باپ کے بعد بیٹا، بیٹے کے بعد بیٹا

والد بھی اسی زمیندار کے پاس کام کے لیے آتے تھے اب وہ بوڑھے ہو گئے ہیں
،تصویر کا کیپشنوالد بھی اسی زمیندار کے پاس کام کے لیے آتے تھے اب وہ بوڑھے ہو گئے ہیں
    • مصنف, اسد علی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ترن تارن
  • وقت اشاعت

پنجاب میں ترن تارن کے قریب سڑک کے کنارے ایک زمیندار کے ڈیرے پر میری ملاقات بہار سے روزی کمانے کے لیے آئے ہوئے کھیت مزدور سیام کمار یادو سے ہوئی۔

سیام کمار یادو بہاریوں کی اس بڑی تعداد میں شامل ہے جو ہر روز پٹنہ کے سٹیشن پر ملک کے دور دراز بڑے شہروں کو جانے والی ٹرینوں کا انتظار کرتے ہوئے ملتے ہیں۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ غربت سے تنگ آ کر وہ ہجرت کرنے پر مجبور ہیں۔

سیام کمار نے بتایا کہ اس کے اندازے کے مطابق شمالی بہار میں اس کے گاؤں کے قریب کے علاقوں سے کم سے کم چار سو لوگ اس وقت پنجاب کے مختلف شہروں میں کھیت مزدوری کرنے آئے ہوئے ہیں۔ ان لوگوں کو بہار سے امرتسر آنے میں چار روز لگتے ہیں۔

یادو نے بتایا کہ وہ پندرہ سال سے بہار تا پنجاب کا یہ سفر کر رہا ہے۔ اس سے پہلے اس کے والد بھی اسی زمیندار کے پاس کام کے لیے آتے تھے اب وہ بوڑھے ہو گئے ہیں تو وہ اکیلا آتا ہے۔

یادو نے کہا کہ وہ لوگ ہمیشہ سکا سنگھ کی گندم کی فصل کی کٹائی پر آتے ہیں اور پھر چاول کی فصل گھر پہنچنے تک وہیں رہتے ہیں۔ اس طرح وہ لوگ سال کے تقریباً نو مہینے پنجاب میں رہتے ہیں۔

ڈیرے پر موجود ایک اور مزدور نے بتایا کہ چاول کی فصل کاشت ہونے کے بعد وہ لوگ کبھی کبھار کسی دوسرے علاقے میں مزدوری کرنے بھی چلے جاتے ہیں اور فصل تیار ہونے کے وقت واپس آ جاتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ وہ لوگ سال میں نو ہزار سے سولہ ہزار روپے تک کما لیتے ہیں۔ پوچھے جانے پر انہوں نے بتایا کہ سفر کے لیے انہوں نے بہار میں ایک شخص سے دس کے حساب پر سات سو روپے بیاج میں لیے ہیں۔

وہ لوگ پریشان تھے کہ اس بار انہیں سکا سنگھ کی زمینوں پر پہنچے ہوئے چار روز گزرنے کے بعد بھی کام نہیں ملا کیونکہ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے زمین کی تیاری کے لیے پانی نہیں ہے۔ سکا سنگھ نے کہا کہ وہ ان کے کھانے پینے کا دھیاں کر رہا ہے اور وہ لوگ سال کے آخر میں حساب کر لیں گے۔

کھیت مزدوروں نے کہا کہ اس گاؤں میں ان کی واقفیت ہو گئی ہے اور لوگو ں کے پاس زمین بھی ہے اسی لیے وہ ہر بار ادھر ہی آتے ہیں۔ سکا سنگھ نے کہا کہ ہر بار نئے مزدور تلاش کرنے سے اچھا ہے کہ پرانے لوگوں سے ہی کام لیا جائے۔

سیام یادو نے کہا کہ وہ نو لوگ ہیں جو اکٹھے اس زمیندار کے پاس آئے ہیں۔ سکا سنگھ کے پاس بیس ایکڑ زمین ہے اور وہ لوگ چار بھائی ہیں اس طرح خاندان کی کل زمین اسی ایکڑ ہے۔

سیام یادو نے بتایا کہ اس نے آٹھویں تک تعلیم حاصل کی تھی اس کے بعد اس کے 'پاپا‘ اسے مزید پڑھانا چاہتے تھے لیکن گھر کا خرچ نہیں چل رہا تھا۔ اس نے کہا کہ اس کا چھوٹا بھائی نویں میں ہے اور وہ اسے ہائی سکول پاس کروانا چاہتا ہے۔

ان کی 'ممی‘ بھی صبح چار بجے سے چھ بجے تک بہار میں اپنے گاؤں میں لوگوں کے پاس کام کرتی ہیں جس کے انہیں ساٹھ روپے ملتے ہیں۔ یہ سب آمدنی یا بھائی کی پڑھائی پر یا روٹی پانی پر خرچ ہوتی ہے۔

سکا سنگھ نے سیام کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ وہ اس کے یہ کپڑے تین سال سے دیکھ رہا ہے۔ اس نے کہا کہ ان کی اپنی ریاست میں زمیندار ان کو صرف اتنا دیتا ہے کہ دو وقت کی روٹی کھا سکیں۔ یہ لوگ زیادہ کمائی کے لیے پنجاب آتے ہیں۔

پڑھائی کے بغیر کچھ نہیں ہوتا لیکن اس کے لیے پیسے کہاں سے آئیں گے
،تصویر کا کیپشنپڑھائی کے بغیر کچھ نہیں ہوتا لیکن اس کے لیے پیسے کہاں سے آئیں گے

سیام یادو نے کہا کہ جب وہ واپس جاتے ہیں تو بہار میں بھی کسی زمیندار کے لیے کام کر لیتے ہیں تاکہ کچھ نہ کچھ پیسہ ملتا رہے۔ اس نے کہا کہ اس کا ایک بیٹا ہے اور شاید وہ بھی یہی کام کرے گا۔ اس نے کہا کہ پڑھائی کے بغیر کچھ نہیں ہوتا لیکن اس کے لیے پیسے کہاں سے آئیں گے۔