیاسیات کے پروفیسر جے ایس سیکھو
    • مصنف, اسد علی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام امرتسر
  • وقت اشاعت

نڈیا میں انتخابی نتائج سے چند روز پہلے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ کیا ملک میں پھر سے ایک پارٹی حکومت بنا سکے گی یا اب صرف مخلوط حکومتیں ہی بنا کریں گیں؟

انڈیا میں آزادی کے بعد سے کانگریس ہی واحد جماعت ہے جو ایک سے زیادہ بار تنہا حکومت بنا چکی ہے۔ مخلوط حکومت کا تجربہ نیا نہیں ہے اور دو بار ایسی حکومتیں کامیابی سے بھی چل چکی ہیں۔

گورو ناننک دیو یونیورسٹی میں سیاسیات کے پروفیسر جے ایس سیکھو نے امرتسر میں بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ علاقائی اور چھوٹی جماعتوں کا ارتقاء اور کامیابی جمہوری عمل کے نتیجے میں عمل میں آئی ہے اور اسے ایسے ہی تسلیم کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ انتخابات کے دوران معلوم ہوتا ہے کہ بڑی جماعتوں کو بھی احساس ہوا کہ شاید مزید کئی انتخابات تک وہ اکیلے حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہ آ سکیں اور اسی لیے وہ زیادہ زیادہ جماعتوں کو ساتھ رکھنا چاہتی ہیں۔

انڈیا کی وفاقی حکومت کے ایک سابق مشیر اور بہار میں ایک ٹاسک فورس کے رکن پروفیسر ایس کے نرائن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی جماعت کو انتخابات میں واضح اکثریت نہ ملی تو نئی حکومت صرف دوسال تک چلے گی۔

انہوں کہا کہ ابھی کسی ایک جماعت کو کامیابی کے قابل ہونے میں دو الیکشن لگیں گے۔ انہوں نے کہا کہ گر ایسا نہ ہوا تو سیاسی نظام پر منفی اثر پڑے گا۔

بہار کے عام شہری سونو کمار نے چھوٹی جماعتوں کے بارے میں سوال کے جواب میں کہا تھا کہ ان کا فائدہ یہ ہے کہ نچلی سطح کے مسائل کو اس طرح سمجھتی ہیں جیسے کوئی بڑی جماعت نہیں سمجھ پاتی۔

لیکن، ان کے مطابق اس کا منفی پہلو یہ ہے کہ چھوٹی جماعتوں کی سنتا کون ہے۔ ان کے ارکان کی تو سپیکر بھی نہیں سنتا۔

ڈاکٹر سیکھو نے کہا کہ چھوٹی جماعتوں کا ارتقاء انیس سو سڑسٹھ میں شروع ہوا لیکن ان کا اثر رسوخ مقامی سطح تک محدود تھا۔

انہوں نے کہا کہ انیس سو نواسی کے بعد سے کوئی بھی بڑی جماعت انتخابات میں واضح اکثریت حاصل نہیں کر سکی جس کی وجہ سے نوے کی دہائی میں چھیانوے، ستانوے اور اٹھانوے کے سال سیاست کے اعتبار سے عدم استحکام کے سال تھے۔

انہوں نے کہا کہ ان جماعتوں کا ملک کی سیاست پر زیادہ اثر انیس سو اٹھانوے اور ننانوے کے بعد شروع ہوا۔ انیس سو ننانوے میں اٹل بہاری واجپئی کی قیادت میں تئیس چھوٹی جماعتوں کی حمایت سے بننے والی حکومت کامیابی سے چلی۔ پھر اب کانگریس کی مخلوط حکومت نے بھی اپنی مدت پوری کی۔

ڈاکٹر سیکھو نے کہا کہ اب چھوٹی سیاسی جماعتوں کی نہ صرف اہمیت بڑھ چکی ہے بلکہ وہ دھونس جمانا بھی سیکھ گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کئی بار بڑی جماعت کو چھوٹی جماعت کو ساتھ رکھنے کے لیے اپنے اہم رہنماؤں کی بجائے ان جماعتوں کو وزارت بھی دینی پڑتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان چھوٹی جماعتوں کے سامنے آنے کی وجہ یہ تھی کے کانگریس مختلف علاقوں میں عام آدمی کی امیدوں پر پوری نہیں اتر سکی۔ اس کے نتیجے میں دھرم، ذات اور زبان کے نام پر جماعتیں بنیں۔

ڈاکٹر سیکھو کا کہنا تھا کہ چھوٹی جماعتوں کی مانگیں پوری ہونے سے وہ ختم ہونے کی بجائے بعض اوقات مزید مضبوط ہو جاتی ہیں۔ ان کے مطابق انڈیا جیسے بڑے ملک میں ہر علاقے کی اپنی اپنی مخصوص ضروریات ہیں اور ان کے پورا ہونے تک یہ چکر چلتا رہےگا۔